پاک بھارت سرحدی کشیدگی پھیل گئی دوستی بسوں پر بھی ہندوؤں کے حملے

مسائل کے حل کیلیے ہر سطح پر بات کرنے کو تیار ہیں، ترجمان دفتر خارجہ


امرتسرکے قریب بھارتی حکمراں جماعت کانگریس کے یوتھ ونگ نے9اگست کو پاکستان آنیوالی دوستی بس کو روک رکھا ہے جبکہ سیکیورٹی اہلکار بھی موجود ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور: بھارت کی جانب سے جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اوراس کشیدگی کا دائرہ اب مزید وسیع ہوگیا ہے۔

بھارت میں دوستی بسوں پر بھی جنونی ہندوئوں کے حملے شروع ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے عید کے تیسرے روز اتوارکو ایک بار پھر سیالکوٹ کے بجوات اور آزادکشمیر کے نکیال سیکٹر میں پاکستانی حدود میں بلااشتعال فائرنگ کی جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ بجوات میں رینجرزکی چیک پوسٹ جبکہ نکیال میں ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی جس سے عید کی خوشیاں منانے والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بجوات سیکٹر میں لوگوں گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ادھرامرتسر میں بھارتی انتہاپسندوں نے دوستی بس کو روک کر پاکستان کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور دوستی بس سروس بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ عید کے روز نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا۔ پاکستان نے ان واقعات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت ان واقعات کا نوٹس لے۔

رینجرز حکام کے مطابق بھارتی فورسز نے سمبل چیک پوسٹ سے صبح 7بجے بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جو وقفے وقفے سے3 گھنٹے تک جاری رہا۔ بھارتی فورسز نے رینجرزکی اعجاز شہید اور برجی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ رینجرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پنجاب رینجرز کے جوانوں نے بھرپور جوابی کاروائی کر کے دشمن کی گنوں کو خاموش کرا دیا۔ دریں اثنا اتوار کو ہی بھارت نے کوٹلی میں نکیال سیکٹر کے اندر ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی، دونوں واقعات میں کسی طرح کے جانی مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ۔ بھارتی فائرنگ کے ان افسوسناک واقعات پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی ملٹری آپریشنز کا ایک بار پھر ہاٹ لائن پر رابطہ بھی ہوا ہے، ادھر انڈیا کی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ترجمان نے الزام لگایا کہ پاکستانی رینجرز نے جموں سے40 کلومیٹر جنوب میں کناچک کے مقام پر اس کی چوکی پر فائرنگ کی جس میں بی ایس ایف کا ایک اہکار زخمی ہو گیا۔



دریں اثناء امرتسر میں بھارتی انتہاپسندوں نے دوستی بس کو روک کر پاکستان کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور دوستی بس سروس بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کی جانب سے پاک بھارت دوستی بس کو 2 مرتبہ روکا گیا تاہم بعدازاں بس کو غیرمعمولی حفاظتی حصار میں پاکستان پہنچا دیا گیا جبکہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا۔دوستی بس میں 8 پاکستانی ، 3بھارتی اور3دیگر ممالک کے مسافر سوار تھے۔علاوہ ازیں عید کے روز نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی صبح سیالکوٹ سیکٹر میں انڈین بارڈر فورس نے پاکستانی رینجرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر رینجرز نے مزاحمت کی اور ذمے داری سے جواب دیا۔دفترخارجہ کے ترجمان نے ان واقعات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت واقعات کا نوٹس لے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود جذبات کا مظاہرہ نہیں کیا۔

بھارتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ جذبات پر قابو رکھے اور مسائل کے حل کیلئے بامقصد دوطرفہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔ پاکستان مسائل کے حل کیلیے ہر سطح پر بات کرنے کو تیار ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور تنائو کی صورتحال کم کرنے کیلیے مذاکرات ضروری ہیں، دونوں ممالک کے مابین با معنی مذاکرات کیلیے جذبات کو قابو میں رکھنا ہو گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کو حل کیے بغیر خطے میں امن کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔ ترجمان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی سفارتخانوں اور سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعات پر بھارت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہشمند ہے، لائن آف کنٹرول پر سیزفائر برقرار رکھنا اہم ہے، وزیراعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی ختم کرنے اور امن کے قیام کیلیے پہلے سے موجود دوطرفہ فوجی و سیاسی چینلز استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔

ادھر بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے پریس اتاشی منظور علی میمن نے کہا ہے کہ بھارت میں پاکستان مخالف مظاہروں پر گہری تشویش ہے جس کے بارے میں بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ انھوں نے جموں وکشمیر میں حریت رہنمائوں کی گرفتاری اور مظاہروں میں بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔رات گئے کوٹلی آزاد کشمیر کے بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا پاکستانی فوج نے بھی ردعمل میں فائرنگ سے جواب دیا۔

مقبول خبریں