ایک تصویر دیکھ کر

پاکستان میں ہزاروں دیہات بارشوں کی نظر ہو گئے۔


Abdul Qadir Hassan August 13, 2013
[email protected]

ہمارے اخبار کے صفحہ اول پر ایک بظاہر قدرے معمر عورت کی تصویر چھپی ہے جو سر پر سامان کی گٹھری اٹھائے برسات کے پانی سے گزر رہی ہے۔ یہ ڈیرہ اللہ یار کا علاقہ ہے اور یہ خاتون کسی ایسے غریب خاندان کی خاتون ہے جس کے گھر کا سب قیمتی اثاثہ بس اتنا ہے کہ سارے کا سارا اس نے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ پاکستان کے کروڑوں گھرانوں کی ایک نمائندہ خاتون ہے۔ برسات کے اس ہر طرف پھیلے ہوئے پانی نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے وہ سب اس تصویر سے ظاہر ہے یعنی اس کا گھر ڈوب چکا ہے اور اس گھر میں رکھا اس کا 'قیمتی' سامان اس نے جلدی جلدی سمیٹا ہے اور اسے گٹھری میں باندھ کر سر پر اٹھا لیا ہے۔ مشرقی دنیا کے اس بے رحم سامراجی نظام میں بس اتنا ہی کل اثاثہ رکھنے والے گھروں کی اکثریت ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب سیلاب کا پانی اترے گا تو وہ اپنا گھر کیسے تلاش کرے گی اور اگر اس کے نشان بھی مل گئے تو اس کے در و دیوار کو پھر سے زندہ کیسے کرے گی، اور یہ بچا کھچا سامان اگر تب تک بچ گیا تو اسے وہ کہاں رکھے گی۔ اس سیلابی خاتون سے زیادہ عقلمند وہ خاتون نکلی جس نے اپنے تین بچوں کو دودھ میں زہر ملا کر پلا دیا اور خود بھی پی لیا وہ خود اس وقت کسی اسپتال میں ہے اور تصویر میں تینوں فوت شدہ بچے اس کے پاس لیٹے ہوئے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ کیمرے کی آنکھ جھوٹ نہیں بولتی اور یہ سب ماننا پڑتا ہے جب کہ میں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ وزیراعظم عید کے مصروف دن لاہور میں گزارنے کے بعد جب واپس اسلام آباد گئے تو وہاں سے سیدھے مری چلے گئے اور موسم انجوائے کرتے رہے۔ اس خبر کے ساتھ کوئی تصویر نہیں تھی اس لیے میں نے اس خبر سے انکار کر دیا ہے اور اسے رپورٹر کی غلط فہمی سمجھا ہے۔

جناب وزیراعظم کے ذکر سے یاد آیا کہ بھارت اس قدر بدتمیز ہو گیا ہے کہ وہ ہمارے وزیراعظم تک کی پروا نہیں کرتا اور دوستی کی بار بار اور مسلسل درخواست کے باوجود پاکستان پر توپ چلا دیتا ہے۔ ہم پھول بھجواتے ہیں وہ جواب میں بارود کے گولے بھیجتا ہے۔ ایسا کوئی کٹھور پن نہیں یہ تو بدتمیزی ہے۔ ہمارے چند دنوں کے مہمان صدر صاحب نے اپنی تخت نشینی پر کہا تھا کہ ہر بھارتی کے دل میں ایک پاکستانی ہے اور ہر پاکستانی کے دل میں ایک بھارتی چھپا بیٹھا ہے۔ ایسی نکتہ آفرینی کے باوجود بھارت نے اس کا کوئی شریفانہ جواب نہیں دیا بلکہ وہ اب تک غیر شریفانہ سلوک کر رہا ہے۔ ہم سرکاری سطح پر جو کچھ پیش کرتے ہیں، اس کی مثالیں موجود ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے بھارت کی تمام تر جسارتوں اور رعونتوں کو بھول کر کہا ہے کہ آئیے مل بیٹھ کر نئی شروعات کریں کیونکہ ہم بھارتی عوام سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ہماری یہ بے تابیاں ہیں دوسری طرف بھارت کا تازہ ترین رویہ پرانی دشمنی کا ایک اظہار ہے کہ ہم کہیں بھول نہ جائیں کہ بھارت ہمارا آقا ہے اور بذریعہ امریکا تو اب بہت ہی آقا ہے۔ امریکا افغانستان کو خالی کرنے کے بعد بھارت کو اپنی متروکہ املاک اور افغانستان دے کر جانا چاہتا ہے۔

