شاہ محمود اور حسین حقانی سے 75ہزار ڈالر کی وصولی سے گریز

امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر کی سفارش پر سابق وزیرخارجہ نے رقم کی منظوری دی تھی


Online August 26, 2012
امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر کی سفارش پر سابق وزیرخارجہ نے رقم کی منظوری دی تھی

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی سے امریکی لابنگ فرم کو 75 ہزار ڈالر کی خلاف ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے گریز کررہی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں جون 2008ء میں امریکی لابنگ فرم کو ادا کی گئی 75ہزار ڈالر کی رقم کو خلاف ضابطہ قرار دے کر ذمے داروں سے وصولی کی سفارش کی جا چکی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ خلاف ضابطہ ادائیگی کے ذمے داران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق سفیر حسین حقانی ہیں۔ عہدیدار نے اعتراف کیا کہ سابق سفیر کی سفارش پر وزیر خارجہ نے ادائیگی کی منظوری دی تھی۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے توسط سے امریکا میں لابنگ کیلیے امریکی فرم لاک لارڈ بسل اینڈ لیڈل (ایل ایل پی) کی خدمات حاصل کی تھیں۔

فرم کی خدمات معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تاریخ سے آئندہ ایک سال تک 75ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض حاصل کی گئیں۔ جون 2008ء میں امریکا میں تعینات اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے وزارت خارجہ کو خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فرم کے ساتھ معاہدہ 29 مئی 2008ء سے نافذ العمل ہے۔ وزارت خارجہ کو آگاہ کیا گیا کہ فرم کے شراکت دار مارک سیگل نے سفارتخانے کو ایک انوائس بھیجی ہے جس میں اپریل 2008ء کیلیے 75ہزار ڈالر اور مئی 2008ء کیلیے 77 ہزار 908 ڈالر فیس طلب کی گئی ہے۔

مارک سیگل نے قرار دیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد فرم نے پاکستان کیلیے لابنگ کرنے کی خدمات کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ حقانی نے وزارت خارجہ کو آگاہ کیا کہ انھوں نے مارک سیگل کو باہمی رضا مندی کے ذریعے ایک ماہ کے معاوضے پر راضی کرلیا ہے اور وزارت خارجہ نے حسین حقانی کی سفارش پر سیگل کو 75ہزار ڈالر کی ادائیگی کردی۔ آڈٹ رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ معاہدے کے نافذ العمل ہونے سے قبل کی ادائیگی غیر مجاز ہے اور اس کی وصولی کی جانی چاہیے۔ 3 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود خلاف ضابطہ ادائیگی کی وصولی کے ضمن میں پیش رفت نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں