انعام مل چکا ناشکری کی سزا جاری ہے
مان ممالک تھے وہ سب پہلے سے موجود تھے اور کوئی دوسری نسبت رکھتے تھے۔
یہ بات کوئی اللہ کا برگزیدہ بندہ ہی بتائے گا کہ اس دن اور رات کو آسمان سے زمین پر کتنی برکات اور انعام و اکرام کا نزول ہوا اور قدرت نے اپنے حیرت انگیز طریقے سے کس طرح وقت، تاریخ اور آسمانی برکات کو یکجا کر دیا۔ رمضان المبارک کی 27 ویں رات لیلۃ القدر ہزاروں مہینوں سے زیادہ با برکت اور اس سے دوسرے دن جمعتہ الوداع۔ مسیحی کیلنڈر کا 14 اگست۔ خدا اور رسولؐ پر ایمان رکھنے والے برصغیر اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی مشترکہ امنگ اور آرزو کی تکمیل کا دن۔ اس دن مسلمانوں کی تاریخ میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا وہ پہلا ملک جو اسلامی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔
اس سے قبل جتنے بھی مسلمان ممالک تھے وہ سب پہلے سے موجود تھے اور کوئی دوسری نسبت رکھتے تھے۔ فقط پاکستان ہی ایک ایسا ملک تھا جو اللہ و رسولؐ کے نظریات پر قائم کیا گیا۔ اس ملک کے قیام میں اللہ تبارک تعالیٰ نے معجزے برپا کیے جن کی ایک ظاہری جھلک اوپر بیان کی گئی ہے۔ ان معجزوں اور برکات میں اور کیا کچھ تھا وہ ہمیں معلوم نہیں قدرت کے راز ہیں اور اس امت کے ہادی و رہنما کی نگاہ کرم ہے جس سے ہم سرفراز کیے گئے ہیں۔
اس دن کی شام اور اس رات کی آمد سے قبل میں اپنے گائوں کی مسجد میں ایک بزرگ کی مجلس میں شریک تھا جو رمضان کے مہینے میں اچھے موسم کے لیے ہمارے گائوں آیا کرتے تھے، یہ شاہ پور کے قریب بیربل کے حضرت محمد عمر تھے جو شرق پور شریف والوں کے مرید اور خلیفہ تھے اور ہمارے ٹائون میں قیام کے دوران دن رات ذکر اور فکر میں مصروف رہتے تھے۔ آزادی کا اعلان ہو چکا تھا، گائوں تک محدود سی خبریں پہنچی تھیں۔ انھوں نے پوچھا کہ گورداسپور کس ملک کے حصے میں ہے، بتایا گیا کہ بھارت کے پاس ہے تو انھوں نے شدید اضطراب کی کیفیت میں کہا کہ پھر کشمیر تو گیا، اس کی جو زمینی وجوہات تھیں انھوں نے کچھ بتائیں بھی تو میری سمجھ میں نہیں آئیں۔
میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ مجھے تو صرف اتنا معلوم تھا کہ گائوں میں برطانوی دور کی ایک ہی عمارت تھی اور وہ ہمارا اسکول تھا۔ ہم نے اس کے اوپر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں بزرگوں کی باتیں سنتے رہے، اس بچپن میں خواب دیکھنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی سوائے اس خوشی کے ہم آزاد ہو گئے ہیں۔ اس عمر میں ہمیں تو آزادی کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ آج ہم اس ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ جو نہ تو اسلامی ہے نہ اپنی زیادہ تر عمر میں جمہوری رہا ہے اور نہ ہی آج پرانا پاکستان ہے اور اب صرف ایک حصے کا نام پاکستان ہے۔ 27 رمضان کو عطا ہونے والے ملک کو ہم کھو چکے ہیں اور اس کے صرف ایک حصے پر اکتفا کر کے بیٹھے ہیں۔ کیا المیہ ہے کہ ہمارے جو سیاسی لیڈر ہمارا ملک توڑنے کے ذمے دار تھے وہ ہمارے ہیرو ہیں۔
ہمارے بزرگوں نے ایک جمہوری پاکستان بنایا تھا جسے ہم نے شروع کے گیارہ برسوں میں ہی اسے غیر جمہوری بنا دیا، اس کے بعد جمہوریت کی یاد میں ہم زندہ رہے تا آنکہ ہم نے اپنی بے مثال بدعنوانیوں کی وجہ سے اس ملک کو ہی ختم کر دیا اور خود فریبی میں اس کے ایک حصے کو پاکستان کا نام دے کر خوش ہو گئے۔ جس فوجی کی حکومت میں ہم نے اپنا پاکستان گنوا دیا اس کا رد عمل صرف اتنا تھا کہ کیا میں نے کسی کی کھوتی کو ہاتھ لگا دیا ہے، وہ باقی پاکستان پر حکمرانی کا مدعی تھا اور جب انکار کیا گیا تو اس نے یہ جملہ کہا تھا۔
تو پاکستانی خواتین و حضرات ہم نے بے پناہ آسمانی اور زمینی برکات کے جلو میں ایک ملک حاصل کیا تھا جو ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم اس کے حقدار نہیں تھے۔ لیلۃ القدر 27 ویں رمضان اور جمعتہ الوداع ہم سب بھول گئے۔ وہ لوگ ایکا کر کے اس نو زائیدہ ملک پر قابض ہو گئے جن کا محض اقتدار کے لیے پارٹیاں بدلنے کا ایک مشہور جملہ تھا، ہم تو پارٹی نہیں بدلتے حکومت بدل جاتی ہے۔ آج 2013 تک یہی طبقہ نام بدل بدل کر ملک کا حکمران ہے، لوٹ مار اس کا شعار ہے اور چونکہ سبھی لٹیرے ہیں، اس لیے کوئی بھی کسی کا احتساب نہیں کرتا ،کسی کو پکڑتا نہیں۔ کسی شاعر نے جل کر کہا تھا کہ
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
ہماری سیاسی لٹیری قیادت کی آنکھوں پر کرپشن کی چربی چڑھ چکی ہے اور وہ کسی نیکی کو نہیں دیکھ سکتی، وہ صرف بدی کو دیکھتی اور اس میں گم رہتی ہے جس ملک کو وہ دو ٹکڑوں میں بانٹ چکی ہے یعنی توڑ چکی ہے باقی ماندہ پر بھی وہ حکمران ہے، اسی پُرانی طرز کی کرپشن سے لتھڑی ہوئی حکمرانی اور عوام کی لوٹ مار۔ ملک کا کوئی مسئلہ بھی قدرتی نہیں، یہ سب مسائل ان کے پیدا کردہ ہیں۔ دن بدن ہر چیز کی قیمت میں سرکاری سطح کے اضافے ہمیں اس حکمران طبقے کی نیت کا پتہ دیتے ہیں کہ وہ اب ہماری بوٹیاں نوچ لینے کے بعد اب ہماری ہڈیاں بھی چبا رہے ہیں۔ یہ اب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی کتنی ہڈیاں باقی بچی ہیں۔ میری یہ گزارشات نہ جذباتی ہیں نہ خیال آرائی ہیں، ٹھوس حقائق کی ایک ہلکی سی معمولی سی جھلک ہے۔ اٹھارہ بیس کروڑ پاکستانی اگر سوچ سے عاری نہیں ہو چکے تو خود اندازہ لگا دیں۔ ہم نے خدا و رسول کی عنایات کی بہت زیادہ ناشکری کی ہے جس کی سزا نہ جانے کتنی سخت ہو گی اور وہ مل بھی رہی ہے۔