قومی مفاد کی ازسر نو تشریح
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خارجہ پالیسی میں اس طرح کی تبدیلی ناگزیر تھی۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے غیر متوقع تاخیر کے بعد پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد امریکا کی اعلیٰ سطح شخصیت کی جانب سے پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس نوعیت کے دورے میں تاخیر کیوں ہوئی اس کا اصل اندازہ بعد میں ہوسکے گا۔ ایک بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے 5 جون 2013 کو حلف اٹھانے کے فوراً بعد اپنی اور حکومت کی ساری توجہ معیشت کی بحالی بالخصوص ملک کو توانائی کے سنگین بحران سے نکالنے کے لیے قابل عمل اور جارحانہ منصوبہ بندی پر مرکوز رکھی۔ پاکستان میں نومنتخب حکومتیں یا برسر اقتدار آنے والے حکمران عموماً اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کرتے ہیں۔ وہ ملک کے اصل مسائل پر فوری توجہ دینے کے بجائے خارجہ پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ان ممالک سے رابطے استوار کرتے ہیں جو پاکستان میں کسی بھی وجہ سے اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور اکثر اوقات حکومتوں کی تبدیلی یا تشکیل میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
11مئی کے انتخابات کے بعد صرف حکومت تبدیل نہیں ہوئی بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات بھی تبدیل ہورہی ہیں۔ میاں نواز شریف کے حلف اٹھانے سے قبل قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ وہ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بعض ممالک کا فوری دورہ کریں گے اور وہاں سے انھیں امکانی طور پر مالی، سیاسی اور اخلاقی حمایت حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نے اپنے اولین دورے کے لیے چین کاانتخاب کرکے تجزیہ نگاروںکو حیرت میں ڈال دیا۔ چین کا دورہ دراصل یہ اعلان تھا کہ موجودہ حکومت خارجہ تعلقات کے حوالے سے ایک بنیادی تبدیلی لانے کا عزم رکھتی ہے اور وہ تبدیلی یہ ہوگی کہ پاکستان اپنے قیام سے اب تک کی نفسیات سے باہر نکلے گا اور مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھے گا۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خارجہ پالیسی میں اس طرح کی تبدیلی ناگزیر تھی۔ مغرب سے تعلقات کو بہتر اور خوشگوار رکھنے کے ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی ترقی کے عمل کو تیز تر کیا جائے اور ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم ایشیا بالخصوص اپنے خطے میں موجود غیر معمولی معاشی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی حکمتِ عملی اختیار کریں۔ چین کا دورہ خارجہ پالیسی میں اسی تبدیلی کا ایک واضح اشارہ تھا جسے امریکا میں بھی سمجھا گیا۔ امریکی حکومت چونکہ اس نوعیت کی تبدیلی کی حامی ہے۔ لہٰذا اس نے میاں نواز شریف کو موقع دیا کہ وہ اس ضمن میں اپنی ابتدائی پیش رفت کو عملی شکل دے سکیں۔ ابتدائی مرحلے کی تکمیل کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اب یہ امر بڑی حد تک عیاں ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں بھی ایک بڑی اور مثبت تبدیلی آنے والی ہے۔
سرد جنگ ختم ہوچکی، لڑائی اور جنگ و جدل کو بھی بالآخر ختم ہونا ہوگا۔ معاشی تعاون اور باہمی تجارت دنیا کے تمام ملکوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے امن قائم کرنے میں ہی سب کا مفاد ہے۔ سرد جنگ کے دور میں ہماری خارجہ پالیسی کا محور محاذ آرائی تھا۔ ہماری اعلانیہ پالیسی یہ تھی کہ جو امریکا کا دوست وہ ہمارا دوست، جو امریکا کا دشمن وہ ہمارا بھی دشمن۔ ہم امریکا کے لیے جیتے تھے اور اسی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے تھے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکا نے بھی اپنی پرانی پالیسی تبدیل کرلی۔ کل کے دشمن آج کے دوست بن گئے۔ امریکا کو معاشی طور پر ترقی کرنا ہے، اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو برقرار رکھنا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔ امریکا کی منڈیاں سب کے لیے کھول دی جائیں اور ایشیا اور افریقا کی نئی منڈیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ امریکا بھی بدل رہا ہے اور ہم بھی خود کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دونوں ملک اس نکتے کو سمجھتے ہیں۔ لہٰذا کئی امور میں اختلافات کے باوجود بامقصد اور بامعنی تعاون کا سلسلہ جاری ہے جو آنے والے دنوں میں یقیناً مزید بڑھے گا۔
