پرمٹ ملتے ہی آسٹریلیاکوآم بھیج دینگےپاک ہارٹی فریش

آسٹریلوی حکام نے صرف پاکستان کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی منظوری دی


Business Reporter August 15, 2013
امپورٹ پرمٹ ملتے ہی آسٹریلیا کو پاکستان سے آم کی پہلی کھیپ روانہ کردی جائے گی ۔ فوٹو: فائل

پاک ہارٹی فریش کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بابر خان درانی نے کہا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے۔

جس کے لیے آسٹریلیا نے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے طریقے کی منظوری دی ہے،آسٹریلیا کو آم کی برآمد کے لیے امپورٹ پرمٹ ملتے ہی آسٹریلیا کو پاکستان سے آم کی پہلی کھیپ روانہ کردی جائے گی۔ مقامی ہوٹل میں خصوصی بریفنگ کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بابر خان درانی نے بتایا کہ پاک ہارٹی فریش کمپنی پاکستان کی واحد ایکسپورٹ کمپنی ہے جسے آسٹریلیا کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے آم برآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی پاکستان کے لیے 7 اہم ملکوں کی منڈیاں کھلوانے میں اہم کردار اداکرچکی ہے جن میں چین، اردن، ماریشس، لبنان، ساؤتھ کوریا، ایران اور اب آسٹریلیا شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا آم کی بڑی منڈی ہے آسٹریلیا میں سالانہ 40ہزار ٹن آم درآمد کیا جاتا ہے، امریکا اور تھائی لینڈ آسٹریلیا کو آم برآمد کرنے والے بڑے ممالک ہیں، آسٹریلیا کو آم کی برآمد کے لیے تین سال سے کوششیں جاری تھیں۔



آسٹریلیا نے آم کی درآمد کے لیے امریکا کی طرز پر اری ڈیشن پراسیس کو لازمی قرار دیا ہے تاہم پاک ہارٹی فریش کی ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ میں مہارت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو خصوصی طور پر ہاٹ واٹرٹریٹمنٹ کے ذریعے پراسیس کیے گئے آم برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک ہارٹی فریش کمپنی کے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر رواں سیزن کے دوران 22ہزار ٹن آم ٹریٹمنٹ کرکے ایگزیکٹو منڈیوں کو ایکسپورٹ کیے گئے ہیں جن کی پراسیسنگ کے لیے 15روپے فی کلو چارجز وصول کیے جارہے ہیں۔

اس موقع پر درانی ایسوی ایٹس کے چیف ایگزیکٹو اے کیو خان درانی نے کہا کہ پاکستان میں آم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فارم کی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، انڈسٹری میں پراسیسنگ پلانٹ اور ٹریٹمنٹ کی سہولیات پر سرمایہ کاری کی جاچکی ہے تاہم جب تک پراڈکٹ کا معیار بہتر نہ کیا جائے ہائی ویلیو منڈیوں سے بھرپور استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ درانی ایسوسی ایٹس نے گزشتہ دو سال کے دوران دنیا کے سات اہم ملکوں میں پاکستان آم متعارف کرائے ہیں جن میں ایران، ماریشس، ساؤتھ کوریا، اردن، لبنان، چین اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درانی ایسوی ایٹس کے پاس دو ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے پلانٹ ہیں ایک پلانٹ 15ٹن جبکہ دوسرا پلانٹ 10ٹن فی گھنٹہ ٹریٹمنٹ کی صلاحیت کا حامل ہے۔