فخر الدین کا استعفیٰ اور نئے سوالات

فخرالدین جی ابراہیم 1947 میں بیرسٹری کرنے لندن گئے۔ انھوں نے 50 کی دہائی میں قانون کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔۔۔


Dr Tauseef Ahmed Khan August 14, 2013
[email protected]

فخرالدین جی ابراہیم 1947 میں بیرسٹری کرنے لندن گئے۔ انھوں نے 50 کی دہائی میں قانون کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ وہ ممبئی، کراچی یا لندن میں اپنی نئی زندگی شروع کرسکتے تھے مگر فخر الدین نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا ۔ پاکستان میں ان کے لیے تجارت، سی ایس پی افسری اور وکالت کے شعبے منتظر تھے۔ نوجوان بیرسٹر نے کراچی میں وکالت شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔50 کی دہائی میں نوابزادہ لیاقت علی خان ملک کے وزیراعظم تھے۔ اس دوران پاکستان کی امریکا سے دوستی زیادہ گہری نہیں تھی۔ امریکا میں میکارتھی ازم عروج پر تھا اور شہری آزادیوں پر قدغن تھی جب کہ کمیونسٹ ہونا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ لیاقت علی خان کی حکومت نے اپنے مخالف سیاست دانوں، صحافیوں، ادیبوں، مزدوروں اور کارکنوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا ہوا تھا۔

بعد ازاں نوابزادہ لیاقت علی خان قتل کردیے گئے اور نتیجتاً خواجہ ناظم الدین ملک کے دوسرے وزیراعظم بنے۔ ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔ کراچی سے ایک اخبار ایوننگ ٹائمز شائع ہوتا تھا۔ ممتاز صحافی زیڈ اے سلہری اس اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ زیڈ اے سلہری اس زمانے میں مسلم لیگ کی حکومت کے نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، ان کے اخبار میں ایک تنقیدی کارٹون شائع ہوا، حکومت نے زیڈ اے سلہری کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے کراچی سینٹر جیل میں بند کردیا۔ زیڈ اے سلہری زندگی میں پہلی اور آخری دفعہ پابند سلاسل ہوئے۔ بیرسٹر فخرالدین جی ابراہیم زیڈ اے سلہری کے وکیل بن گئے، وہ اپنے موکل سے ہدایات لینے جیل جاتے تھے۔

ایک دن جیل میں ایک طویل القامت نوجوان نے ان سے درخواست کی کہ وہ چند لمحے ان کی بات سن لیں، اس نوجوان نے جس کے لہجے میں حیدرآباد دکن کی خوشبو آتی تھی کہا کہ جیل میں کراچی کے چند نوجوان نظر بند ہیں۔ کمشنر کراچی اے ٹی نقوی کا نمائندہ ان کے پاس آتا ہے اور رہائی کے لیے معافی نامے پر دستخط کی شرط لگاتا ہے، یہ نوجوان انکار کردیتے ہیں، کیا آپ ان نوجوانوں کی حبس بے جا کی عرضداشت سندھ چیف کورٹ میں داخل کرسکتے ہیں؟ یہ نوجوان ممتاز کمیونسٹ حسن ناصر تھے اور جو نوجوان جیل میں نظر بند تھے وہ بائیں بازو کی طلبا تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما ڈاکٹر سرور اقبال علوی، ڈاکٹر ایوب اختر، منہاج برنا، پروفیسر جمال نقوی اور ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی وغیرہ تھے۔ اس طرح بیرسٹر فخرالدین جی ابراہیم کا حسن ناصر سے رابطہ ہوا۔ وہ قدامت پرست خاندانی پس منظرہونے کے باوجود ترقی پسند نظریے سے وابستہ ہوئے اور اس اصولی نظریے کو آج تک اپنی زندگی کا خاصہ بنایا ہوا ہے۔

فخر الدین جی ابراہیم 70 کی دہائی میں سندھ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو سیاسی کارکنوں، طلبا، مزدور اور کسان کارکنوں کے خلاف ڈیفنس پاکستان رولز کے تحت بے تحاشا مقدمات قائم ہوئے، ان کارکنوں میں بلوچستان کے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنمائوں کے علاوہ شیر محمد مری، پیپلزپارٹی کے معراج محمد خان کے علاوہ مزدور تحریک کے رہنما عثمان بلوچ، ڈاکٹر اعزاز نذیر، جاوید شکور وغیرہ قابل ذکر تھے۔ ان رہنمائوں کو سندھ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج فخر الدین جی ابراہیم کے سامنے پیش کیا گیا۔ عثمان بلوچ بتاتے ہیں کہ جسٹس فخر الدین نے ان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ مقدمات قائم کرتی رہتی ہے، جن کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ عثمان بلوچ سمیت کئی لوگوں کو رہائی مل گئی۔

