کرکٹ بورڈ نے نیا ٹیلنٹ آزمانے کا سنہری موقع گنوادیا

’’لندن کراؤن کورٹ کہاں ہے‘‘ میں نے جب قریبی ٹیوب اسٹیشن سے باہر آنے کے بعد ایک شخص سے یہ سوال پوچھا تو۔۔۔


Saleem Khaliq August 17, 2013
زمبابوے کو کراچی یا لاہور کی ڈومیسٹک ٹیم بھی ہرا دے گی اس کے باوجود سلیکٹرز کا تجربات سے گریز سمجھ سے باہر ہے۔ فوٹو : فائل

WASHINGTON: ''لندن کراؤن کورٹ کہاں ہے'' میں نے جب قریبی ٹیوب اسٹیشن سے باہر آنے کے بعد ایک شخص سے یہ سوال پوچھا تو اس نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ '' یقینا پاکستانی کرکٹرز کے مستقبل کا جاننے کے لئے وہاں جا رہے ہوں گے'' پھر اس نے مجھے راستہ بتا دیا، وہاں پہنچا تو باہر اتنے ٹی وی کیمرے دیکھے جو کبھی انگلینڈ میں کسی کرکٹ میچ میں بھی نہیں نظر آئے۔

قرب و جوار میں موجود دفاتر میں کام کرنے والے برطانوی، چینی، جاپانی اور دیگر اقوام کے لوگ حیرت سے اس جم غفیر کو دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے، میں جب اندر داخل ہوا تو سامنے موجود صوفہ سیٹ پر سلمان بٹ اور محمد آصف وکلا سے گفتگو کرتے دکھائی دیے،اوپنر کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں جبکہ پیسر بالکل مطمئن نظر آئے، میں نے جب دونوں سے الگ الگ بات چیت کی تو وہ بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹتے دکھائی دیے، اس کے بعد کمرہ عدالت میں جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جب یوم آزادی پر مجھے آصف کے اعتراف جرم کا علم ہوا تو یہ تمام واقعات کسی فلم کی طرح نگاہوں کے سامنے چلنے لگے، میں تو صرف چند روز لندن میں رہا اور وہاں ہر کوئی پاکستانیوں کو بے ایمان سمجھ رہا تھا،برطانیہ میں مقیم ہمارے ہم وطنوں کے ساتھ کیا ہوا ہو گا اس کا تو تصور بھی پریشان کر دیتا ہے۔



لفظی تیروں نے ان کو چھلنی کر دیا جس کی وجہ سے کرکٹ پر سے اعتبار بھی اٹھ گیا ہو گا، اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث تینوں کرکٹرز میں صرف آصف ہی کا اطمینان قابل دید تھا، سزا ملنے کے بعد بھی وہ کیے پر پشیمان دکھائی نہیں دیے، ان کے لئے جیل جانا بھی نئی بات نہیں تھی، پرس میں چرس رکھ کر وہ دبئی پولیس کی مہمان نوازی سے بھی مستفید ہو چکے تھے، ممنوعہ ادویات کا استعمال،اداکارہ وینا ملک کے ساتھ محبت و نفرت کی کہانی، مالی تنازعات سمیت ان کے اسکینڈلز کی تعداد کرکٹ کارناموں سے زیادہ ہے۔ عام زندگی میں بھی ایک جرم کرنے والا سہما ہوا نظر آتا ہے مگر جو عادی ہو چکا ہو اسے کسی بات کی گھبراہٹ نہیں ہوتی، شائد آصف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے،کئی برس قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بعد آج انھیں اپنے کیے پر افسوس ہونے لگا، یہ بھی کوئی نیا پینترہ لگتا ہے۔



