اشرافیہ کا ایک اور یوم آزادی

پاکستانی عوام کا یوم آزادی 14 اگست 1947ء کو آیا تھا اس کے بعد یہ دن رفتہ رفتہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے نام کر لیا۔


Abdul Qadir Hassan August 14, 2013
[email protected]

ہم پاکستانی عوام کا یوم آزادی 14 اگست 1947ء کو آیا تھا اس کے بعد یہ قومی دن رفتہ رفتہ قوم سے چھین کر ہمارے حکمرانوں نے اپنے نام کر لیا اور اب تک وہ ماشاء اللہ آزاد چلے آ رہے ہیں لیکن ہم عام پاکستانی اب انگریز کی جگہ ان کی غلامی میں آ گئے ہیں۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کی منتقلی نہیں ہوئی بلکہ یہ انگریزوں کے ان ہی کارندوں کے پاس رہا جن کے ذریعہ سات سمندر پار سے آنے والے انگریز ہمارے اوپر حکمران رہے اور ان مقامی کارندوں کی وجہ سے وہ صبح دفتروں میں حکمرانی کرتے رہے سہ پہر کو ٹینس کھیلتے رہے اور شام کو اپنے وطن کی سوغات وہسکی پیتے رہے پھر رات اگر سرد ہوتی تو ہندوستان کی سوغات رضائی اوڑھ کر سو رہے جو ایک بار اوڑھی تو پھر کمبل کو پرے دفع کر کے اسی نرم گرم رضائی اور وہسکی کے نشے میں سردیوں کی راتیں گزار دیں اگر موسم گرم ہوا تو ان کی خوابگاہ کے کھلے کمرے کا پنکھا رات بھر چلتا رہا اس کام پر مقامی مزدور متعین رہے جو راتوں کو جاگ کر کمرے کا بڑا سا جھالر دار پنکھا ہلاتے رہے اور صاحب بستر میں الٹے لیٹ کر منہ تکیے میں چھپا کر خراٹے لیتے رہے۔

یہ پنکھا جھلنے والا مزدور مقامی نمبردار یا ذیلدار کی طرف سے خدمت کے لیے پیش کیا جاتا تھا جو چھوٹے درجے کے اشرافیہ میں شمار ہوتے تھے۔ہندوستان جیسے بڑے ملک میں جو ایک دنیا تھی انگریزوں کی تعداد کبھی چالیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی اس میں فوجی بھی شامل تھے۔ انھوں نے ہندوستانی ذہن کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور ان کی نفسیات کو جان لیا تھا اسی فراست، سوجھ بوجھ اور ہنر مندی سے وہ سو ڈیڑھ سو برس تک حکمران رہے اور برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر سر ونسٹن چرچل کا اصرار تھا کہ ابھی پچاس برس تک ان کو آزادی نہ دی جائے کیونکہ یہ عوام کو کھا جائیں گے اور یہ جرم انگریز کے ضمیر پر بوجھ رہے گا لیکن لیبر پارٹی جو عالمی جنگ بھگت چکی تھی اب ہندوستان کی سونے کی چڑیا پنجرے سے آزاد کر دینا چاہتی تھی البتہ وہ جاتے جاتے اپنے پروردہ اشرافیہ کو حکومت دے گئی جو مقامی امراء و رئوسا پر مشتمل تھی ان میں سے کچھ تو نسل در نسل رئیس چلے آ رہے تھے اور کئی ایک کو زمینیں اور جاگیریں دے کر انگریزوں نے رئیس بنا دیا تھا۔ ہندوستان کی سول انتظامیہ کا اونچا طبقہ بھی اپنے آپ کو اشرافیہ کا رکن سمجھتا تھا اور فوج تو طاقت ور تھی ہی جس نے پاکستان کے حکمران اور بانی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا اور دلی میں بیٹھے اپنے کمانڈر انچیف کا حکم مانا تھا تو اہل پاکستان ہم اس طرح ایک کی گوری غلامی سے نکل کر دوسرے کی کالی غلامی میں آ گئے جو ہمارے جانے پہچانے اور اپنے تھے۔

