تعلیمی بورڈ چیئرمین اور دیگر اہم عہدوں پر ریٹائر افسران تعینات

میرٹ کے برخلاف تعینات افسران نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات کی آڑ لے لی، حاضر سروس افسران کی تقرری خواب بن گئی


Safdar Rizvi August 06, 2013
حکومت سندھ عدالت عالیہ سے تعلیمی بورڈز کے ریٹائر افسران کو ہٹانے کے معاملے پر کچھ عرصے کی مہلت لے کر بھول گئی۔ فوٹو: فائل

سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز میں میرٹ کے برخلاف چیئرمینز اور دیگر اہم عہدوں پر ریٹائر افسران تعینات ہیں جس کی وجہ سے ان اداروں میں میرٹ پر حاضر سروس افسران کی تقرری ایک خواب بن کررہ گئی۔

حکومت سندھ عدالت عالیہ سے تعلیمی بورڈز کے ریٹائر افسران کو ہٹانے کے معاملے پر کچھ عرصے کی مہلت لے کربھول گئی،سپریم کورٹ کے احکام پر سندھ کے تقریباً تمام ہی سرکاری محکموں سے ریٹائراور ڈپوٹیشن افسران کو فارغ کردیا گیا تھا تاہم سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز میں یہ کہہ کر ریٹائر افسران کو عہدوں سے فارغ نہیں کیا گیا تھا کہ سندھ میں اس وقت میٹرک اور انٹر کے امتحانات قریب ہیں اگر اس دوران ریٹائر چیئرمینز کوفارغ کردیا گیا تو امتحانی عمل متا ثر ہوسکتا ہے اس لیے فی الوقت چیئرمینز کوفارغ نہیں کرسکتے ہیں تاہم کراچی سمیت سندھ بھرمیں ناصرف میٹرک اور انٹرکے امتحانات ختم ہوگئے ہیں بلکہ میٹرک کے نتائج بھی جاری ہوچکے ہیں اورانٹرکے نتائج کا اجرا آئندہ ماہ ہونا ہے تاہم سوائے لاڑکانہ کے سندھ کے تمام سرکاری تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے پر ریٹائرافسران اس وقت بھی کام کر رہے ہیں ان میں سب سے سینئر ریٹائرافسراعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز کراچی کے چیئرمین پروفیسرانوار احمد زئی ہیں۔

وہ 2004 میں ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے میرپور خاص بورڈ اور بعدازاں 2007 میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز کے چیئرمین مقرر ہوئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد صرف کراچی میں دومدتوں کے لیے 6 سال سے زائد عرصے سے چیئرمین بورڈ تعینات ہیں ان کی عمر70 برس کے لگ بھگ ہے اسی بورڈ میں سیکریٹری کے عہدے پرقاضی ارشد اور ایک دوسرے عہدے پرقمر تعینات ہیں، سیکریٹری بورڈ قاضی ارشد ماضی میں ایک سرکاری کالج سے ڈپوٹیشن پر آئے اور بعدازاں اپنی خدمات بورڈمیں ضم کروالی تاہم ان کاڈپوٹیشن ختم کیا گیا اور نہ ہی خدمات ان کے اصل محکمے کے سپرد کی گئی۔



مزید براں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین فصیح الدین خان بھی محکمہ اطلاعات سے ریٹائر ہونے کے بعد یہاں تعینات کردیے گئے،سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں تو تینوں اہم عہدوں کو مذاق بنادیا گیا ہے ، چیئرمین بورڈ کے عہدے سے پروفیسرسعید صدیقی کو ریٹائرہونے کے سبب فارغ کیا گیا بعد ازاں ایک بار پھرانھی کو اس لیے چیئرمین بورڈ تعینات کردیا گیا کہ کراچی کے انٹراورمیٹرک بورڈسمیت دیگر تعلیمی بورڈز سے ریٹائر افسران کوفارغ نہیں کیا گیا ، سیکریٹری بورڈ ایک سرکاری ادارے سے گولڈن ہینڈ شیک لے کرریٹائر ہوئے توانھیں بھی ایک دوسرے سرکاری ادارے '' ٹیکنیکل بورڈ '' میں تعینات کردیا گیا ، ناظم امتحانات کے عہدے پر مقرر کیے گئے ۔

قاضی عارف کی ترقی ہی متنازعہ رہی اور ماضی میں موجودہ چیئرمین نے ہی ان کی تنزلی کردی تھی، مزیدبراں حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین فضل الحق بھی ریٹائرمنٹ کے باوجود عہدے پرکام کررہے ہیں، سکھر تعلیمی بورڈمیں غلام مجتبیٰ اور میرپورخاص تعلیمی بورڈ میں شفیق احمد خان بھی ریٹائرمنٹ کے باوجود تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ کے ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ وزیراعلیٰ جبکہ ٹیکنیکل بورڈ گورنر سندھ کے ماتحت ہے کسی بھی ریٹائر افسر کی چیئرمین کے عہدے کی مدت پوری ہونے کا وقت آتا ہے تو انتہائی خاموشی کے ساتھ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کردی جاتی ہے۔

مقبول خبریں