دریائے ستلج میں طغیانی سے متعدد دیہات زیرآب آگئے

بھارت کی جانب سے دریا میںمزید پانی چھوڑنے کا خدشہ، بارشوں سے 7افراد جاں بحق


بھارت کی جانب سے دریا میںمزید پانی چھوڑنے کا خدشہ، بارشوں سے 7افراد جاں بحق فوٹو اے ایف پی

لاہور: لاہور، گوجرانوالہ، مری، کوئٹہ، کالام سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشسے چھتیں گرنے، سیلابی ریلوں میں بہنے کے باعث دو بچوں سمیت7افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

بھارت کی جانب سے چھوڑے جانیوالے پانی کے باعث دریائے ستلج میں طغیانی سے متعدد دیہات زیرآب آ گئے، سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ پانی میں گھرے متاثرین کوکسی قسم کی امداد نہیں پہنچائی جا رہی، متاثرین کے مطابق ریلیف کیمپ بھی افسران کے دکھاوے کیلیے ہیں۔ پتن کے قریب رینجرز کی چیک پوسٹ بھی پانی میں بہہ گئی، متعلقہ اداروں کے مطابق اسوقت دریا میں پانی کا بہائو55ہزار کیوسک ہے اور اس کی سطح بلند ہو رہی ہے، ڈی سی او قصور نے فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے مزید7دیہات خالی کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم مقامی لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر راضی نہیں ہو رہے۔ دریں اثناء موضع رتنے والا کے رہائشی تین افراد اویس، اعظم اور ظہور دریا کی دوسری جانب اپنی زمینوں پر جانے کی کوشش میں سیلابی ریلا میں بہہ گئے،تاہم لاشیں نہیں مل سکیں۔ ادھر نارووال کے موضع پگالہ موڑ کا بشارت اور ڈیرہ افغاناں کا جہانگیر نالہ بئیں میں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے۔واہنڈو کے گائوں بقاپور میں دیوار گرنے سے دو بچے جاں بحق ہوگئے۔



علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) آصف نے کمشنر لاہور ڈویژن، ڈی سی او قصور ودیگر افسران کے ہمراہ دریائے ستلج اور گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس کا ہنگامی دورہ کیا اور بندوں وپشتوں کی چیکنگ کی۔بعدازاں انھوں نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر قصور اور اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کو سو خیمے، چھ عدد انجن موٹر بوٹ، 2ہزار فوڈ ہیمپر فراہم کر دیے جبکہ دریا کے بیٹ میں مقیم لوگوں سے علاقہ خالی کرا لیا گیا، اے پی پی کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے۔

ملتان سے نمائندگان کے مطابق دریائے ستلج میں 87 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا آئندہ 36گھنٹوں میں ہیڈ اسلام پہنچے گا، دریائے سندھ میں چشمہ، گڈو کے مقام پر درمیانے، کالا باغ اور تونسہ وسکھر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، ٹھل مہتمم اور کچھ نمش کے قریب دریا کے کٹائو سے کئی علاقے زیرآب آ گئے اور لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق دریائے سندھ میں طغیانی سے تحصیل روجھان کی یونین کونسل میران پور کے مقام پر فلڈ بچائو بند ٹوٹ گیا جس کیوجہ سے میران پور کی 12بستیاں زیرآب آ گئیں، امدادی ٹیمیں متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