سیلابی ریلے سے متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی بتدریج بحال

بارش زدہ علاقوں میں آمدو رفت کے راستے کھل گئے،دکانوں سے خرید وفروخت شروع، کئی خاندانوں نے عید کی خریداری کی


Staff Reporter August 08, 2013
سعدی ٹاؤن سمیت دیگر سوسائٹیز میں امدادی کام کیا گیا، پریم ولاز میں بجلی بحال نہ ہو سکی، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کام میں حصہ لیا، رہائشی فوٹو: اے ایف پی

سیلابی ریلے سے متاثرہ رہائشی سوسائٹیزاور گوٹھوں میں آہستہ آہستہ معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں آمدو رفت کے راستے کھل گئے ہیں، کاروبار زندگی معمول پر آ گیا۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کو اسکیم نمبر 33 کی مختلف رہائشی سوسائٹیز اور گوٹھوں میں آنے والے سیلابی ریلے نے ہر طرف تباہی مچادی تھی اور لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا ، متاثرہ علاقوں میں آہستہ آہستہ معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئی جبکہ متاثرہ علاقوں میں آمد و رفت کے راستے بھی کھل گئے ہیں، سیلابی ریلے میں خراب ہونے والی گاڑیوں کی مالکان نے اپنی گاڑیوں کی مکینک سے مرمت کرانا شروع کردی جبکہ متاثرہ علاقوں میں کاروبار زندگی بحال ہورہا ہے اور متاثرہ سوسائٹیوں میں واقع دکانیں کھل گئیں ہیں جہاں علاقہ مکین نے روز مرہ کی اشیا کی خرید و فروخت کی ، سیلابی ریلے سے متاثرہ سوسائٹیز میں رہائش پذیر ملازمت پیشہ افراد نے دفاتر جانا شروع کردیا، کئی متاثرہ خاندانوں نے عید کی خریداری کے سلسلے میں بازاروں اور مارکیٹوں کا رخ کیا۔

دریں اثنا اسکیم 33 میں سیلابی ریلے سے متاثر ہونیوالے پریم ولاز کے رہائشیوں نے شکوہ کیا ہے کہ سیلابی ریلے میں سعدی ٹاؤن سمیت دیگر رہائشی سوسائٹیز اور گوٹھ امدادی ٹیموں اور میڈیا کے نمائندوں کے خصوصی توجہ کا محور رہے تاہم پریم ولاز کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ، چار روز گزر جانے کے باوجود پریم ولاز میں بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوسکی جبکہ پانی اور سیوریج لائنیں تاحال کیچڑ سے بھری ہوئی ہیں، جتنی تباہی سعدی ٹاؤن اور دیگر سوسائٹیوں میں ہوئی ہے اس سے کئی زیادہ تباہی پریم ولاز فیز ون میں ہوئی ہے۔



زیادہ تر لوگ نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں میں مقیم رشتے داروں کے گھر منتقل ہوگئے ہیں، انھوں نے بتایا کہ پریم ولاز میں سیلابی ریلے کا 6 سے 8 فٹ تک پانی دو روز تک موجود رہا جس کی وجہ سے گھروں میں موجود تمام فرنیچر، گاڑیاں، جنریٹرز، پانی کی موٹریں ، واشنگ مشین اور دیگر الیکٹرانک سامان تباہ ہوگیا، سیلابی ریلے نے سب سے پہلے پریم ولاز میں واقع سب اسٹیشن متاثر کیا،مکانات پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے بجلی کے میٹر بھی ناکارہ ہو گئے جنھیں اب تک تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

پریم ولاز کے ایک رہائشی شخص نے بتایا کہ ان کے گھر عید کے بعد شادی کی تقریب تھی اور اس سلسلے میں گھر میں رنگ کا کام جاری تھا تاہم سیلابی ریلے نے سب کچھ بکھیر دیا اور ان کی خوشیوں کو خاک میں ملادیا ، پریم ولاز میں امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں تھیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کام میں حصہ لیا ، انھوں نے بتایا کہ ان کے دو اہم مسئلے پینے کا صاف پانی اورسیوریج لائنوں کی صفائی ہے جنھیں جتنی جلد ہوسکے صحیح کرایا جائے، سیلابی ریلے سے متاثرہ پریم ولاز کے رہائشیوں نے بلدیہ عظمیٰ اور حکومت سندھ کو شدید تنقید کا نشانا بناتے ہوئے صدر مملکت ،وزیراعظم ، چیف جسٹس اور گورنر سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلابی ریلے کے باعث نقصانات کا فوری اندازہ لگا یا جائے اور اس کا ازالہ کیا جائے تاکہ متاثرین سیلاب اپنی زندگیوں کو دوبارہ سے شروع کر سکیں۔

مقبول خبریں