4 سال میں بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوگی کچھ وعدے جذباتی تھے خواجہ آصف

حکومت میں آئے توپتہ چلا کس بھائو بکتی ہے،جہاں سے بل نہیں آئیگا وہاں بجلی نہیں ملے گی، وفاقی وزیر پانی و بجلی


Monitoring Desk August 02, 2013
ٹرانسمیشن سسٹم اپ گریڈ کرنے کیلیے 12ارب ڈالر درکار ہیں، لائیو ود طلعت میں طلعت حسین سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

وزیر پانی بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ انتخابی مہم میں کیے گئے کچھ وعدے جذباتی تھے،حکومت میں آئے تو پتہ چلا کہ کس بھائو بکتی ہے۔

چند روز میں بجلی کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ جوہنگامے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہو رہے ہیں بجلی کی عدم فراہمی تک جاری رہیں گے ۔ ساڑھے 3 سے 4 سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہوگی لیکن مکمل طورپرختم نہیں ہوگی۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ بنوںکوہاٹ کے دو فیڈر ہم نے خود بند کیے کیونکہ دونوں فیڈرز سے بجلی استعمال کرنے والے 93فیصد صارفین بل ادانہیں کر رہے۔ جہاںسے بل نہیں آئے گا وہاں بجلی نہیں ملے گی جہاں سے ایک بار میٹر کٹے گا وہاں پردوبارہ پوسٹ پیڈ نہیں پری پیڈ میٹر لگے گا۔



بجلی کے ٹیرف مجبوری میں بڑھائے ہیں، اس وقت بجلی 15 روپے فی یونٹ پڑ رہی ہے۔ سالانہ دوارب روپے کی بجلی چوری کی مد میں 2 سے ڈھائی روپے فی یونٹ صارفین ادا کر رہے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے۔کمرشل و صنعتی یونٹ 22 روپے فی یونٹ پڑرہا ہے، عوام کو بجلی کم بھی مل رہی ہے اور مہنگی بھی۔ اگلے ڈیڑھ سال میں ایل این جی آجائے گی توگیس سے بننے والی بجلی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ جن لوگوں کو بجلی چوری میں پکڑا جاتا ہے وہ بچ جاتے ہیں کیونکہ ہمارے قانون میں کافی لچک ہے۔ پورے پاکستان میں ٹرانسمیشن سسٹم کو اپ گریڈکرنے کے لیے 10سے 12 ارب ڈالر درکار ہیں۔