ڈرون حملوں پر عالمی عدالت جانے کے بجائے قابل قبول حل نکالا جائیگا پاکستان

اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال کرنیکی اجازت نہیں دینگے،آسام فسادات کے حوالے سے بھارتی الزامات افسوسناک ہیں،دفتر خارجہ


اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال کرنیکی اجازت نہیں دینگے،آسام فسادات کے حوالے سے بھارتی الزامات افسوسناک ہیں،ترجمان دفتر خارجہ ، فوٹو : فائل

KARACHI: دفتر خارجہ کے ترجمان نے ڈرون حملوں کوپاکستان کو خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ڈرون حملوں کو رکوانے کیلیے امریکاکے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکاکی طرف سے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں کیخلاف انصاف کی عالمی عدالت میں جانے کے بجائے ایساکوئی حل نکالاجائے گا جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو۔اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہاکہ یہ حملے غیرقانونی اور مفادات کے منافی ہیں اور ہم امریکی حکام کے ساتھ یہ مسئلہ کئی باراٹھا چکے ہیں اور اس مسئلے کو باہمی طور پر حل کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔

مختلف تجاویز زیر غور ہیں اورکئی آپشنز موجود ہیں، انھوںنے کہا کہ ڈرون حملوں میں پاکستان کا کوئی کردارنہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی اداروں کی نشاندہی پر ہو رہے ہیں، پاک امریکااسٹرٹیجک ڈائیلاگ اس سال کے دوران متوقع ہیں اور دونوں مالک کے حکام اس ضمن میں رابطے میں ہیں حتمی تاریخ کا نہیں کہاجا سکتا، پاکستان امریکاکے ساتھ برابری کی سطح پر باہمی تعلقات کوفروغ دینے کا خواہاں ہے، ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاک افغان سرحد پردراندازی کے بارے میں کہاکہ افغان حکام کے نوٹس میں یہ معاملہ لایاجاچکا ہے۔

بھارتی ریاست آسام میں فسادات میں پاکستان کو ملوث کرنے کے بھارتی الزامات کی تردیدکرتے ہوئے معظم علی خان نے کہا کہ الزامات افسوسناک ہیں بھارت کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں توشیئر کرے، ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ سابق سفیر حسین حقانی کا بیان حکومتی موقف نہیں ہے ،حسین حقانی نے کہا تھا کہ پاکستان کوامریکاسے تعلقات ختم کردینے چاہییں، ترجمان نے کہا کہ پاکستان قیدیوں کے حوالے سے سعودی حکومت سے دفتر خارجہ میں رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر پیشرفت ہورہی ہے ترجمان نے ہندوستان ٹائمز کی اس خبر کو بھی مسترد کردیا کہ پاکستان نے بھارت کو ایٹمی حملوں کی دھمکیاں دی ہیں،انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی قوت ہے۔