افغانستان اتحادی فوج کا حملہ 2 افغان شہری مارے گئے متعدد زخمی

راکٹ حملہ صوبہ کنڑ میں کیا گیا جسکا ہدف طالبان شدت پسند تھے،اتحادی فوج کا دعویٰ،مرنے والے عام شہری تھے،میڈیا کی رپورٹس


News Agencies August 15, 2013
2014 کے بعد بھی افغانستان کے مستقبل کا انحصار غیر ملکی افواج پر ہوگا، جنگ زدہ ملک میں بیرونی فورس ضروری ہے، جنرل جوزف ڈینفورڈ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

افغانستان میں اتحادی فوج کی جانب سے کیے گئے راکٹ حملے میں کم از کم دو افغان شہری ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج کی جانب سے مشرقی صوبہ کنڑ میں راکٹ حملہ کیا گیا جس میں 2 شہریوں کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں زخمی ہونیکی اطلاعات ہیں، اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ راکٹ طالبان کے ٹھکانے پر فائر کیا گیا ہے اور مارے جانے والے طالبان شدت پسند تھے تاہم آزاد ذرائع ابلاغ کے مطابق مرنے والے دونوں شہری تھے۔ ادھر افغانستان میں اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈینفورڈ نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے خاتمے اور اتحادی فوج کے انخلاء کے بعد بھی افغانستان کے مستقبل کا انحصار غیر ملکی افواج پر ہی ہوگا۔



غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل ہیڈکوارٹر میں دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل جوزف نے کہا کہ 2014 میں اتحادی فوج کے انخلا کے بعد بھی جنگ زدہ ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی ناگزیر ہے۔ اگرچہ افغان سیکیورٹی فورسز کو سلامتی کی تمام تر ذمے داریاں منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور 2014 تک عملی طور پر تمام تر کنٹرول افغان فورسز کے ہاتھوں میں چلا جائے گا تاہم یہ ممکن نہیں ہے کہ غیر ملکی افواج کے بغیر سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ افغان مشن کب کامیاب ہوگا لیکن ہمارا مقصد مضبوط محفوظ اور مستحکم افغانستان کی بنیاد ہے اور ہم اس مشن پر گامزن ہیں۔