ظلم وتشددپرقابو نہ پایا توپھرخونی انقلاب برپا ہوگاعبدالستار ایدھی

بڑی تبدیلی آئے گی توبات بنے گی، ڈاکٹر ریاض،پروگرام تکرار میںہمایوں احسان کی بھی گفتگو


Monitoring Desk August 25, 2012
بڑی تبدیلی آئے گی توبات بنے گی، ڈاکٹر ریاض،پروگرام تکرار میںہمایوں احسان کی بھی گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی

KARACHI: معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے کہاہے کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بہت بڑھ چکی ہے جتنا ظلم وتشدد اب دیکھنے میں آرہاہے ایساکبھی دیکھنے میں نہیں آیااگراس صورتحال پرقابونہ پایا گیا تو پھرخونی انقلاب برپاہوگا۔

پروگرام تکرار میں اینکرپرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ملک میں عدم برداشت کے باعث انسانوں کوسرعام مارا جارہا ہے آج میرے جیسا آدمی بھی یہ سوچتا ہے کہ میں یہاں کیسے ہوں؟۔اگراس سوچ کونہ روکاگیا تو پھر انسانوں کے ہاتھوں سرعام انسانوں کے قتل کے واقعات بڑھتے جائیں گے۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید احمد پراچہ نے کہاکہ پرتشدد واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع کی ذمے داری سیاستدانوں پرعائد ہوتی ہے ، جب وہ خودہی قانون کی دھجیاں اڑا ئیں گے تو پھر وہ کسی اور کو قانون پر عملدرآمد یا اس کی پاسداری کا درس کیسے دے سکتے ہیں۔

معاشرے کی عدم برداشت کی گھنائونی تصویر کراچی میں نظر آرہی ہے جہاں لاشیں اٹھ رہی ہیں لیکن کسی کو فکر ہی نہیں۔انسانوں کو تربیت دی جائے کہ غصے کو پینے والا اور معاف کرنے والا مومن ہے ۔ماہرنفسیات ڈاکٹرریاض بھٹی نے کہاکہ معاشرے میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل بہت بڑھ چکے ہیں ہمارے سیاستدانوں اور اداروں نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو ان کو کرنا چاہیے تھا ۔یہ معاشرہ اب چھوٹی موٹی باتوں سے ٹھیک ہونے والا نہیں ہے یہاں پر بڑی تبدیلی آئے گی تو بات بنے گی۔

جس ملک کے عوام کو دن میں سکون نہ رات کو آرام نہ ہو ان میں برداشت کہاں سے آئے گی۔ماہر قانون ھمایوں احسان نے کہاکہ جب وائٹ کالر جرائم کو تحفظ ملے گا تو پھر بلیوکالر کرائم کی شرح کیسے کم ہوگی ۔جو حکمران جرائم سے معافی کی پیداوار ہوں گے وہ قانون پر عملدرآمد نہیں کراسکتے۔ عوام کو پیغام مل رہا ہے کہ جو بھی جرم ہوجائے ان کو ڈیل کرکے چھوڑ اجاسکتاہے ۔آج سے تبدیلی کا عزم کرلیں تو ایک نہ ایک روز ہم مطلوبہ نتائج تک پہنچ جائیںگے۔