بھارت سے تعلقات کی مخالفت کیوں

ہم جس مہذب دنیا میں زندہ ہیں اس مہذب دنیا نے جنگل کے قانون کو حیوانیت اور درندگی کا قانون کہہ کر مستردکردیا اور۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari August 05, 2013
[email protected]

ہم جس مہذب دنیا میں زندہ ہیں اس مہذب دنیا نے جنگل کے قانون کو حیوانیت اور درندگی کا قانون کہہ کر مستردکردیا اور جنگل کے قانون کو انسانیت کے لیے قابل توہین قرار دیا۔ لیکن جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی اور قومی زندگی سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک ہر جگہ جنگل یعنی طاقت کا قانون جاری وساری نظر آتاہے، کہاجاتاہے کہ انسان کو مہذب بنانے اور دنیا کو ترقی یافتہ بنانے میں جمہوریت نے بڑا اہم کردار ادا کیا، لیکن اگر ہم دنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو جمہوریت ہر جگہ جنگل کے قانون میں لپٹی نظر آتی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے جمہوری ملک طاقت کے قانون کو سر پر اٹھائے نظر آتے ہیں، یہ جدید دنیا کا ایسا المیہ ہے کہ جنگل کے قانون کو جمہوری ملکوں نے نہ صرف اپنالیا ہے بلکہ دھڑلے سے اس کا استعمال کررہے ہیں۔

بھارت کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہاجاتا ہے لیکن اس جمہوری ملک نے کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے طاقت یعنی جنگل کے جس قانون کو اپنایا ہے اگرچہ اس قانون کے تحت وہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب تو نظر آرہاہے لیکن اس کے نتیجے میں اس پورے خطے کے عوام کی بد حالی اور غریت میں جو اضافہ ہورہا ہے اس کی پوری ذمے داری بھارت پر عائد ہوتی ہے ۔ دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جدید دنیا کی اس ماہیت کو سمجھے بغیر جنگل کے اس قانون سے ٹکرانے کی کوشش کررہے ہیں اگر پاکستان قومی اور معاشی طاقت کے حوالے سے بھارت کا ہم پلہ ہوتا تو نہ بھارت کو کشمیر میں فوجیں بھجوانے کی ہمت ہوتی نہ 65سال تک وہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتا۔

سمجھدار قومیں دنیا میں رائج قوانین کو(خواہ وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہو) پیش نظر رکھ کر اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ بن گیاہے کہ اس کا حل ہونا بظاہر مشکل نظر آتاہے۔ پاکستانی عوام جن مشکلات کا شکار ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر اصولی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت سے ان شعبوں میں تعلقات بہتر بنائیں جو پاکستان کے عوام کی اقتصادی زبوں حالی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ یہ اصول اگرچہ بادی النظر میں غیر اصولی نظر آتاہے لیکن جس دنیا میں اصول ضابطے اور اخلاق قدریں متروک ہوچکی ہوں اور ہر جگہ بے اصولی کا راج ہو وہاں اگر کوئی ملک یا قوم اصولوں سے چمٹی رہتی ہے تو وہ اپنا نقصان ہی کراسکتی ہے، اصولوں کو سربلند نہیں کراسکتی۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ ہم کشمیر پر بھارتی قبضے کے کیوں خلاف ہیں؟ ہمارے ملک کا ایک طبقہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے اس لیے خلاف ہے کہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور تقسیم ہند کے فارمولے کے حوالے سے کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ ایک اصولی موقف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا کشمیری عوام کو پاکستان میں ایک بہتر اور پر امن زندگی گزارنے کے مواقعے حاصل ہیں؟ اس کا جواب انتہائی مایوس کن ہے۔ آج پاکستان جس قسم کی انارکی میں مبتلا ہے اور اس ملک کے عوام جن خوفناک عذابوں سے دو چار ہیں کیا ایسے پاکستان میں جہاں مہنگائی آسمان پر پہنچی ہوئی ہے جہاں منافع خوری کا عالم یہ ہے کہ یہاں کے تاجر اور صنعت کار رمضان کے مقدس مہینے کو کمائی کا سیزن کہتے ہیں، یہاں لوٹ مار کا عالم یہ ہے کہ ایک ادارے کا سربراہ82ارب روپے کی کرپشن کا مرتکب ہے ۔

