بیماریوں میں مبتلا افراد معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں ماہرین طب

اتائیوں سے گریز کیا جائے،حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں لیکن اگر ان کی اوربچے کی جان کو خطرہ ہو تووہ روزہ توڑ سکتی ہیں


Staff Reporter March 26, 2019
آنکھ ، کان میں دوا ڈالنے، شوگر چیک کرنے، انسولین اور انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، رمضان اور ذیابیطس کانفرنس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

امراض دل، گردہ اور شوگر کے مریض ڈاکٹروں کے مشورے سے آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں مریضوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کر لیں، اتائیوں کے پاس جانے سے گریز کریں۔

ماہرین طب نے کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان میں پانچویں رمضان اور زیابطیس کانفرنس کے اختتامی روز بتایا کہ روزے کی حالت میں آنکھ اور کان میں دوا ڈلنے، خون کے ذریعے شوگر چیک کرنے ، انسولین یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں لیکن اگر ان کی اور ان کے بچے کی جان کو خطرہ ہو تووہ روزہ توڑ سکتی ہیں۔

کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ کرائنالوجی ،رمضان اور حج اسٹڈی گروپ نے ڈار انٹرنیشنل الائنس کے تعاون سے کیا تھا۔ کانفرنس سے پروفیسرعبد الصمد شیرا، ڈاکٹر شبین ناز مسعود ، متحدہ عرب امارات سے آئے ڈاکٹر اسمادیب، برطانوی ماہر زیابطیس ڈاکٹر عظمیٰ خان، ڈاکٹر عبد الجبار اور پروفیسر یعقوب احمدانی نے خطاب کیا۔

پروفیسر ریاض ملک کہا کہ گردے کے امراض میں مبتلا افراد حتیٰ کہ وہ لوگ جو ڈائیلاسز کرارہے ہیں وہ بھی روزہ رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر کلیم اللہ شیخ نے کہا کہ دل کے مریضوں کے لیے روزے کے فوائد بے تحاشہ ہیں کیونکہ روزہ رکھنے سے انسان کے کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور وزن میں کمی ہوتی ہے جس سے دل کے دورے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان نے کہا کہ کہ روزے داروں کو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا چاہیے اور اگر ان کا ڈاکٹر انہیں کسی بات سے منع کرے تو انھیں اس کی رائے کو مقدم جاننا چاہیے شرعی طور پر کانوں اور آنکھوں میں دوا ڈالنے ، روزے کی حالت میں سوئی چبھوکر شوگر چیک کرنے، انجکشن اور ڈرپ لگوانے اور دانت نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ زیابطیس اور رمضان کانفرنس کروڑوں مسلمانوں میں آگہی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے جس کیلیے منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں، ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان کو ہزاروں پرائمری کیئر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے ۔