نئے آزاد پاکستان کی حکمرانی شروع کے چند برسوں میں تو مسلم لیگ کے ان قائدین کے سپرد رہی جن کو اس ملک کا درد تھا اور وہ اسے اپنی ذمے داری سمجھتے تھے لیکن یہ رفتہ رفتہ مر کھپ گئے یا مار دیے گئے۔ یہاں میں پاکستان کے ایک سچے لیڈر سردار عبدالرب نشتر کی بات آپ کو سناتا ہوں میں لاہور میں سیر کے لیے آیا ہوا تھا کہ شاہی مسجد نکل گیا وہاں ایک تقریب منعقد ہونے والی تھی اور گورنر آنے والے تھے کوئی روک ٹوک نہیں تھی میں بھی حاضرین میں بیٹھ گیا۔ تقریب قلعہ کا مسجد کی طرف کھلنے والا بند دروازہ کھولنے کی تھی۔ سردار صاحب نے اپنی تقریر میں فارسی کا ایک شعر پڑھا کہ تم کواڑ کی جس آواز کو دروازہ بند ہونے کی آواز سمجھتے ہو میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز سمجھتا ہوں بس تمہاری اور میری سماعت میں یہی فرق ہے کہ 'تو بستن در و من فتح باب می شنوم'۔

یہ شاعر اور پاکستان کے غلام لوگ جن کے بیٹے گورنر ہائوس لاہور سے ماڈل اسکول تک سائیکل پر جاتے تھے ہمیں رفتہ رفتہ چھوڑ کر چلے گئے اور ان میں سے جو باقی رہ گئے وہ بعد میں ایوب خان کی کنونشن لیگ میں شامل ہو کر اپنی اشرافیت بچا گئے لیکن پاکستان پر ایسے مسلط ہوئے کہ آج تک پیر تسمہ پا بنے ہوئے ہیں اور اقتدار اپنی نئی نسل کو سونپ جاتے ہیں۔ یہ ان پڑھ اور کھلنڈرے صاحبزادے ہم دیکھ رہے ہیں اور ان میں سے کئی ایک وزیر بھی ہیں۔ بات بہت ہی تفصیل طلب ہے یہاں مختصراً یہ کہ ہم شریف اور روائت پسند انگریزوں کی باقیات کی غلامی میں زندہ ہیں وہ باقیات جو انھوں نے اپنے اقتدار کی سہولت کے لیے جمع کی تھیں یہ ہوشیار لوگ فوراً ہی انگریز کے چھوڑے ہوئے خلا کو پُر کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے اپنے حالیہ الیکشن میں ان ہی لوگوں کو منتخب کیا ہے جو کسی دوسرے نام سے سامنے آئے تھے۔ اب یہ ہمارے حکمران ہیں جو ہم نے خود ہی حکمران بنائے ہیں اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ دیوانے نے خود اپنی زنجیر بنائی ہے۔

قوم کو اس کے یہ منتخب حکمران تو ملتے نہیں ہیں وہ ہم اخبار نویسوں کو فون کرتے ہیں اور ہم انھیں اپنے ایم پی اے یا ایم این اے سے ملنے کا کہتے ہیں تو بڑی بے بسی سے جواب دیتے ہیں کہ وہ تو ملتے ہی نہیں ہیں اس پر میں تو ان کو خوب جھاڑتا ہوں کہ اپنے فیصلے کا نتیجہ بھگتو۔ بہر حال عرض یہ ہے کہ اب اشرافیہ ہی ہمارا حکمران ہے جو 1947ء میں منصوبہ بنا رہا تھا کہ کس طرح اس نئے ملک پر قبضہ کیا جائے۔ وہ اس میں کامیاب رہے کبھی کسی جرنیل کی صورت میں کبھی کسی چوہدری کی صورت میں۔ انھوں نے اپنا یہ قبضہ نہیں چھوڑا اور کیوں چھوڑیں جب کہ چھڑوانے والا بھی کوئی نہیں یوں آپ اور ہم سب مل کر اشرافیہ کو آزادی کی مبارک باد پیش کریں کہ مائی باپ کچھ بچ جائے تو چند ٹکڑے ہمیں بھی مرحمت ہوں۔

مقبول خبریں