جہاں کے وزراء اعظم پر اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات ہیں، جہاں کے صدر پر اربوں روپوں کی کرپشن کے مقدمات ہیں،جہاں کا ہر قومی ادارہ اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہو، جہاں کی عدلیہ پر کھلے عام جانبداری کے الزامات لگائے جارہے ہوں جہاں بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، کروڑوں کی بینک ڈکیتیاں، کھلے عام ہورہی ہوں اور ان میں پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ملوث ہوں، جہاں ہر طرف دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا راج ہو، جہاں کا کوئی شہری نہ گھر کے اندر محفوظ ہے نہ گھر کے باہر جہاں مائیں بچوں کی، بیویاں شوہروں کی، بہن بھائیوں کی خیریت سے گھر واپسی کی دعائیں مانگتی ہوں، جہاں خودکش حملوں، بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں سے ہر روز بے گناہ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہاہو،

جہاں بچوں کے اسکولوں اور بزرگوں کے مزاروں کو بارود سے اڑایا جارہاہو، جہاں پولیس چوکیوں اور فوجی قافلوں پر حملے ہورہے ہوں، جہاں کے فوجی اور سول اداروں پر کامیاب حملے ہورہے ہوں، جہاں کے سیاست دان اس کھلی دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل عام پر ایک متفقہ پالیسی بنانے پر تیار نہ ہوں، جہاں کے سیاست دانوں پر یہ الزام ہو کہ دہشت گرد تنظیموں سے ان کے تعلقات ہیں، جہاں عوام زبان، قومیت ، رنگ، نسل کے حوالے سے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوں اورفقہی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون پانی کی طرح بہاتے ہوں، ایسے ملک میں کیا کشمیری مسلمان سکھ ، چین کے ساتھ معاشی انصاف کے ساتھ زندگی گزارسکتے ہیں؟ کیا ان حالات میں کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کی خواہش کشیمر دوستی کہلاسکتی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں 1947میں جانا پڑے گا۔

اس پس منظر میں اگر کوئی پاکستانی حکومت بھارت سے بعض ایسے شعبوں میں تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے وہیں سے اس ملک کے عوام پر مسلط بے لگام مہنگائی میں کمی آسکے، جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے پیدا ہونے کے امکانات موجود ہوں، جس سے اس خطے میں امن کی امید پیدا ہو، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ میں کمی آنے کے امکانات پیدا ہوں، جس سے فوجی بجٹ پر خرچ ہونے والی بھاری رقوم بچائی جاسکے، جس سے مذہبی منافرت میں کمی کی امید پیدا ہو، جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے ملکوں میں آنے جانے کے مواقعے مل سکیں، جس سے غیر قانونی تجارت اور اس کے نقصانات سے چھٹکارا مل سکے اور قانونی تجارت کے ذریعے حکومت کی آمدنی اور عوام کی سہولتوں میں اضافہ ہو، جس سے دونوں ملکوں میں پائی جانے والی بد گمانیوں اور عدم اعتماد میں کمی آنے کی امید ہو تو اس کی مخالفت کا کیا جواز رہ جاتاہے؟

پاکستان میں 11مئی کے الیکشن کے بعد جو جماعت برسر اقتدار آئی ہے اس کا سربراہ یہ کوشش کررہاہے کہ زمینی حقائق کی روشنی میں بھارت سے تعلقات بہتر بنائے، بھارت کے ساتھ چین کے نہ صرف سرحدی تنازعات موجود ہیں بلکہ ایشیا میں برتری حاصل کرنے کی مسابقت میں بھی دونوں ملک گرفتار ہیں، اس کے باوجود چین بھارت کے ساتھ زندگی کی مختلف شعبوں میں خاص طورپر تجارت کے شعبے میں تعلقات بڑھانے کی کوشش کررہاہے، اس طرح امریکا چین کو اپنا دشمن نمر1سمجھنے کے باوجود چین سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی سرتوڑ کو شش کررہاہے، اسرائیل کے ساتھ عربوں کا سب سے بڑا مشترکہ تنازعہ فلسطین ہے اس کے باوجود کئی عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ بہت ہی مفاداتی تعلقات ہیں، ہم نے ابتدا میں اس حقیقت کی نشان دہی کردی ہے کہ آج کی دنیا میں طاقت کا قانون ہی سب سے بڑا قانون ہے اس قانون کو ماننے کا کوئی نہ اخلاقی جواز ہے نہ قانونی لیکن دنیا اس پر عمل پیرا ہے اگر ہم اس قانون پر چل کرکشمیر کو آزاد کرانے کی پوزیشن میں ہیں تو بسم اﷲ آگے بڑھیے، اگر نہیں ہیں تو پھر نواز حکومت کی کوششوں کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش اس لیے بے کار ہے کہ نواز حکومت کی کوششوں سے اس ملک کے عوام کی اقتصادی اور سماجی زندگی میں بہتری آنے کے امکانات ہیں، ان کوششوں کی مخالفت عوامی مفادات کی مخالفت کے علاوہ کیا کہلا سکتی ہے؟

مقبول خبریں