ایک گورنری اور بچے کی زکوٰۃ
کسی نے شاید درست ہی کہا تھا کہ اخبار نویس کو خود خبر نہیں بننا چاہیے لیکن گزشتہ کئی دنوں سے ایک ناموراخبارنویس اور...
کسی نے شاید درست ہی کہا تھا کہ اخبار نویس کو خود خبر نہیں بننا چاہیے لیکن گزشتہ کئی دنوں سے ایک نامور اخبار نویس اور مزاح نویس کی ذات گرامی خبروں کا موضوع ہے اور چونکہ خبر بڑی دلچسپ ہے اس لیے اخبار نویس اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ مجھے شبہ ہے کہ یہ اخبار نویس بھی اپنا ذکر جاری رکھنے کا خواہش مند ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک دن اخباروں میں کہیں یہ بات چھپی کہ جناب عطاء الحق قاسمی کو گورنر پنجاب بنایا جائے۔ ان دنوں پنجاب کے گورنر کی کرسی بالکل خالی تھی لیکن غلطی یہ ہوئی کہ قاسمی صاحب اس خالی کرسی پر اپنا رومال رکھنا بھول گئے اگر وہ رومال رکھ دیتے تو یہاں بیٹھنے والا یہ سمجھ کر کہ کوئی بیٹھا ہے کسی دوسری کرسی کی طرف نکل جاتا مگر بعض اوقات ایسی ہی غلطیاں یا بھول چوک بہت مہنگی پڑ جاتی ہے چنانچہ کرسی خالی پا کر سات سمندر پار سے آنے والے ایک صاحب یہاں رونق افروز ہو گئے اور قاسمی صاحب اپنے شیر کے دانت نکالنے اس کے پنجوں سے ناخن نکلوانے اور اسے میائوں میائوں سکھانے میں وقت ضایع کرتے رہے اور اس کے لیے پرانی داستانیں تلاش کرتے رہ گئے۔
محترم قاسمی صاحب کے بارے میں یہ افواہ یا خواہش اگر کسی اخبار میں چھپ گئی تو بات بعداز قیاس نہیں تھی کیونکہ قاسمی صاحب آج کے اس حکمران کے ایک گزشتہ اقتدار میں سفیر بھی رہے اور ان کے حالیہ اقتدار میں اب ایک بڑے ہی ادبی اور ثقافتی ادارے کے سربراہ ہیں۔ اس منصب پر پہلے بڑے بڑے نامور لوگ فائز رہے ہیں لیکن الحمراء کے پڑوس میں ایک سڑک پار سکھوں کے دور کی وہ عمارت بدستور استادہ ہے جسے اب گورنر ہائوس کہا جاتا ہے اور کون نامور ہے جو یہاں مقیم نہیں رہا۔ مجھے ذاتی طور پر خوشی ہوتی اگر قاسمی صاحب بھی یہاں تخت نشین ہوتے اور ہم صحافی ان کی کسی دعوت میں شریک ہوتے۔ قاسمی صاحب کو شکوہ ہے کہ ان کی گورنری کی خواہش کو ان کی چھیڑ بنا لیا گیا ہے حالانکہ خود انھوں نے درست اعلان کیا ہے کہ گورنری کو وہ پرکاہ کی اہمیت بھی نہیں دیتے۔
میاں صاحبان ان کو سینئر سفیر اور اس طرح کے کسی بھی عہدے سے سرفراز کرنا چاہتے تھے لیکن نہ معلوم گورنر کے عہدے کا انھوں نے کسی سے وعدہ کر لیا تھا یا پھر اس عہدے کو کچھ مختلف قسم کی چیز سمجھ لیا تھا۔ بہر کیف کوئی مجبوری ضرور تھی ورنہ وہ ہرگز اپنے اس پرانے دوست اور مداح کو مایوس نہ کرتے۔ میاں صاحبان نے جس فراخدلی کے ساتھ وزارتیں تقسیم کی ہیں اس فراخ دلی کے ساتھ وہ رواداری میں ایک گورنری بھی دان کر دیتے تو کیا تھا۔ بہر کیف ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ قاسمی صاحب کس قدر پاپولر ہیں اخبار ان کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں اور کہاں کہاں ان کا نام آتا ہے۔ اس سے ان کے بلند مقام کا پتہ چلتا ہے۔
