سونے کی درآمد پر پابندی تجویز فاریکس کمپنیوں نے دی تھی

بڑے پیمانے پرسونا درآمد کرکے بھارت اسمگل کیا گیا، زرمبادلہ باہر جانے سے روپے کی قدرگری


Ehtisham Mufti August 01, 2013
حکومتی فیصلے سے امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ شروع ہوگیا، ملک بوستان فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ملک میں خالص سونے کی درآمدات پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کردی ہے، حکومت کے اس فیصلے نتیجے میں ڈالر کی نسبت پاکستانی روپے کی قدر کو استحکام ملا ہے۔

یہ بات ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بدھ کو''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ملک بوستان نے بتایا کہ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے ہی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو حالیہ دورہ کراچی کے موقع پراس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ملک میں وسیع پیمانے پر سونے کی درآمدی سرگرمیوں کے سبب امریکی ڈالر کی قدر مستقل بنیادوں پر بڑھتی جارہی ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ فی الفور ملک میں سونے کی درآمدات پرعارضی نوعیت کی پابندی عائد کرے تاکہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کو روکا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کرنے کے فیصلے سے امریکی ڈالر کی قدر گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2013 میں 280 کلو گرام سونا درآمد کیا گیا تھا جبکہ جولائی 2013 کے دوران ملک میں سونے کی درآمدی سرگرمیاں ریکارڈ نوعیت تک پہنچ گئیں اور اس مہینے میں 1300 کلوگرام سونا درآمد کیا گیا جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صرف ایک ماہ کے دوران سونے کی درآمدات پر52 ارب روپے مالیت کا خطیر زرمبادلہ خرچ کیا گیا جو سراسر ملکی مفاد کے خلاف ہے کیونکہ اس درآمد کا زیادہ تر حصہ زیورات کی صورت میں برآمد کرنے کے بجائے بھارت اسمگل کردیا گیا۔



اسی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب دگنی ہوگئی تھی اور پھر نتیجتاً ڈالر کو 105 روپے کی سطح پر بھی دیکھا گیا، یکم جنوری 2013 کو انٹربینک میں ڈالر کی قدر97.38 روپے تھی تو اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 97.80 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا، 42 پیسے کا یہ فرق بڑھتے بڑھتے جولائی 2013 میں ڈھائی سے 3 روپے تک پہنچ گیا، دونوں مارکیٹوں میں 3 روپے کے نمایاں فرق کی وجہ بھی ڈالر کی طلب کا دگنا ہونا تھا۔

ملک بوستان نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں اس فیصلے کے مثبت اثرات دیکھے گئے اور ڈالر کی قیمت فروخت 102 روپے 50 پیسے ہوگئی جبکہ تاہم انٹربینک میں یہ کمی 18 پیسے تک محدود رہی اور ڈالر 101 روپے 80 پیسے کا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ڈالر مزید سستا ہوگا اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے نقصان بھی اٹھا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں