ایک اور گورنر مگر…
ہمارے وزیراعظم زبردست مردم شناس واقع ہوئے ہیں اور ایک وزیراعظم کو ایسا ہونا ہی چاہیے۔ ذرا غور کیجیے کہ انھوں۔۔۔
ہمارے وزیراعظم زبردست مردم شناس واقع ہوئے ہیں اور ایک وزیراعظم کو ایسا ہونا ہی چاہیے۔ ذرا غور کیجیے کہ انھوں نے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں اور ان میں دس کروڑ پنجابیوں کی خوب دیکھ بھال اور تفتیش کرنے کے باوجود جب ہر طرف سے اپنی پسند کی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تو انھیں سات سمندر پار دیار غیر میں مقیم ایک سابق پاکستانی شخصیت دکھائی دی اور انھوں نے اس جوہر قابل کو فوراً ہی اُچک لیا۔ اس برطانوی شہری کو پہلے تو برطانویت سے توبہ تائب کرایا اور پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ان کی بیعت کرائی اور یوں انھیں پاکستانی بنا کر واپس پاکستان لے آئے۔
یہ سمجھ میں نہیں آ سکا کہ ایسی کیا مصیبت تھی کہ میاں صاحب کو اس قدر زحمت کرنی پڑی، پہلے تو ایک غیرپاکستانی کو پاکستانی بنایا اور پھر ان کے سر پر گورنری کا تاج رکھ دیا۔ سچ ہے بادشاہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں، پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے کم از کم ہمارا اور یہاں کی پرانی جماعت مسلم لیگ کا دعویٰ یہی ہے۔ کسی نظریاتی ملک کا کوئی باشندہ کسی بھی دوسرے مخالف نظریات والے ملک کی شہریت اختیار نہیں کر سکتا، اسے آپ سیاسی مرتد بھی کہہ سکتے ہیں جو اپنے نظریاتی ملک سے پھر گیا۔ میاں صاحب نے کسی کو پھر سے پاکستانی بنانے کا یہ ثواب کیا ہے اور اس کا اجر انھیں ان کی سیاست میں بھی ملے گا۔
ویسے میاں صاحب ذرا صبر کرتے اور روایتی حیرت انگیز عجلت پسندی سے کام نہ لیتے اور وہ اپنے گردوپیش پر ہی ایک نگاہ غلط انداز ڈال کر ہی سہی کسی پرانے شناسا کو گورنری کی بے تابی میں تڑپتا بلکتا اور کلبلاتا دیکھ سکتے تھے لیکن انھوں نے اپنی نگاہ سیدھی سامنے رکھی اور ایک وفادار عاشق کی طرح اسے بھٹکنے نہیں دیا۔ نتیجہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ جناب چوہدری محمد سرور جو برسوں پہلے روزی روز گار کی تلاش میں پاکستان چھوڑ گئے تھے، برطانیہ میں کاروبار کرتے رہے اور کامیاب رہے، وہاں انھوں نے برطانوی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور تین بار ایم پی منتخب ہوئے، اب ان کا بیٹا ان کی جگہ ایم پی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کارکن ہونا ہی ان کی غیر ملکی شہریت پر مُہر ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسی مُہر والے کی کوئی شرعی اور پاکستانی گنجائش نہیں ہے۔ جناب میاں صاحب پاکستان کی خدمت اور پنجاب کے تحفظ کے لیے یہ نسخہ کیمیا ولایت سے لے آئے ہیں، دیکھیں گے اس سے شفا ہوتی ہے یا کوئی ری ایکشن ہوتا ہے۔ میاں صاحب ایک نئے دور کے سیاستدان ہیں اور اس سیکولر دور میں سب چلتا ہے ورنہ میاں صاحب نیک اور اسلامی مزاج کے ہیں اور ان دنوں بھی عمرہ پر ہیں لیکن وہ ایک جدید سیاستدان ہیں اور نئی سیاسی زندگی مذہب وغیرہ کی قید میں نہیں آتی۔