میں جملہ معترضہ میں اپنے کئی ایک ساتھیوں کے بارے میں ایک گستاخی کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کالم وغیرہ کسی فرد کے لیے نہیں قارئین کے لیے لکھتے ہیں۔ سیاستدانوں کے لیے دن رات ایک کر دینے اور ہر لفظ ان کی خوشنودی کے لیے لکھنے کی سزا ہمارے سامنے ہے اور ہم نے لیڈروں کی بے اعتنائی پر بعض کالم نگار روتے پیٹتے بھی دیکھے ہیں۔ اگلے ہی دن ایک استاد کی بات نقل کی تھی کہ سیاستدان گھومنے والے پنکھے ہیں ان کی ہوا پر بھروسہ مت کرو۔ہم نے دیکھا ہے کہ جس نے ان کی گھومنے والی ہوا پر بھروسہ کیا وہ پسینے میں شرابور ہوا۔ اور آجکل کے کچے سیاستدان خدا کی پناہ میرے خیال میں ایک باغیرت کالم نویس کسی بھی سیاسی عہدے سے بلند ہوتا ہے اگر وہ صرف کالم نویس ہو۔
میرے پوتے نوشیروان نے مجھے دق کر رکھا ہے کہ بینک والوں نے اس کے اکائونٹ سے زکوٰۃ کاٹ لی اس نے شوقیہ ینگ سیور اکائونٹ کھولا تھا اور اپنا جیب خرچ اور عیدیاں اس میں جمع کرتا رہتا تھا۔ چند ہزار کا اکائونٹ تھا لیکن بینک والوں نے اس کی پچیس سو روپے زکوٰۃ کاٹ لی۔ اب اس کا مطالبہ ہے کہ یہ زکوٰۃ چونکہ جائز طور پر نہیں کاٹی گئی اس لیے واپس کی جائے۔ میں نے اس کا یہ نقصان پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے خیال میں اس کے ساتھ یہ زیادتی ہوئی ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ دراصل اس بچے کو ابھی تک ہمارے زمانے کی ہوا نہیں لگی ورنہ وہ اس زیادتی پر ہماری طرح خاموش رہتا۔ یہاں تو لوگ اربوں کھا گئے یہ چند سو تو ایک مذاق ہے۔
زکوٰۃ کی رقم حکومت کاٹتی ہے اور ہر اکائونٹ ہولڈر کو علم ہے کہ اس کی یہ کمائی افسروں کے پاس جائے گی اور اس فرض کے جو حقدار ہیں ان تک نہیں پہنچے گی اس لیے اس زیادتی پر ہمیشہ شور اٹھتا ہے مگر رمضان المبارک میں بینک بہر حال یہ رقم قابو کر لیتے ہیں کھاتے ان کی تحویل میں ہوتے ہیں نہ کہ اکائونٹ ہولڈر کے پاس۔ افسوس کہ ہم نے یہ اہم ترین فرض بھی خراب کر دیا ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی حکومت کے آغاز پر ہی زکوٰۃ سے انکار کرنے والوں کے خلاف جنگ کی تھی اور ان سے اپنی بات منوائی تھی۔ ایک مسلمان ریاست کی اکانومی کے لیے یہ فنڈ لازم ہے جس کی ادائیگی میں خدمت بھی ہے اور ثواب بھی لیکن نوشیروان کو بتا دیا ہے کہ اس کی رقم اب گئی اور اس کی سزا میں بھگتنے پر تیار ہوں لیکن بینک والے بچوں پر تو رحم کریں جن کو سیونگ اور بچت کا عادی بنایا جا رہا ہے۔