بازار کا انصاف اور
محترم وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کی غیرنصابی سرگرمیاں جاری ہیں۔وہ نیک لوگوں کاایک لشکرلےکرعمرہ کیلئےسعودی عرب گئےہیں۔
محترم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی غیر نصابی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وہ نیک لوگوں کا ایک لشکر لے کر عمرہ کے لیے سعودی عرب گئے ہیں۔ نہ جانے اس کے لاکھوں کروڑوں کے خرچ کا حساب کون مانگے گا اور کون دے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ بھوربن مری میں بھی ایک وزیر اعظم ہاؤس بنا دیا گیا ہے یعنی یہاں کے گورنر ہاؤس کا درجہ بلند کر دیا گیا ہے۔ اب وزیر اعظم جب مری آئیں گے اور وہ یہاں اکثر آتے ہیں تو اس نئے وزیر اعظم ہاؤس میں قیام کریں گے۔ کیا ہوا کہ چند لاکھ روپے کا مزید خرچ ہو گیا۔ یہ خرچہ جاریہ ہو گا اور اب ہمیشہ کے لیے چلے گا۔ اسی کے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ پنجاب میں جرمانے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے 39 قیدی جیل میں مفت کی سزا بھگت رہے ہیں۔
صرف دو چار ہزار یا چند سو روپے جرمانہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ جیل میں ہیں۔ ان میں نوے فی صد قیدی نوجوان ہیں مثلاً فیصل آباد کی سنٹرل جیل کا ایک قیدی شیر محمد سزا پوری ہونے کے بعد جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے سترہ سال سے قید میں پڑا ہے۔ ساہی وال جیل کا قیدی رب نواز جرمانہ کی رقم نہ ہونے سے نو سال سے قید میں ہے۔ ایک قیدی ارشد مسیح سات اور ظفر چھ سال سے قید میں ہیں۔ یہ دردناک تفصیل طویل ہے لیکن چند سو روپے نہ ہونے کی وجہ سے کئی قیدی جیل کی سزا بھگت رہے ہیں جب کہ وہ سب اپنی اصلی قید کی سزا بھگت چکے ہیں۔ ایسے قیدیوں کو بالعموم مخیر حضرات ان کا جرمانہ ادا کر کے انھیں رہائی دلوا سکتے ہیں لیکن روزمرہ کے اخراجات نے ان مخیر حضرات کو بھی شاید خاموش رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب ایک اور دلچسپ خبر... میں نے دو چار دن قبل ٹی وی پر دیکھا کہ لاہور کے سب سے بڑے بازار ایم ایم عالم روڈ پر دکانداروں نے کسی چور ڈاکو کو پکڑ رکھا ہے اور اس کی جوتوں' مکوں اور تھپڑوں سے مرمت کر رہے ہیں۔
پھر دیکھا کہ فیصل آباد میں بھی تاجروں نے کسی ایسے ہی ڈاکو کو پکڑ رکھا ہے اور اس کی بھی مرمت میں بڑے شوق اور جذبے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس ڈاکو گروہ میں چند عورتیں بھی ہیں۔ ان کی مرمت عورتیں کر رہی ہیں۔ اسی طرح مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تسکین کا سامان بھی ہو رہا ہے۔ پھر دیکھا کہ گوجرانوالہ میں بھی تاجروں کے دست و بازو کی آزمائش ہوئی۔ ہر جگہ یوں لگتا تھا جیسے یہ تاجر حضرات کسی دشمن پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ رمضان المبارک میں یہ سب ہوا اور کتنا کچھ اور ہوا ہو گا جو میں نہیں دیکھ سکا۔ ان حملہ آور تاجروں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ رمضان المبارک میں آپ نے اپنی اشیاء کی قیمتوں میں جو کئی گنا اچانک بلاوجہ اضافہ کر دیا ہے اس کی سزا کون دے گا۔ لگتا ہے کچھ کسر باقی رہ گئی تھی کہ دکانداروں نے وہ ان مبینہ ڈاکوؤں پر نکالنے کی کوشش کی ہے۔
