استدعا بحضور پُر نور برائے ممنونیت
آج کل سے نہیں بلکہ شروع سے آپ ممنون تھے، ممنون ہیں اور ممنون رہیں گے۔
محترم جناب صدر مملکت دام اقبالہ
بعد از سلام و تسلیمات کے عرض بحضور پر نور فیض گنجور یہ ہے کہ آپ کے بارے میں تو اس خاکسار ہیچ مدار، ذرہ بے مقدار کو علم ہے کہ آپ ممنون ہیں، آج کل سے نہیں بلکہ شروع سے آپ ممنون تھے، ممنون ہیں اور ممنون رہیں گے۔ کسی ایک جانب سے نہیں بلکہ چار بلکہ چھ اطراف سے آپ ممنون ہی ہیں۔ پوچھنا صرف یہ ہے کہ آپ اتنا زیادہ ممنون ہونے کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی ممنون کر سکتے ہیں یا نہیں۔ کسی اور کے پردے میں دراصل اشارہ ہمارا اپنی طرف ہے کیوں کہ اس فدوی نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ہے، بھگتا ہے اور پایا ہے، دنیا میں ایسی کوئی بے بسی نہ ہو جو اس خاکسار کے گھر برتن نہ مانجھتی ہو، ایسی کوئی مصیبت نہیں جس سے اس خاکسار نے دو بول نہیں پڑھوائے ہوں، مطلب یہ کہ بندے کے پاس خدا کا دیا ہوا، حکومت کا تھوپا ہوا اور اپنا کمایا ہوا سب کچھ موجود ہے۔ غربت ہے، مفلسی ہے، بے بسی ہے، بے کسی ہے تقریباً ہر محکمے کی مہربانیاں ہیں، سب کچھ ہے لیکن اگر نہیں ہے تو ممنونیت نہیں ہے، ایسا نہیں کہ اس فدوی نے کوشش نہ کی ہو بلکہ زندگی بھر ہم نے صرف یہی ایک کام کیا ہے کہ کوئی ہمیں ''ممنون'' کرے بلکہ اگر ساتھ میں تھوڑا سا ''مشکور'' بھی کر دے تو چلے گا لیکن قسمت میں ممنونیت نہیں تھی۔
آپ سوچیں گے کہ اٹھارہ کروڑ بندوں میں سے صرف اکیلا یہ خاکسار ہی آپ سے ''ممنون'' کرنے کی استدعا کیوں کر رہا ہے تو اس کا بہت بڑا کارن ہے۔ دراصل جس عہدے پر آپ فائز تھے اس پر اس خاکسار کی بھی ایک مدت سے نظر تھی اور اس مرتبہ تو ہمیں یقین تھا کہ میاں صاحب ہمیں ہی ممنون فرمائیں گے کیوں کہ ایک تو ان کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑے پرانے ہیں، ملاقاتیں ان سے اتنی زیادہ ہوتی رہی ہیں کہ ان کی تعداد بھی نہ ان کو یاد ہے نہ ہمیں، ہمارا ان سے ہمیشہ ٹیلی پیتھی رابطہ بھی رہا ہے لیکن الیکشن ہونے کے بعد نہ جانے کیا ہوا شاید ٹیلی پیتھی نیٹ ورک بہت بزی ہو گیا یا ہمارے پاس بیلنس ختم ہو گیا یا انھوں نے اپنے ذہن کو نو رپیلائی پر کر دیا تھا چنانچہ سلسلہ وہیں سے ٹوٹ گیا تھا جہاں سے انھوں نے وزارت عظمیٰ کا سلسلہ جوڑا تھا۔ ہم بار بار ٹرائی کرتے رہے لیکن واں ایک خامشی ترے سب کے جواب میں، خیر جو کچھ ہوا اس کی ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ جس گھر مانگنے جاتے ہیں یا تو وہاں ''پکی'' نہیں ہوتی اور یا ختم ہو چکی ہوتی ہے، آپ کے انتخاب سے ہمیں کوئی شکایت نہیں، جناب میاں نواز شریف بڑے جوہر شناس ہیں، انھوں نے ممنون کرنے کے لیے آپ کو موزوں جانا،کوئی بات نہیں لیکن اب ہمیں ممنون کرنا تو آپ کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے، صرف آپ کے دو انگلیوں کی حفیف سی حرکت اور چھوٹے سے دستخط سے ہم ممنون و مشکور ہو سکتے ہیں تو خدا کے لیے کر ڈالیے۔
ہم پوچھنے کی زحمت بھی آپ کو نہیں دیں گے کہ ہمیں کس طرح ممنون کیا جا سکتا ہے۔ کچھ زیادہ بڑی بات نہیں، نہ ہم کوئی پلاٹ مانگتے ہیں نہ پرمٹ نہ لائسنس وغیرہ حتیٰ کہ آپ کے صوابدیدی فنڈ سے بھی کچھ ثواب نہیں چاہیے، بس ایک چھوٹی سی حاجت ہے، کسی چھوٹے سے صوبے کا چھوٹا سا گورنر لگا دیجیے، ہم دھنیہ ہو جائیں گے۔ دراصل اس میں ہماری کوئی خود غرضی یا لالچ پوشیدہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے گورنری کا از حد شوق ہے، ہمارے والدین بھی اکثر ہمیں گورنر بیٹا ،گورنر بیٹا کہا کرتے تھے اور ان کو پکا پکا یقین تھا کہ ہمارا یہ بیٹا بڑا ہو کر ایک دن گورنر ضرور بنے گا، وہ اکثر ایک دن، ایک دن بہت کرتے تھے یعنی ایک دن یہ ہو گا، ایک دن وہ ہو گا، اس لیے ایک دن گورنر بنے گا بھی ان کا تکیہ کلام تھا، اس لیے اگر آپ اس ''ایک دن'' پر زیادہ ٹرسٹ کریں گے تو بھی چلے گا۔
