پی سی بی کرکٹ کمیٹی بھولی بسری داستان بن گئی

کئی ماہ گزرنے کے باوجوداجلاس نہیں ہوا،فیصلوں میں رائے تک نہیں لی جاتی۔


Saleem Khaliq March 21, 2019
کئی ماہ گزرنے کے باوجوداجلاس نہیں ہوا،فیصلوں میں رائے تک نہیں لی جاتی۔ فوٹو: فائل

پی سی بی کرکٹ کمیٹی بھولی بسری داستان بن گئی جب کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑی شان سے کرکٹ کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے سربراہی سابق ٹیسٹ اوپنر محسن خان کو سونپی تھی،اس میں وسیم اکرم کی شمولیت پر ابتدا میں ہی تنازع کھڑا ہو گیاکیونکہ محسن انھیں ہمیشہ ''داغدار'' ماضی کا حامل قرار دیتے رہے تھے، البتہ ابتدائی پریس کانفرنس میں ہی انھوں نے واضح کر دیا کہ چیئرمین احسان مانی نے ان کے وسیم اکرم کے بارے میں ''تحفظات'' دور کر دیے ہیں اور وہ ساتھ کام کریں گے۔

کمیٹی کے دیگر ارکان مصباح الحق اور عروج ممتاز ہیں، یہ ابتدا سے ہی مسائل کا شکار رہی، محسن خان اور وسیم اکرم کے سرفرازاحمد کی قیادت کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے، مصباح ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں ان پر ایک ٹیم نے اثرورسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی نے ایک ''اعلیٰ شخصیت'' کے کہنے پر محسن خان کو یہ ذمہ داری سونپی اور وسیم کو کمیٹی کا حصہ بنایا تھا، اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انھیں مصروف رکھا جائے ورنہ میڈیا پر تندوتیز بیانات دیں گے،البتہ آغاز میں ہی احسان مانی کو اندازہ ہوگیا کہ وہ غلط شاٹ کھیل گئے ہیں۔

کمیٹی کے بارے میں کہا گیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ، انٹرنیشنل کرکٹ سمیت تمام اہم امور پر مشورے دے گی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بڑے فیصلے سے قبل اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا، ڈومیسٹک ٹاسک فورس میں کرکٹ کمیٹی کاکوئی رکن شامل نہیں۔

گورننگ بورڈ میٹنگ میں محسن خان کی تجاویز کا سرسری تذکرہ ہوا اور کوئی سوال تک نہیں کیا گیا تھا، ان سمیت کسی رکن کو کسی اجلاس میں نہیں بلایا گیا تاہم اب عروج ممتاز کو ویمنز چیف سلیکٹر بنانے کے بعد اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا کہ محسن کو مستقبل میں کوئی اور ذمہ داری سونپ دی جائے، یوں غیرفعال کرکٹ کمیٹی خاموشی سے ختم ہو جائے گی۔