ایچ ای سی نے جامعات کی گرانٹ میں مزید30فیصد کٹوتی کر دی

کٹوتی وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے مختص بجٹ میں کمی کے بعد کی گئی،سرکاری جامعات میں جاری مالی بحران بڑھ گیا


Safdar Rizvi August 15, 2013
این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی کو ماہ اگست کی موصولہ گرانٹ میں15 سے 20 ملین روپے کی کمی کی گئی ہے. فوٹو: فائل

اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مالی سال2013-14کے لیے سرکاری جامعات کی منظورشدہ گرانٹ میں مزید 30 فیصد کٹوتی کردی ہے سندھ کی سرکاری جامعات کودی گئی گرانٹ 30 فیصد کٹوتی کے ساتھ جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبے کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سیکریٹریٹ گرانٹ میں کٹوتی اورجامعات کے مالی بحران پر خاموش ہے اور سرکاری جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں لاسکی ہے،کٹوتی سرکاری جامعات کودی جانے والی غیر ترقیاتی گرانٹ میں کی گئی ہے گرانٹ میں کٹوتی وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک ماہ قبل شروع ہونے والے رواں مالی سال کے مختص بجٹ میں کمی کے بعد کی گئی ہے کٹوتی کے بعدکراچی سمیت سندھ کی سرکاری جامعات کواگست میں ملنے والی گرانٹ 30 فیصد کمی کے ساتھ جاری کی گئی ہے جس کے سبب سرکاری جامعات میں مالی بحران بڑھ گیا ہے،سرکاری جامعات بدترین مالی خسارے سے دوچارہیں اورملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے۔



این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی کو ماہ اگست کی موصولہ گرانٹ میں15 سے 20 ملین روپے کی کمی کی گئی ہے،''ایکسپریس''کواین ای ڈی یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایاکہ این ای ڈی یونیورسٹی کواگست کی گرانٹ کی مد میں 57 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ہرماہ کی منظورشدہ گرانٹ 77 ملین روپے ہے جس کے سبب صرف رواں ماہ این ای ڈی یونیورسٹی کو20 ملین روپے کے خسارے کا سامنا ہے،جامعہ کراچی کواگست کی غیرترقیاتی گرانٹ کی مد میں87 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، نئے مالی سال 2013-14کے لیے ایچ ای سی نے جامعہ کراچی کیلیے 103ملین روپے کی غیر ترقیاتی گرانٹ کی منظوری دی تھی،جامعہ کراچی میں ماہانہ تنخواہوں کی مد میں 150ملین روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔

جامعہ کراچی میں شاہ خرچیوں کاسلسلہ جاری ہے بدترین مالی بحران کے دوران عید سے دوروز قبل لیوانکیشمنٹ کی مد میں ملازمین کو 45 ملین روپے اور تدریسی عملے کو 3 کروڑ روپے جاری کی گئے ہیں،صوبے کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سیکریٹریٹ جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کردار ادا کرنے سے قاصر ہے سندھ حکومت نئی قائم ہونے والی سرکاری جامعات کو تو فنڈفراہم کررہی ہے تاہم کئی عشروں سے سندھ میں قائم سرکاری جامعات کے لیے کوئی فنڈ نہیں جبکہ گورنر سیکریٹریٹ کے پاس بھی اس مسئلہ کاکوئی حل موجود نہیں ہے جس کے باعث جامعات کا مالی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے۔

مقبول خبریں