ایکسپریس… ایک سچ مچ کا آزاد صحافتی ادارہ
روزنامہ ایکسپریس سے اس کی انتہائی آزادانہ پالیسی کی وجہ سے ملازمانہ نہیں ایک جذباتی تعلق بھی رکھتا ہوں۔
ISTANBUL:
گزشتہ جمعہ کے دن ایک حملہ اسلام آباد میں ہماری انتظامیہ کی بے مثل نالائقی پر ہوا' دوسرا حملہ کراچی میں ایکسپریس میڈیا گروپ پر ہوا جس میں گولیاں چلیں' لوگ زخمی ہوئے اور پاکستان کے سچ مچ کے حق گو اور آزاد میڈیا کو کسی نے اپنی طرف سے خوب ہراساں کیا۔ میں ایکسپریس سے متعلق ہوں۔ یوں تو میں بھی یکے از ملازماں ادارہ ہوں لیکن بطور ایک کالم نویس کے میں اخبار روزنامہ ایکسپریس سے اس کی انتہائی آزادانہ پالیسی کی وجہ سے ملازمانہ نہیں ایک جذباتی تعلق بھی رکھتا ہوں۔ میں نے کبھی اپنی تعریف نہیں کی' کوئی جملہ کبھی غلطی سے نکل گیا ہو تو معذرت خواہ ہوں کیونکہ اپنے اخبار ہی میں اپنی تعریف کرنے سے گھٹیا بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ احساس کمتری کی انتہا کہی جا سکتی ہے۔ بہرکیف کسی کو کوئی دور دراز کا الزام دیے بغیر میں اپنی کالم نویسی کے کچھ واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مدح خود ہرگز نہیں اپنے ساتھیوں کی تفریح طبع یا اپنے جونیئرز کے لیے ایک نصیحت سمجھئے اور میرے ادارے کی آزاد پالیسی کی ایک مثال۔
میں نے برسوں پہلے پرانے زمانے کی صحافت کے ایک موثر اخبار سے صحافت کا آغاز کیا۔ بلاشبہ یہ ایک موقر اور باوقار اخبار تھا۔ اس اخبار' اس کے ایڈیٹر اور یہاں کام کرنے والے سینئر صحافیوں کی نگرانی اور سرپرستی میں مجھے صحافت کا پہلا سبق ملا۔ یہ میری خوش قسمتی کہ میں نے یہ سبق یاد کر لیا اور اس کی رہنمائی میں صحافت کرتا رہا۔ میں یہاں سب ایڈیٹر رہا' ایڈیٹوریل اسسٹنٹ رہا اور پھر رپورٹر۔ میں نے اس اخبار میں اپنے بزرگوں کی رہنمائی میں رپورٹنگ سیکھی۔ تب رپورٹنگ ایک فن تھا محض نقل نویسی نہیں تھی۔ اگر اپنے وقت کے جید سیاسی لیڈر اپنی پریس کانفرنس شروع کرنے کے لیے میرا انتظار کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ان کے خیالات کو بلاتعصب نقل کرتا تھا اور بوقت ضرورت بعض سوالات کے ذریعے ان کی بات کو با وزن بنا دیتا تھا۔ ان کی مدد بھی کرتا تھا مثلاً ایئر مارشل اصغر خان نے پریس کانفرنس کی۔ بھٹو صاحب کا زمانہ تھا وہ چھپ نہیں سکتی تھی۔
میں نے ایڈیٹر سے عرض کیا کہ اگر صرف اتنی خبر لگا دوں کہ آج ایئرمارشل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو یہ خبر تو حکومت کے لیے قابل اعتراض نہیں ہو گی۔ چنانچہ چند سطروں کی یہ خبر یا اطلاع چھپ گئی اور ''ائر مارشل نے کیا کہا'' کے سوال سے ملک گونج اٹھا۔ ان کی پریس کانفرنس شاید وہ کام نہ کر سکتی جو اس پراسرار خبر نے کر دیا۔ میں نے دوران رپورٹنگ بھی کسی لیڈر کے اعتماد اور اعتبار کو دھوکہ نہیں دیا چنانچہ لیڈروں نے ہمیشہ مجھ پر مہربانی کی۔ ایوب خان کی گول میز کانفرنس میں شیخ مجیب کی شرکت ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گئی۔ کونسل لیگ کے چند لیڈروں کے اصرار پر ایوب خان شیخ مجیب کی آمد پر راضی ہو گئے چنانچہ نوابزادہ نصراللہ خان نے اشارے سے مجھے بلایا اور میرے کان میں کہا کہ مجیب الرحمٰن کل آ رہا ہے۔ میرے اخبار کی اس شہ سرخی نے دھوم مچا دی۔ یہ سب سیاسی رہنماؤں کے اعتماد اور مہربانی کی وجہ سے تھا۔
