گیس تاپی معاہدہ تازہ ہوا کا جھونکا

پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے جس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔اس کے حل میں یہ معاہدہ معاون ثابت ہوگا۔


Editorial March 14, 2019
پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے جس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔اس کے حل میں یہ معاہدہ معاون ثابت ہوگا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور ترکمانستان نے تاپی گیس پائپ لائن کے ہوسٹ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق ممکن ہے کہ رواں سال ہی پاکستان میں اس منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہو جائے ، تاپی گیس پائپ لائن کے تحت 3.2 ارب مکعب فٹ گیس ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان،انڈیا کی سرحد تک پہنچائی جائے گی ۔ بلاشبہ یہ معاہدہ اور اس پر عمل درآمد ہونے کی خبر تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے جس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔اس کے حل میں یہ معاہدہ معاون ثابت ہوگا۔ پاکستان میں موسم سرما میں گیس کی بد ترین لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے،گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نظام زندگی درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ صنعتوں کو بھی گیس کی کمی کے باعث پیداواری ہدف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔ برآمدی آرڈرز بروقت ڈیلیور نہ ہونے پر پاکستان کے صنعت کاروں کو لاکھوں ڈالرزکا نقصان بھی ہوتا ہے، جب کہ سی این جی اسٹیشنز بھی ہفتے میں تین دن اورکبھی تو چاردن تک بند رہتے ہیں ۔گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود ہے ۔

اس منصوبے کے تحت ترکمانستان کی دولت آباد گیس فیلڈ سے 1680کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن افغانستان کے ذریعے پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت جائے گی ۔ اس کی تکمیل کی صورت میں پاکستان اور بھارت کو وافر گیس فراہم ہوسکے گی ۔

ترکمانستان کے وزیرخارجہ نے حکومت کی تاپی گیس پائپ لائن میں دلچسپی کو سراہا اورکہا کہ انھیں امید ہے کہ تاپی پائپ لائن بر وقت مکمل کی جائے گی،انھوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان براستہ افغانستان ، ٹرانسپورٹ اور انرجی راہداری بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے دیگر ممالک کے درمیان بھی سرمایہ کاری کے مواقعے بڑھائے گا، اس معاہدے پر 2019ء تک کام کا آغاز ہوگا اور اس کا پہلا مرحلہ اکتوبر 2022 ء تک مکمل ہوگا ۔

دراصل تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ خطے کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اقتصادی استحکام کا سبب بنے گا ۔ خطے کے ممالک کا باہم تعاون ترقی کی ضمانت ہے پاکستان اور ترکمانستان ہمیشہ اور ہر حال میں بھائی اور دوست رہیں گے،کیونکہ دونوں اسلامی اخوت اور بھائی چارے کے اٹوٹ رشتے سے جڑے ہیں ۔

مقبول خبریں