پاکستانی کرکٹ اور کرکٹرز سے محبت کرتے ہیں، ان کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانے کے بعد ملوث پلیئرز نے کئی بار معصوم سا چہرہ بناتے ہوئے کوشش کی کہ خود کو بے گناہ ثابت کیا جائے،معاملے کو کبھی بھارت تو کبھی کسی اور کی سازش قرار دیا گیا، بیچارے سادہ لوح عوام بھی ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر بے وقوف بنتے رہے۔ بعض لوگوں سے بحث ہوتی تو وہ تو اسے امریکی سازش تک قرار دے دیتے، انھیں کیا پتا کہ ہمارے اپنے لوگ اب ایسے کام کر جاتے ہیں جن کا سوچنا بھی مشکل لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، کرپشن سے کروڑوں روپے جمع کرنے والے بعض لوگ آج بھی ہیرو بن کر ٹھاٹ سے زندگی گذار رہے ہیں۔

کچھ نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے مذہب کا سہارا بھی لیا۔ ایسے افرادکو دیکھ کر ہی عامر، سلمان اور آصف کے ذہن میں لالچ نے جنم لیا ہو گا، انھوں نے سوچا جب ہمارے ''ہیروز'' یہ سب کچھ کر ہی ٹھاٹ سے جی رہے ہیں تو ہم بھی ایسا ہی کیوں نہ کریں۔ انھیں علم نہیں تھا کہ اب میڈیا ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہے لہٰذا بچنا محال ہو گا، اسی لیے پکڑ میں آ گئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے معاملات سے سبق سیکھ کرٹھوس اقدامات کیے جاتے لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا، الٹا اب عبوری چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، عامر کو ریلیف دلا کر اپنے تئیں ملک کی خدمت کرنا چاہ رہے ہیں۔



پہلے بھی یہ بات کہی جا چکی کہ ان تینوں کرکٹرز کا اب کھیل سے دور رہنا ہی بہتر ہے، ملک کی جتنی بدنامی ہونی تھی ہو چکی، انھوں نے اچھی خاصی رقم تو جمع کر ہی لی ہو گی اب اس کے سہارے آسانی سے باقی کی زندگی گذر سکتے ہیں لہٰذا کرکٹ چھوڑ کر کسی اور شعبے میں طبع آزمائی کریں۔ آصف اور سلمان اگر معافی مانگ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ دوبارہ گرین شرٹ زیب تن کر سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، البتہ گھر کے برآمدے میں یہ شوق ضرور پورا کر سکتے ہے، ہم اپنے پسندیدہ کھیل کرکٹ کو مزید داغدار ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔

ہمیں حنیف محمد، جاوید میانداد، عبدالقادر اور ظہیر عباس جیسے ایماندار کرکٹرز کی ضرورت ہے، یقینا ً اب بھی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں میں ملک کے لئے کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہو گا شائقین انہی کو سرآنکھوں پر بٹھائیں، یقین مانیں آپ کو عامر ، آصف اور سلمان جیسے کئی اچھے کرکٹرز مل جائیں گے، ان کی بیجا حمایت کرنا ترک کر دیں اس سے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔

فکسرز تیار کرنے کا کام کرنے والے ایک اور پاکستانی دانش کنیریا بھی ان دنوں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کیے ہوئے ہیں۔ نجانے وہ کتنی عدالتوں کا چکر کاٹ چکے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اچھی خاصی رقم بھی جمع کی ہوئی ہے ورنہ اتنی جگہ کیس کرنا آسان بات نہیں۔

کنیریا کی کرپشن بھی ثابت ہو چکی لیکن وہ بھی اسے ماننے کو تیار نہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی دن سلمان اور آصف کی طرح ڈھٹائی سے پریس کانفرنس میں تسلیم کرلیں کہ ہاں میں نے بھی غلط کام کیے،معافی بھی ایسے مانگیں گے جیسے الٹا ملک پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ یہ درست ہے کہ ان کے معاملے میں انگلینڈ نے دہرا معیار اپناتے ہوئے ملوث کرکٹر ویسٹفیلڈ کو سخت سزا نہیں سنائی لیکن دانش کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ جیل کی ہوا کھانے سے بچ گئے، عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بجائے وہ رقم سنبھال کر رکھیں تو بہتر ہو گا کیونکہ ان کی بھی کرکٹ میں واپسی کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے۔

