ناشاد کے پاکستان ہجرت کرنے پر کامیابیوں نے قدم چومے

دہلی میں پیدا ہوئے ،1947ء سے لے کر 1962ء تک 30 بھارتی فلموں میں موسیقی دی


Cultural Reporter August 02, 2013
پاکستان میں ناشاد کی پہلی فلم ’’مہ خانہ‘‘ تھی جو 1964 میں ریلیز ہوئی تھی۔ فوٹو: فائل

پاکستانی فلمی موسیقی پر جن موسیقاروں نے بڑے گہرے نقوش مرتب کیے تھے ان میں ایک بہت بڑا نام موسیقار ناشاد کا تھا ۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پیدا ہونیوالے اور بمبئی کی فلموں میں اپنے کیرئیر کا آغاز کرنیوالے ناشاد نے 1947ء سے لے کر 1962ء تک کے عرصہ میں تیس کے قریب بھارتی فلموں میں موسیقی دی تھی لیکن انھیں وہ کامیابی نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے ۔ انھوں نے بھی موسیقار نثار بزمی کی طرح پاکستان ہجرت کی، جہاں کامیابیوں اور کامرانیوں نے ان کے قدم چومے اور اگلے اٹھارہ برسوں میں انھوں نے 65فلموں میں چارسو سے زائد گیت تخلیق کیے جن میں بڑے بڑے شاہکار گیت تھے۔ پاکستان میں ناشاد کی پہلی فلم ''مہ خانہ'' تھی جو 1964 ء میں ریلیز ہوئی تھی اور جس کے فلمساز ، ہدایتکاراور نغمہ نگار نخشب تھے جو پاکستان میں ناکام رہے تھے ۔

اس فلم میں ''جان کہہ کر جو بلایا تو برا مان گئے ، آنکھوں کا ایک جام نظر سے پلا مجھے گیت بڑے مقبول ہوئے۔ 1965ء میں ناشاد کی کوئی فلم نہیں آئی لیکن 1966 سے1980ء تک وہ تسلسل کے ساتھ فلموں میں موسیقی دیتے رہے۔1966ء میں ان کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں پہلی فلم ''جلوہ'' ایک بڑی نغماتی فلم تھی لیکن باکس آفس پر ناکام تھی ۔ اسی سال ان کی دوسری فلم ''ہم دونوں'' میں ناشاد نے بنگال کی ساحرہ رونا لیلیٰ کو فلمی دنیا میں روشناس کروایا جس نے اپنی پہلی ہی فلم میں ''ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا ، دل یہ سمجھا کہ چھلکتا ہوا اک جام ملا '' جیسا سپرہٹ گیت گایا۔ 1970ء میں ان کے حصے میں چار فلمیں ''افسانہ'' ، ''جلے کیوں نہ پروانہ''، ''اک پھول اک پتھر'' اور ''چاند سورج '' آئیں ۔



1971ء میں ناشاد کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں، فلم ''خاک اور خون'' کا گیت ''زندگی اپنی گزر جائے گی آرام کے ساتھ'' گلوکار نورجہاں اور رجب علی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو رجب علی کا پہلا سپرہٹ فلمی گیت تھا ۔ 1973ء میں ناشا بڑے مصروف موسیقار تھے اور آٹھ فلمیں ریلیز ہوئیں ۔1974ء میں ناشاد نے نو فلموں کی موسیقی دی ۔ 1975ء میں ناشاد کی نو فلمیں ریلیز ہوئیں ۔ ناشاد ایک کثیر الاولاد شخص تھے۔ان کے چودہ بچے تھے جن میں آٹھ بیٹے اور چھ بیٹاں تھیں ۔ سب سے معروف ان کے بیٹے واجد علی ناشاد مرحوم تھے جب کہ ایک بیٹے امیر علی نے پنجابی فلم ''چوڑیاں'' میں مشہور زمانہ گیت ''کراں میں نظارہ جدوں اودھی تصویر دا'' گایا تھا۔ ناشادکی آخری فلم ''بدنام '' تھی جسکی موسیقی زیادہ سننے میں نہیں آئی۔

ناشاد نے اپنے عہد کے سبھی گلوکاروں سے گیت گوائے تھے لیکن عنایت حسین بھٹی سے کبھی کوئی گیت نہیں گوایا ۔ موسیقار ناشاد کا اصل نام شوکت حسین تھا اور وہ دہلوی تخلص استعمال کرتے تھے۔ دہلی میں گیارہ جولائی 1923ء کو پیدا ہوئے تھے اور موسیقی کی ابتدائی تعلیم ماسٹر غلام حیدر اور موسیقار نوشاد علی وغیرہ سے حاصل کی تھی ۔ پہلی فلم بھارت ہی میں شیخ مختار کی ایک فلم ''ٹوٹے تارے'' تھی جس میں اس وقت کی ایک گلوکارہ راجکماری کا گایا ہوا یہ گیت ان کا پہلا پہلا فلمی گیت تھا ''نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں۔نہ کسی کے دل کا قرار ہوں'' ریلیز کے اعتبار سے دلدار 1947ء میں پہلی فلم بتائی جاتی ہے ۔ بھارت میں ان کی سب سے کامیاب فلم ''بارہ دری ''1955ء تھی جسکے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔یہ عظیم موسیقار تین جنوری 1981ء کو وفات پاگئے تھے۔

مقبول خبریں