ایک لیڈر اس گول میز کانفرنس سے واپس آ کر اپنے ساتھیوں کو تفصیل کے ساتھ کانفرنس کی کارروائی سے آگاہ کرتے تھے اور ان کی اس بریفنگ میں مجھے کسی کونے میں بیٹھنے کی اجازت تھی چنانچہ میرے اخبار میں کانفرنس کی مستند خفیہ کارروائی چھپ جاتی تھی۔ میں نے رفتہ رفتہ روزمرہ کے حالات کو اپنے کالم کا موضوع بنا لیا اور یوں جدید سیاسی کالم نویسی کی بنیاد رکھ دی جو کسی نہ کسی صورت میں اب تک اخباروں میں نظر آتی ہے لیکن میں مضمون نہیں صرف کالم لکھتا ہوں اور اس میں پوری ذہنی آزادی کے ساتھ خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔ میری طویل صحافتی زندگی میں مجھے اتنی آزادی پہلے کبھی نہیں ملی۔ میرا اخبار کاروباری لوگوں کا اخبار ہے جن کے مسائل بہت ہیں اور حکومتوں سے وابستہ بھی ہیں لیکن مجھے انتہائی تعجب ہے کہ مجھ سے کبھی قلم روکنے کی بات نہیں کی گئی۔ میں اپنے اخبار کے متعلقہ ایڈیٹروں کو تنگ کرتا رہتا ہوں کہ مجھے پالیسی بتائیں یا یہ کہ میں کہیں مالکان کے لیے مشکلات تو پیدا نہیں کر رہا وہ قطعاً کوئی اعتراض نہیں کرتے۔
میں اپنے پہلے اخبار کو بعض ذاتی وجوہات کی بناء پر چھوڑ کر ایک بڑے کثیر الاشاعت اخبار سے وابستہ ہو گیا۔ اپنے وقت کا سب سے مہنگا کالم نویس۔ کسی نے مالک ایڈیٹر سے کہا کہ اتنے پیسے کیوں دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس سے میرے اخبار کی اشاعت میں پانچ ہزار کا اضافہ ہو گا لیکن بعد میں ایڈیٹر نے بتایا کہ اشاعت میں اضافہ دس ہزار سے زائد کا ہوا ہے۔ اس بڑے اخبار میں ایک خرابی اس کی بیورو کریسی تھی جس میں مختلف سخت خیالات کے لوگ تھے اور میں ان کا نشانہ تھا کیونکہ وہ مجھ سے کوئی بات منوا نہیں سکتے تھے چنانچہ انھوں نے میری کمزوری تلاش کر لی اور بھارت کی مخالفت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام لکھنے سے منع کر دیا (بعد میں ڈاکٹر صاحب اس اخبار کے کالم نویس بن گئے) اور اس سوال پر میں نے چپکے سے استعفیٰ دے دیا۔
بعد میں اس ادارے کی نہایت ہی محترم شخصیات نے گستاخی معاف مجھ سے معافی تک مانگی کہ آئندہ غلطی نہیں ہو گی لیکن میں اس وقت جناب سلطان علی لاکھانی محترم سے معاہدہ کر چکا تھا، واپسی ممکن نہیں تھی اور یہ معاہدہ میری ذہنی صحت کے لیے ایک تریاق ثابت ہوا۔ میں نے کبھی کسی ادارے سے تنخواہ نہیں مانگی جس نے جو دے دی میں نے قبول کر لی کیونکہ میں خاص پشتی پس منظر کی وجہ سے ملازمت کو معیوب سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے کامیاب ہفتہ وار رسالے بھی نکالے لیکن کاروباری وصف سے بالکل محروم ہونے کی وجہ سے یہ بند ہو گئے اور مجھے ملازمت کرنی پڑی کہ یا تو صحافت چھوڑ کر زمینوں کی دیکھ بھال کروں یا قلم چلاؤں۔ میں قلم چلانے کا عادی ہو چکا ہوں اور یہی کچھ کر رہا ہوں۔ زمینیں دوسروں کے حوالے۔
بات آزادی صحافت سے شروع ہوئی تھی جس میں کچھ مجھے اپنے بارے میں بھی مجبوراً عرض کرنا پڑا۔ میں اتنی عرض کر سکتا ہوں اور حیرت زدہ ہو کر عرض کرتا ہوں مجھے لکھنے کی جس قدر آزادی ایکسپریس میں ہے اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں اگر اس اخبار کا مالک بھی ہوتا تو اتنی آزادی سے نہ لکھ سکتا۔