عمران کو سزا نہیں ہوگی سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا جسٹس طارق
وکلا تحریک میں لو گ4,4 ماہ قید میں رہے،کشمالہ طارق، عمران سے ناراض ہوں،ہارون الرشید
لندن کی عدالت بلاتی تو کیا ایسا ہی ردعمل دکھاتے؟ ابصار عالم کی ’’ٹو دی پوائنٹ‘‘ میں گفتگو فوٹو : فائل
ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا ہے کہ عمران خان کو عدالت سزا نہیں دے گی، سب کچھ نارمل ہوجائیگا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ عمران خان اپنے جانثاروں کو سمجھائیں اور تحمل وبرداشت کا درس دیں ۔ عدلیہ بحالی میں سب نے حصہ لیا، یہ مقصد حاصل ہونے کے بعد سب کچھ نارمل ہوجانا چاہیے تھا جو نہیں ہوا۔ عمران خان نے عدالت سے کہا کہ آپ کے سامنے وہ شخص کھڑا ہے جو کبھی جیل نہیں گیا لیکن عدلیہ کی بحالی کیلیے جیل جانا پڑا جو مناسب نہیں۔ سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہی نہیں کہ وہ دھاندلی کے متعلق انکی پٹیشن پر ری چیکنگ کا حکم دے سکے، یہ کام الیکشن کمیشننے کرنا ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق نے کہا کہ دیکھنا یہ چاہیے کہ ہم کس عدلیہ پر الزام تراشی کررہے ہیں جس نے بہت بڑے بڑے کام کئے اور انصاف کیلیے کئی سوموٹو ایکشن لیے۔ اس عدالت میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویزاشرف بھی پیش ہوئے۔ اگر عمران خان پیش ہوگئے ہیں تو کون سی بڑی بات ہے۔ وہ ایک لیڈر ہیں تو کیا لیڈر یہ سبق دے رہا ہے کہ وہ عدالت کا احترام نہیں کرتا۔

عمران خان کے اعتراضات سننے کیلیے مناسب فورم موجود ہے، وہ اپنا احتجاج وہاں ریکارڈ کرائیں۔ حامد خان نے عدالت سے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہماری پٹیشن کی جلد سماعت کی جائے کیونکہ انھوں نے امریکہ جانا تھا۔ سوشل میڈیا پر عدلیہ کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ عدلیہ بحالی کی تحریک میں عمران خان تو آٹھ دن جیل میں رہے لو گ چار چار ماہ جیل میں رہے ہیں۔ تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا کہ میں پہلے روز سے ہی کہہ رہا ہوں کہ عمران خان کو غلطی کی معافی مانگنی چاہیے، ان کو عدلیہ کی بجائے ریٹرننگ آفیسرز کا نام لینا چاہیے تھا، وہ عوامی نمائندے ہیں، ان کو غیر ذمے دار بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے، جو لوگ عمران خان کو اناپرست قراردے رہے ہیں انکی اپنی انا کوہ ہمالیہ جتنی ہے۔
ن لیگ نے پلاننگ سے دھاندلی کی، میں عمران خان سے ٹکٹوں کی تقسیم پر ناراض ہوں اور تین ماہ سے ان سے بات نہیں کررہا، وہ جب بھی وزیراعظم بنیں گے عوام کے ووٹ سے بنیں گے۔ تجزیہ کار ابصار عالم نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ عمران خان کو ان کے ساتھی اچھی رائے دیں گے، یہ ٹھیک ہے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں لیکن جن کو وہ چور، لٹیرا، ڈاکو کہتے ہیں وہ بھی تو کسی کے نمائندے ہیں، سوشل میڈیا پر جو کچھ تحریک انصاف کے لوگ کررہے ہیں کیا وہ مناسب ہے؟ عمران اگر لندن میں رہتے اور وہاں عدالت انکو بلاتی تو کیا وہ ایسا ہی ردعمل ظاہر کرتے؟ دیارغیر میں وہ بہت اچھے موڈ میں رہتے ہیں لیکن پاکستان میں اناپرستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