میاں صاحب ایک خوش مزاج اور لطیفہ پسند شخصیت کے مالک ہیں لیکن گورنری کے معاملے میں انھوں نے اپنی پسند شاید بدل لی ہے بہر کیف انھوں نے ایک دلچسپ شخصیت کو پسند کیا ہے، کاش کوئی پاکستانی بھی اس قابل ہوتا کہ ان کی نگاہوں میں آ سکتا مثلاً ایک اخبار نے بتایا کہ گورنری کی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ ہمارے گورنر ایک دن پہلے ہی گورنرہاؤس پہنچ گئے اور وہاں پکے ڈیرے ڈال دیے۔ کیا پتہ سیاستدان میاں صاحب کی پسند بدل جائے۔
ہمارے استاد نے ہمیں نصیحت کی تھی کہ تمہارا بطور رپورٹر سیاستدانوں سے دن رات کا رابطہ رہتا ہے لیکن ان سے بچ کر رہنا ضروری ہے کیونکہ وہ گھومنے والے پنکھے ہوتے ہیں اور اپنی ہوا بدلتے رہتے ہیں علاوہ اس مشہور و معروف بات کے کہ ان کے سینے میں دل اور آنکھوں میں حیا نہیں ہوتی، وہ بڑے بے رحم بھی ہوتے ہیں، اس لیے عقلمندی یہی ہے کہ حسینوں کی طرح ان سے بھی بس صاحب سلامت ہی رکھی جائے نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی۔ ہمارے نئے گورنر بھی ایک مدت سے سیاست میں ہیں لیکن برطانوی سیاست میں کچھ ٹھوس روایات موجود ہیں جب کہ پاکستان میں سب چلتا ہے یہانتک کہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں کوئی ایک بھی گورنری کے اہل نہیں ہوتا۔
سنا ہے ہمارے گورنر صاحب زیادہ دیر تک صبر نہ کر سکے اور تاریخ میں پہلی بار وہ ایک دن پہلے ہی گورنر ہاؤس پہنچ گئے اور ایک طرح سے قبضہ کر لیا۔ انھوں نے ایک خبر کے مطابق یہاں حلف برداری کی باقاعدہ ریہرسل بھی کی جس سے قدرے کچھ صبر آ گیا۔ غالب نے کسی ایسے ہی منظر اور کیفیت کے بارے میں کہا تھا کہ
وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
معلوم نہیں ہمارے گورنر صاحب کی اس بے تابی کو دیکھنے والا کوئی صاحب نظر اور صاحب ذوق بھی وہاں تھا یا نہیں یا یہ منفرد منظر ضایع ہی گیا۔ میاں صاحب خود تو عمرے پر ہیں لیکن میاں شہباز موجود تھے۔ انھوں نے اپنے بھائی کی پسند کی داد دی ہو گی اور نئے گورنر کو حوصلہ دیا ہو گا کیونکہ ان سے واسطہ تو وزیراعلیٰ پنجاب کو پڑا کرے گا۔ مجھے یہاں آج کی ایک تصویر سے گلہ پیدا ہوا ہے۔ ہمارے کرم فرما الطاف حسن قریشی صاحب نے فوراً ہی گورنر صاحب کو اچک لیا اور ان کی دعوت کر ڈالی لیکن ستم یہ کیا کہ اس مختصر سی دعوت میں جناب عطاء الحق قاسمی صاحب کو بھی بلا لیا۔ ہمارے دوست عطاء صاحب کی حالت شاید یہ تھی کہ ع تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نہیں دسنا۔
مگر تعجب ہے کہ انتظار حسین صاحب جیسے غیر سیاسی کالم نگار تک بھی عطاء صاحب کی آرزو کی خوشبو اورہونک دونوں پہنچ گئیں اور انھوں نے ان کے حاضرہ عہدہ کو ہی بہت بڑا عہدہ قرار دیا اور ان کو اس پر صبر کرنے بلکہ گزارہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اب ان کی جگہ نئے گورنر آ گئے ہیں اور میں بھی اسے اپنی ایک طرح کی سبکی سمجھتا ہوں کہ ہمارے کروڑوں پاکستانی ہمارے وزیراعظم کی نظروں میں اس قدر گئے گزرے ہیں۔ اس کا اندازہ نہیں تھا، ہمیں ہماری اوقات ہمارے اپنوں نے بتا دی۔