قومی کوچ نےٹیم پر فکسنگ کے الزامات مسترد کردیے

پلیئرز نے صرف اپنی کرکٹ کھیلی اور کسی غلط سرگرمی میں نہیں پڑے، ڈیو واٹمور


سلیم خالق August 04, 2013
ویسٹ انڈیز سے تیسرا ون ڈے ٹائی ہونے پر واٹمور ڈریسنگ روم میں خاصے غصے میں دکھائی دیے تھے، فوٹو: فائل

کوچ ڈیو واٹمور نے پاکستانی ٹیم کیخلاف فکسنگ کے الزامات مسترد کر دیے، ان کے مطابق ویسٹ انڈیز میں پلیئرز نے صرف اپنی کرکٹ کھیلی اور کسی غلط سرگرمی میں نہیں پڑے۔

ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ آفریدی ہر میچ میں پورے پاکستان کی بلند توقعات لیے حصہ لیتے ہیں، ان کیلیے ہمیشہ غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ممکن نہیں، کوچ نے اب بھی حفیظ کی حمایت نہیں چھوڑی اور کہا کہ وہ بیٹنگ فارم میں واپسی کیلیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، انھیں اوپنرز کی کارکردگی پر کوئی تشویش نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ عمر اکمل نے اس سے قبل کبھی اتنے تسلسل سے عمدہ کھیل پیش نہیں کیا۔ ڈیوواٹمور نے ان خیالات کا اظہار نمائندہ ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت میں کیا، ویسٹ انڈیز سے واپسی کے بعد یہ ان کا میڈیا کو پہلا انٹرویو ہے، دورے میں ٹیم نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں سیریز میں کامیابی حاصل کی مگر اس کے باوجود ایک برطانوی اخبار نے فکسنگ کا الزام لگا دیا۔

اس حوالے سے واٹمور نے کہا کہ میں نے برطانوی اخبار میں شائع ہونیوالی رپورٹ پڑھی جس میں پاکستان ٹیم پر الزامات عائد کیے گئے، گوکہ اس معاملے کو پی سی بی دیکھ رہا ہے مگر میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی، پلیئرز نے صرف اپنی کرکٹ کھیلی اور کسی غلط سرگرمی میں نہیں پڑے، رپورٹ میں جو الزامات لگائے گئے وہ بالکل بکواس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں فتح نہ صرف میرے بلکہ اسکواڈ کے تمام پلیئرز کیلیے بیحد ضروری تھی، میں محسوس کرتا ہوں کہ چیمپئنز ٹرافی میں شکست کے بعد مجھے غیرضروری تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کوچ نے کہا کہ ون ڈے سیریز میں مصباح الحق اور عمر اکمل نے تسلسل کیساتھ عمدہ پرفارم کیا، رواں برس جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز سے کپتان کی بیٹنگ شاندار رہی، مجھے امید ہے کہ وہ طویل عرصے تک یہ سلسلہ برقرار رکھیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہدآفریدی نے ہمیں گیانا کے پہلے ون ڈے میں تن تنہا کامیابی دلائی، وہ ہمیشہ پورے پاکستان کی بلند توقعات کا بوجھ لے کر کھیلتے ہیں۔



ہر میچ میں اس قسم کی کارکردگی دکھانا ممکن نہیں ہوتا، آفریدی کیلیے کیریبیئن سیریز اچھی رہی، ان کے طویل کیریئر میں اب جتنی کرکٹ باقی ہے انھیں اس میں شاندار کھیل پیش کرنا چاہیے۔کوچ بدستور آؤٹ آف فارم محمد حفیظ کے حامی دکھائی دیتے ہیں، انھوں نے کہا کہ نائب کپتان اپنی بیٹنگ میں بہتری کیلیے ہر ممکن کوشش کر رہے اورکچھ رنز بنا کر ٹیم کی فتح میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، یقیناً ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت موجود اور وہ جلد فارم حاصل کر لیں گے،اچھی بولنگ اور فیلڈنگ انھیں محدود طرز کی کرکٹ کا بہترین کھلاڑی ثابت کرتی ہیں۔ اوپنرز کی کارکردگی پر واٹمور نے کہا کہ ویسٹ انڈین بولرز نے سیریز میں تسلسل کے ساتھ نئی گیند سے اچھی بولنگ کی، انھوں نے ہمارے اوپنرز کیلیے وکٹ بچاتے ہوئے بڑا اسکور بنانا مشکل بنائے رکھا، چند میچز میں ہم نے اچھی گیند پر صرف ایک وکٹ گنوا کر پاور پلے کا عمدگی سے استعمال بھی کیا ،انھوں نے کہا کہ اچھے آغازکے بعد خراب شاٹ کھیل کر آؤٹ ہونا ناقابل قبول ہے، ٹور میں اوپنرز کے کھیل پر میں فکرمند نہیں، البتہ ہم ہمیشہ بیٹنگ میں بہتری کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز سے تیسرا ون ڈے ٹائی ہونے پر واٹمور ڈریسنگ روم میں خاصے غصے میں دکھائی دیے تھے، اس حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمیں وہ میچ جیتنا چاہیے تھے اور ایسا نہ ہونے پر مجھے بیحد مایوسی ہوئی، ٹائی مقابلہ ہمارے لیے شکست اور حریف کیلیے فتح کے مترادف تھا، ایسے میچز کا قریب سے جائزہ لینے کے بعد ہمیشہ یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بعض شعبوں میں اگر مختلف فیصلہ کرتے تو میچ کا نتیجہ تبدیل ہو جاتا، میں محسوس کرتا ہوں کہ بیشتر میچ کے دوران ہم حاوی رہے البتہ اختتامی 2اوورز میں ایڈوانٹیج گنوا دیا، مستقبل کے ایسے اعصاب شکن میچز میں ہمیں زیادہ مضبوط بن کر سامنے آنا اور اختتام تک انہماک برقرار رکھنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ جب سے میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ منسلک ہوں عمر اکمل کی کارکردگی میں پہلی بار اتنا تسلسل دیکھا، وکٹ کیپنگ سے اس پر اضافی ذمہ داری تو عائد ہوئی مگر فرائض کامیابی سے نبھائے ہیں۔

ابھی نئے کردار کا محض آغاز ہوا ہے ہمیں تھوڑا مزید انتظار کرنا چاہیے،اس کے بعد ہی علم ہو گا کہ وہ مستقل طور پر بطور وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے یا نہیں، البتہ اب تک کاکھیل عمر اکمل اور ٹیم کیلیے حوصلہ افزا ہے۔ واٹمور نے کہا کہ جب تبدیلیوں کی ضرورت ہو تو میں ہمیشہ اسکواڈ میں نئے پلیئرز دیکھنا پسند کرتا ہوں، ویسٹ انڈیز سے سیریز میں ہم نے چند نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جنھوں نے بہتر کھیل پیش کیا، میں اس پر بہت خوش ہوں۔کوچ نے کہا کہ دورہ زمبابوے کیلیے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے پلیئرز عید کے بعد مختصر کیمپ کیلیے اکھٹے ہوں گے، اسکواڈ کا جلد انتخاب متوقع ہے،انھوں نے سیریز میں سینئرز کو آرام دینے کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