بدلنے کا عمل آسان نہیں ہوتا۔ ان دنوں ہم اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ ''قومی مفاد'' کی تعریف اور تشریح کو بدلنے کا ہے۔ کیا ہم قومی مفاد کی تشریح اس طرح کریں کہ معاشی ترقی کا عمل تھم جائے، غربت اور بے روزگاری میں بھیانک اضافہ ہوجائے، ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جائے اور ہم کاسہ گدائی لے کر در در پھریں اور ٹھکرائے جائیں۔ یا پھر قومی مفاد کی تشریح اور تعریف یہ ہو کہ پاکستان کی معاشی ترقی ، عوام کی خوشحالی، ریاست کا بہترین نظم و نسق، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی دراصل ہمارا ''قومی مفاد'' قرار پائے۔ قومی مفاد کی اس نئی تشریح کے مطابق موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس حوالے سے اسے ان تمام طبقات اور عناصر کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے جنھوں نے اپنے مخصوص مفادات کے لیے یہ مفروضہ گھڑا کہ ملک کی قومی سلامتی کو مختلف النوع خطرات درپیش ہیں، لہٰذا ہمارا قومی مفاد یہ ہے کہ ان خطرات سے نمٹا جائے اور معاشی اور خارجی پالیسیاں بھی اسی حوالے سے تشکیل دی جائیں۔ خواہ اس کے نتیجے میں عوام کو گھاس کیوں نہ کھانی پڑے اور ملک دیوالیہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
چین اور امریکا دونوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اس حوالے سے بنیادی تبدیلی آرہی ہے۔ وزیراعظم نے حالیہ دورہ چین کے موقعے پر یہی نکتہ چینی قیادت کے سامنے اٹھایا اور کہا کہ چین، پاکستان کی صرف فوجی اور سیاسی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ میاں صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تجارت اور معاشی راہداری کے حوالے سے بہترین محل وقوع رکھتا ہے۔ جس کا فائدہ چین کو اٹھانا چاہیے۔ کاشغر سے گوادر تک کی معاشی شاہراہ کا فائدہ نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ پورے خطے کے 3 ارب لوگوں کو پہنچے گا۔ چین پہلے ہی سے اس پالیسی پر کار بند ہے کہ معاشی ترقی کو اولین ترجیح ملنی چاہیے اور پرانے تنازعات کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ 1962 میں چین اور ہندوستان کے درمیان ہونے والی ایک محدود جنگ اور اس کے نتیجے میں سرحدی تنازعات کے باوجود چین نے ہندوستان کے ساتھ یہی حکمت عملی اپنائی ہے جس کا فائدہ دونوں ملک اٹھا رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان بہت کشیدگی رہی ہے لیکن اب امریکا کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ جس کے واضح اشارے جان کیری کے حالیہ دورۂ پاکستان سے سامنے آئے ہیں۔ امریکا، پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ پہلے اس کی توجہ فوجی تعاون اور امداد پر مرکوز ہوا کرتی تھی لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکا نے پاکستان میں توانائی، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور صحت سمیت کئی شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک میں ایک ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی امریکا کے تعاون سے پیدا ہورہی ہے جس سے ڈیڑھ کروڑ افراد براہ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ امریکا کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ اگر پاکستان خطے کے تمام ملکوں کی تجارت کو شاہراہوں، مواصلاتی نظام اور بندرگاہوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکا اور یورپ کو بھی خطے کے 3 ارب صارفین تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔
پاکستان سرد جنگ کے دور کی محاذ آرائی، خوف اور قومی سلامتی کو لاحق خود ساختہ خطرات کی نفسیات سے باہر نکل کر حیرت انگیز معاشی کمالات دکھا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ 'قومی سلامتی' کے حوالے سے ہمارے پرانے منصوبہ ساز اپنی آنکھوں پر چڑھی ہوئی مخصوص مفادات کی عینک اتاریں اور یہ دیکھیں کہ اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں 'قومی سلامتی' کو کن خطوط پر استوار کررہی ہیں اور پاکستان کی معاشی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے اہداف کس تیزی سے تبدیل ہوچکے ہیں۔
جان کیری کو رخصت ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ، اس دوران پاکستان کو 'جہاد' کے نام پر بہت الم ناک اور گہرے زخم پہنچے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کو نئی صورتحال میں متعین کریں اور اس بات کی کوشش کریں کہ آج ہم جس خلفشار اور انتشار کے گرداب کا شکار ہیں اس سے باہر نکل سکیں۔