پھر فخرالدین جی ابراہیم سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج مقرر ہوئے۔ انھوں نے جنرل ضیاء الحق کے عبوری آئینی حکم (PCO) کو قبول نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے کا موقع ضایع کردیا اور پھر کراچی میں نئے سرے سے وکالت شروع کردی۔ بے نظیر کی پہلی حکومت میں وہ سندھ کے گورنر مقرر ہوئے۔ انھوں نے سندھ میں سیاسی مصالحت کے لیے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو قریب لانے کی کوشش کی مگر جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو برطرف کیا اور گورنر فخرالدین جی ابراہیم کو ہدایت کی کہ سندھ حکومت کو برطرف کردیں تو فخرالدین جی ابراہیم نے فوری طور پر استعفیٰ ایوان صدر بھجوادیا۔ بے نظیربھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وہ اٹارنی جنرل بنائے گئے مگر بے نظیر کے طرز حکومت سے مایوس ہوئے۔ جب ان کے مشورے کے بغیر شریف الدین پیر زادہ کو صوبہ سرحد کی حکومت کے خلاف مقدمے میں وفاقی حکومت نے اپنا وکیل مقرر کیا تو فخرالدین جی ابراہیم مستعفی ہوگئے۔ صدر فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کو برطرف کرکے ملک معراج خالد کو عبوری وزیراعظم بنایا تو فخرالدین جی ابراہیم کو وزیر قانون کا عہدہ سونپا گیا۔

فخرالدین جی ابراہیم نے انتہائی مختصر عرصے میں احتساب آرڈیننس اور شہریوں کے جاننے کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے اطلاعات کے حصول کے قانون کا مسود ہ تیار کیا۔ مرحوم لغاری ان قوانین کے حق میںنہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ فخرالدین جی ابراہیم کے تیارکردہ احتساب کے قانون کے دائرے میں میاں نوازشریف بھی آتے تھے۔ ایک بار پھر فخرالدین جی ابراہیم مستعفی ہوکر کراچی آگئے۔ جب انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے عدالتی فعالیت کے منفی اثرات کے خلاف آوا ز اٹھائی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو فخرالدین جی ابراہیم اور موجودہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے ایک مشترکہ خط میں عاصمہ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کے لیے مناسب امیدوار قرار دیا۔ جب 18 ویں اور 20 ویں ترامیم کی منظوری کے بعد شفاف انتخابات کے لیے عبوری حکومت اور خودمختار الیکشن کمیشن کے قیام کا مرحلہ آیا تو ذرائع ابلاغ پر یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ نئے انتخابات کے بجائے بنگلہ دیش کی طرح ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس تناظر میں مختلف لوگوں کے نام بھی سامنے آئے، یہ بھی کہا جانے لگا کہ عالمی مالیاتی ادارہ اس منصوبے کے حق میں ہیں۔ پیرپگارا اور شیخ رشید انتخابات نہ ہونے کی پیش گوئی کرنے لگے۔

جمہوری استحکام کے تسلسل پر یقین رکھنے والے ایکٹوسٹوں کے اصرار پر 80 سالہ فخرالدین جی ابراہیم نے یہ مشکل عہدہ قبول کیا مگر بعض حلقے ان کے اس تقرر پر خوش نہیں تھے۔ پہلے ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک منصوبے کے تحت سامنے لایا گیا پھر ان کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ فخرالدین جی ابراہیم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ الیکشن کمیشن کی بیورو کریسی ان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ الیکشن کمیشن کی بیوروکریسی اور ریٹرننگ افسروں نے اپنے تعاون نہ کرنے کا اظہار 11 مئی کے انتخابات کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر جو بدنظمی نظر آئی اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ الیکشن کمیشن کے لیے قانون کے تحت چاروں صوبوں سے نامزد ہونے والے اراکین اور چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کے تضادات کھل کر سامنے آئے، ان اراکین نے فخرالدین جی ابراہیم سے تعاون نہیں کیا۔ فخرو بھائی نے بعض سیاستدانوں اور صحافیوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے صدارتی انتخابات پر تنقید ہونے لگی۔ مگر فخرالدین جی ابراہیم نے استعفیٰ دے کر بہت سے معاملات کو عیاں کردیا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نواز شریف نے فخرالدین جی ابراہیم کو خراج تحسین پیش کرکے ان کے استعفیٰ کے معاملے کو نمٹانے کی کوشش کی ہے مگر فخر الدین کا استعفیٰ بہت سے سوالات کو واضح کررہا ہے۔ اس ملک میں کسی بڑے عہدے پر فائز فرد کے استعفیٰ کی روایت نہیں ہے۔ فخر الدین کے استعفیٰ کی اہمیت کو محسوس کیا جانا چاہیے اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے اور چیف الیکشن کمشنر سے بیوروکریسی کے عدم تعاون کے معاملے کو ختم کرنے کے لیے موثر قانون سازی کی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں بھارت کے خودمختار الیکشن کمیشن کے تجربات سے فائدہ اٹھانا مفید ثابت ہوگا۔ شفاف الیکشن کا معاملہ صرف حکمران جماعت مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کا نہیں بلکہ یہ عوام کی حکمرانی کا بھی معاملہ ہے۔ پارلیمنٹ ہی شفاف انتخابات کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔ فخرالدین جی ابراہیم نے کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کی سوچ کی پاسداری کی، ان کا نام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