افغان قوم اور غیر ملکی مداخلت کی طویل تاریخ کو دیکھ کر ایک پاکستانی دانشور نے کہا ہے کہ خدا کرے امریکا اپنی جگہ بھارت کو چھوڑ جائے اور پھر بھارت کا تماشا دیکھے۔ اپنے وقت کی سپر پاور برطانیہ کی مداخلت اور اس کی فوج کو افغانوں کا ملیا میٹ کر دینا مشہور ہے کہ صرف ایک ڈاکٹر بچا تا کہ وہ واپس جا کر اپنی پوری فوج کی ہلاکت کی خبر دے ۔ پھر یہاں روس آ گیا۔ یہ کل کی بات ہے کہ دریائے آمو کے پل پر کھڑے ہو کر روسی فوجی افسر نے کہا کہ ہم اپنی نسلوں کو بھی خبر دار کر جائیں گے کہ ادھر کا رخ نہ کریں۔ اب تیسری عالمی طاقت امریکا بھی کسی ایسے ہی عبرت انگیز انجام سے دو چار ہونے سے پہلے نیک نیتی سے ہی سہی بھارت کو اس آگ میں جھونک دینا چاہتا ہے اور لالچی اور بلاوجہ رعونت بھرا بھارت بہت خوش ہے کہ افغانستان اس کے قبضے میں آ جائے گا۔ عجیب بات ہے کہ برطانوی فوجیں بھی ہندوستان سے ہی افغانستان پر حملہ آور ہوئی تھیں اور صرف ایک عدد ڈاکٹر ہی بچا پائی تھیں۔ ہم پاکستانی بھی افغانوں کی طرح بھارت کو خوش آمدید کہیں گے کہ ہمارے اچھی طرح سے دیکھے بھالے میدان میں بھارت ہمارے ہتھے چڑھ جائے۔ مجھے خطرہ ہے کہ بھارت اتنا بے وقوف نہیں ہے جتنے امریکی ہیں۔

بات سیلاب میں ڈوبی ہوئی ایک پاکستانی عورت کی تصویر سے شروع ہوئی تھی۔ کاش کہ ہماری انتظامیہ کبھی غیرت کھا جائے اور اپنی مائوں بہنوں کو کسی آفت سے بچا لے۔ یہ برساتی سیلاب تو اب ایک معمول ہی بن چکا ہے اور ایسے مسلسل حادثے سے بچنے کی ترکیب کے لیے دیانت دار اور حب وطن افراد کی ضرورت ہے، حکمرانوں کے غیر سنجیدہ سیر سپاٹے اور بیانات قوم کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ ایک بے خانماں سیلاب میں گھری ہوئی ایک پاکستانی خاتون کی یہ تصویر ہر اس سرکاری دفتر کی دیوار پر لٹکی ہوئی ہونی چاہیے جو سیلاب سے متعلق کوئی محکمہ ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے حکمران یعنی ارباب بست و کشاد کیسے یہ سب برداشت کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی ملک نہ ہی بنائیں اسے ایک معقول ملک ہی بنا دیں جس میں کسی سیلابی پانی سے کوئی پاکستانی عورت سینے تک ڈوبی ہوئی سفر نہ کر رہی ہو۔

مقبول خبریں