ہماری پولیس آئے دن کسی ہوٹل یا قحبہ خانے سے چند جسم فروش عورتوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔ یہ بدکار عورتیں ہوں یا بازاروں سے چوری کرنے والے مرد یہ اس سوسائٹی کا مظلوم ترین طبقہ ہیں۔ ایک زمانے میں اپنے اخبار کے لیے فیچر تیار کرنے میں مجھے ان جسم فروش عورتوں کے انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ ان سب کی دردناک روداد سن کر میں اس قدر گھبرایا کہ اپنے ایڈیٹر فیض صاحب کو فیچر کا نامکمل مسودہ پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ جناب میں یہ فیچر مکمل نہیں کر سکتا۔ فیض صاحب نے اسے پڑھا اور مجھے نصیحت کی کہ اخبار نویس دل پتھر کر کے مظلوموں کی حالت بیان کرتا ہے۔ اگر وہ بھی مظلوم بن جائے تو پھر ان مظلوموں کی ڈھارس کون بندھائے گا' جاؤ اور اس فیچر کو مکمل کرو۔ یہ تمہارا فرض بھی ہے اور خدمت بھی۔
اب جب میں پاکستان کے بازاروں میں ان چوروں کی مرمت کا حال دیکھ رہا ہوں جن پر پوری طاقت کے ساتھ نیک لوگ حملہ آور ہیں تو مجھے اپنی صحافتی زندگی کے وہ تمام مظلوم یاد آ رہے ہیں جن کے حالات قلمبند کرتے ہوئے مجھے اپنے اوپر بڑے ہی جبر اور حوصلے سے کام لینا پڑا۔ میں ایک بات عرض کروں کہ میں نے ایک بار سیاسی کارکنوں کے انٹرویو بھی کیے کہ ان کے لیڈروں نے انھیں کس طرح استعمال کیا۔ میں ایک بار ڈھاکے گیا تو وہاں لاہور کے ایک معروف سیاسی کارکن دکھائی دیے۔ میں ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ لاہور میں پولیس مظاہرین کی پکڑ دھکڑ کر رہی تھی اور ہر گرفتاری میں پانچ سے زائد لوگوں کی ضرورت تھی۔ ایک دفعہ یہ تعداد پوری نہ ہوئی تو میرے لیڈر سردار شوکت حیات نے مجھے پکڑ کر ٹرک پر سوار کر دیا۔ مقدمہ چلا' سزا ہوئی جس کے بعد میں بھاگ کر یہاں آ گیا اور یہاں خواجہ خیر الدین کے ساتھ کام کرنے لگا۔ ان لوگوں میں سیاسی کارکنوں کی عزت کی جاتی ہے۔
بات ان چوروں کی ہو رہی تھی جس کو رمضان المبارک کے متبرک مہینے میں بے حد گراں فروشوں نے پکڑ کر ان کی مار کٹائی شروع کر دی، یہ حقائق ہیں اور چند روپوں کے عوض قید میں سڑنے والوں کو وہاں سے نکالنا اگر حکومت کا فرض نہیں تو کس کا ہے۔ ویسے جو طبقات زکوٰۃ کے مستحق ہیں ان میں شرعاً مہاجر اور قیدی بھی شامل ہیں۔ اب ایک اور عرض غلطی ہائے پروف ریڈنگ کا ایک الگ کالم ہر روز لکھیں تو مناسب ہو گا۔ لکھا کہ وہ لوگ جو کبھی مبینہ طور پر پاکستان کے مخالفت تھے اس کی جگہ چھپ گیا کہ وہ جو ضامن تھے یعنی بالکل الٹ مفہوم۔ کئی غلطیاں تو اس لیے برداشت کر لی جاتی ہیں کہ قارئین کرام خود ہی ان کی تصحیح کر لیتے ہیں لیکن ایسی غلطی جو قارئین کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو اس کی تصحیح خود کرنی پڑتی ہے۔ بہر کیف یہ ایک پرانا مسئلہ ہے جسے جماندرو کہیں کہ جب سے لکھنا شروع کیا پروف ریڈر حضرات گلے کا ہار بن گئے۔ کچھ ہماری بدخطی اور کچھ ان کی بے احتیاطی ان دونوں نے مل کر ہمارے لیے لکھنا مشکل کر دیا ہے۔ دیکھیں کب تک ہمت باقی ہے اور کب ہار جاتے ہیں۔