امریکا سے بلا تاخیر دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ چاہتے ہیں چیئرمین بی او آئی کی اولسن کو یقین دہانی

9 سال گزرنے کے باوجود سرمایہ کاری معاہدہ نہیں ہوسکا، انویسٹمنٹ پالیسی اور خصوصی اقتصادی زونز پر امریکا میں روڈ شوز۔۔۔


APP August 01, 2013
سرمایہ کاری جی ڈی پی کے20فیصدتک پہنچانے کیلیے اقدامات کے مثبت نتائج برآمدہونگے،بی اوآئی انویسٹرزکیلیے جلد ون اسٹاپ شاپ سہولت شروع کریگا، محمد زبیر فوٹو: فائل

پاکستان میں امریکا کے سفیر رچرڈاولسن نے کہاہے کہ امریکا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور امریکا پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت کو ہمیشہ بڑی اہمیت دیتا ہے، امریکی حکومت پاکستان کو اقتصادی بحالی میں مدد فراہم کرنا چاہتی ہے۔

وہ بدھ کو سرمایہ کاری بورڈ کے دورے کے موقع پر چیئرمین محمد زبیر سے ملاقات میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ ملاقات میں گزشتہ حکومت کے زیرالتوا معاملات بالخصوص دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان نے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر 2004 میں بات چیت کا آغاز کیا لیکن 9 سال گزرنے کے باوجود اس معاملے کو نمٹایا نہیں جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اقتصادی مسائل کے حل، ترقی وخوشحالی اور لوگوں کو روزگار کے موقع کی فراہمی میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔



امریکی سفیر نے پاکستان کی سرمایہ کاری پالیسی اور خصوصی اقتصادی زونز کو اجاگر کرنے کے لیے امریکا میں روڈ شوز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں امریکن بزنس کونسلز اور دیگر فورمز کا پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تعاون حاصل کیا جائے۔ اس موقع پر سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین محمد زبیر نے کہا کہ موجودہ حکومت امریکا کے ساتھ بلا تاخیر دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ چیئرمین نے امریکی سفیر کو سرمایہ کاری بورڈ میں ری اسٹرکچرنگ کے بارے میاں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں یو ایس ایڈ فنی و مالیاتی معاونت فراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے جلد ون اسٹاپ شاپ کی سہولت شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