طوفانوں میں گھری پی سی بی کی کشتی اب سنبھلتی نظر آ رہی ہے، نجم سیٹھی نے عبوری چیئرمین بننے کے بعد بلند و بانگ دعوے کیے وہ روز میڈیا سے گفتگو کے خواہاں بھی نظر آئے لیکن جب انھیں اس سے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوا تو اب لو پروفائل میں رہ کر معاملات چلا رہے ہیں،ان دنوں وہ بورڈ پر مقدمات کرنے والے افراد کو خاموشی سے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس میں کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ ہر کسی کا اپنا ایجنڈا موجود اور جو خوش نہ ہوا اس کے لئے سب سے آسان بات چند ہزار روپے خرچ کر کے رٹ پٹیشن دائر کرنا ہے۔



پاکستان میں انٹرنیشنل مقابلے تو ہو نہیں رہے لیکن اختیارات کے چکر میں لوگ دست گریباں ہیں، عدالت میں کئی کھیلوں کے کیسز چل رہے ہیں، ایسے میں سب سے اچھا حل یہ ہے کہ اسپورٹس کی اپنی ایک الگ کورٹ بنا لی جائے، اس میں اچھی ساکھ کے حامل ریٹائر ججز کا تقرر کریں، کیس کرنے کی فیس بھی بھاری رکھی جائے تاکہ حقیقی متاثرہ افراد ہی اس سے رجوع کریں، عام عدالتوں میں ویسے ہی مقدمات کی بھرمار ہے، انھیں کھیلوں میں لگا دیا تو دیگر معاملات کا کیا ہو گا۔ اس عدالت کو عالمی ثالثی عدالت برائے کھیل کی طرز پر قائم کیا جائے، مشورے دینے کے لئے سابق پلیئرز اور منتظم بھی موجود ہوں اس سے اسپورٹس تنازعات جلد حل کرنے میں ضرور مدد ملے گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اب زمبابوے جانے کی تیاری کر رہی ہے، میزبان کا حال بہت خراب ہے، پرفارمنس تو کبھی اچھی رہی نہیں ایسے میں پلیئرز نے مالی معاملات پر ٹریننگ کا بائیکاٹ کر دیا، بورڈ نے گرین شرٹس سے سیریز منسوخ ہونے سے بچانے کے لئے مطالبات پر حامی بھی بھر لی، اس کے باوجود مسائل جلد ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق سے بھی زمبابوین ٹیم کے 5کرکٹرز کے نام بتانے کو کہا جائے تو شائد انھیں مشکل کا سامنا کرنا پڑے، اس کے باوجود ان بیچاروں سے مقابلے کے لئے مصباح، حفیظ، یونس خان، سعید اجمل اور شاہد آفریدی جیسے اسٹارز کا انتخاب کیا گیا۔

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کا شور مچانے والے سلیکٹرز کو اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا تھاکہ نوجوانوں کو آزمایا جائے مگر انھوں نے ربڑؑ اسٹیمپ کا کردار ادا کیا، شائد اس کی وجہ ہر ماہ پی سی بی سے ملنے والا بھاری رقم کا چیک ہو، سینئرز سے ناراضی کا مطلب مستقبل میں سیٹ گنوانے کا خطرہ ہے، ایسے میں کیوں کوئی کسی کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کرے، پی سی بی اگر چاہے تو اسے کئی اعزازی سلیکٹرز بھی مل سکتے ہیں، معاوضہ لینے والا اپنے ملازمت بچانے کے لئے بولڈ فیصلوں سے گریز کرے گا،البتہ اگر کوئی کوئی رقم نہ لے تو اس میں کسی بڑے پلیئر کو ڈراپ کرنے کی جرات بھی ہو گی، ویسے ہمارے سینئر کھلاڑی بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، انھیں ڈر ہے کہ کہیں کسی سیریز کے لئے آرام کیا اور نیا پلیئر پرفارم کر گیا تو واپسی مشکل ہو جائے گی، اسی لیے اگر کل کلاں کو بورڈ نمیبیا سے بھی سیریز رکھ دے تو سب کھیلنے کے لئے دوڑے چلے آئیں گے۔



میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں کہ زمبابوے کو کراچی یا لاہور کی ڈومیسٹک ٹیم بھی ہرا دے گی اس کے باوجود سلیکٹرز کا تجربات سے گریز سمجھ سے باہر ہے، وہ کم از کم بھارت کی ہی مثال لیتے جس نے کپتان دھونی کو آرام کا موقع دیا تو کوہلی کو بطور قائد گروم ہونے کا موقع مل گیا،کئی نئے پلیئرز نے بھی صلاحیتیں منوا لیں، خود مصباح کو ہی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرام کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا ، ایسے میں شاہد آفریدی سب سے آگے نظر آئے جنھوں نے ایک بار پھر حق بات کہنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا اور اعتراف کر لیا کہ ''سیریز میں سینئرز کو ریسٹ دینا چاہیے تھا، اگر انھیں اس کا کہا جاتا تو وہ تیار ہوتے''۔ مستقبل قریب میں سری لنکا اور جنوبی افریقہ سے سیریز ہونی ہیں ان میں تو نوجوانوں کو آزمایا نہیں جائے گا، ایسے میں حالیہ موقع گنوا کر سلیکٹرز نے جو جرم کیا جس کی سزا ٹیم مستقبل میں بھگتے گی۔

پی سی بی نے یو اے ای میں ہونے والی اگلی دونوں '' ہوم سیریز'' کے نشریاتی حقوق فروخت کرنے کے لئے ٹینڈرز جاری کر دیے۔ ماضی میں 5سال کے لئے معاہدہ ہوتا رہا ہے، سابقہ معاہدہ 140.5ملین ڈالر کا تھا، صرف2سیریز کے لئے یقینا ً رقم کم ہو گی، اس سے ایسے اداروں کو فائدہ مل سکتا ہے جو غیر ملکی چینلز کے برابر سرمایہ کاری نہیں کر سکتے۔ بعض ناقدین تو اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ نجم سیٹھی نے ایسا اپنے ٹی وی چینل کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا، بہرحال سچ کیا ہے وہ چند روز میں سامنے آ جائے گا، مگر حالیہ معاملے میں نجم سیٹھی کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ چکی ہے، ایسے میں وہ خود نہیںچاہیں گے کہ کسی ایک واقعے سے اچھی شہرت داغدار ہو۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ دنوں ڈے نائٹ ٹیسٹ کا شوشا چھوڑا مگر سری لنکا نے اس غبارے سے ہوا نکال دی، اس قسم کے معاملات جب تک فائنل نہ ہو جائیں میڈیا پر نہیں لانے چاہئیں۔ بورڈ نے اعلان کر دیا کہ ہم نائٹ ٹیسٹ کرا کے تاریخ رقم کرنے والے ہیں، آئی لینڈرز نے کہا کہ ہم تو کھیلنا ہی نہیں چاہتے، اگر اس معاملے میں پہلے سری لنکن بورڈ سے خط و کتابت کر لی جاتی تو مناسب رہتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ کوئی ٹیم کیسے اتنی جلدی پنک بال سے فلڈ لائٹس میں کھیلنے کو تیار ہو جاتی، سری لنکا تو ویسے ہی کم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر تنقید کی زد میں ہے، ایسے میں اب اگر ہارا تو ناقدین کی توپوں کا رخ بورڈ کی جانب ہو جائے گا، لہٰذا وہ کوئی ایسا تجربہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پاکستان پہلے خود مزید نائٹ فرسٹ کلاس میچز کرائے جس کی کامیابی دیگر ممالک کو بھی یہ تجربہ کرنے پر مجبور کر دے گی، اسی کے بعد نائٹ ٹیسٹ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔

[email protected]