صرف ایک دن کے لیے ہی سہی گورنر بنا دیجیے گا، ہم ''نظام سقہ'' کی طرح نہیں ہیں کہ ایک دن کی بادشاہت میں چمڑے کے سکے چلا دیں گے، ویسے اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ آئی ایم ایف کے پاس چمڑا اتارنے کے لیے بڑے زبردست آلات اور مشینریاں موجود ہیں، گورنری ہم ایک تو اسی لیے چاہتے ہیں کہ ہمارا بچپن کا خواب اور والدین کی تمنا تھی لیکن ایک دوسری وجہ بھی ہے، ہم ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ گھگو بجا کر اپنے محلے والوں کو ترسانا چاہتے ہیں جن کے خیال میں ہم کچھ ہیں ہی نہیں، خیر اگر یہ بھی ممکن نہیں تو صبر کا ایک بڑا سا پتھر ہمارے پاس بچپن سے ہی موجود ہے جو ہمارے خاندان میں صدیوں سے وراثت کے طور پر چلا آ رہا ہے چنانچہ ہمیشہ کی طرح ہم ایک مرتبہ پھر وہ پتھر کی سل اپنے دل پر رکھ لیں گے، ویسے بھی اب ہماری خواہش، تمنائیں اور آرزوئیں نہایت ہی بوڑھی ہو کر تھک چکی ہیں اور گرنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہیں،
تھک تھک کر ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
لیکن ایک اور خواہش ہے خدا کے لیے منع مت کریئے اور ممنون بنا ہی دیجیے، یہ خواہش اگرچہ بہت بڑی ہے، اتنی بڑی کہ ہمارا چھوٹا سا منہ اس کے لیے کم پڑ گیا ہے، اس لیے اخبار کے منہ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، خواہش یہ ہے کہ آپ کے دولت خانے بلکہ صدارت خانے میں بہت ساری چیزیں استعمال ہوتی ہوں گی اور وہ از کار رفتہ بھی ہو جاتی ہوں گی، ہمارا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جن کے دو نہیں بلکہ چار پیر ہوتے ہیں، دو پیروں والی کباڑی چیزیں تو ہماری سیاست میں ڈھیروں ڈھیر پائی جاتی ہیں، ملک کی چھوٹی سی چھوٹی پارٹی کے ہاں بھی منوں ٹنوں بلکہ ریلوں اور ٹرکوں کے حساب سے ''دو پیروں والا کباڑ'' بہت ہے، اس لیے ہمیں صرف وہ کباڑ مرحمت فرما دیجیے جس کے چار پیر ہوتے ہیں جیسے میزیں کرسیاں وغیرہ ۔۔۔ یا جن کے پیر سرے سے ہوتے ہی نہیں جیسے برتن بھانڈے ،کاغذ ردی ٹیلی فون اور قلم قلمدان وغیرہ ۔۔۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ایوان صدر سے مرحمت کیے جانے والے اس کباڑ کو ہم بیچیں گے نہیں اپنے ہاں سنبھال کر رکھیں گے اور کبھی کبھی لوگوں کو مرعوب کرنے کے کام میں لائیں گے مثلاً یہ جو ٹوٹی پھوٹی کرسی ہے۔
یہ وہ کرسی ہے جس پر بیٹھ کر جناب ضیاء الحق نے پہلی تقریر ریکارڈ کرائی تھی اور یہ جو گھسا ہوا قلم ہے یہ وہی قلم ہے جس سے مرحوم یا شہید بھٹو کی رحم کی درخواست پر نہ لکھاتھا، اور یہ جو میز ہے غور سے دیکھئے جس پر کچھ لکھا ہوا ہے جس میں رہائی کا لفظ اب بھی پڑھا جا سکتا ہے، یہ میز چوہدری فضل الٰہی کے زیر استعمال رہی ہے اور یہ ٹوٹی پھوٹی سائیکل وہی ہے جس پر سوار ہو کر ضیاء الحق نے ایوان صدر کے چکر لگائے تھے، یہ وہ فیکس مشین ہے جسسے بھٹو صاحب لوگوں کو فکس کرتے تھے اور یہ وہ ہینگر ہے جس سے جناب مشرف رات کو اپنی وردی لٹکاتے تھے اور یہ جو پرانا سا ٹیلی فون ہے یہ وہی ہے جس کے ذریعے صدر رفیق تارڑ صاحب مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ تارڑ تارڑ کیا کرتے اور ایسی ہی چند اور اشیاء ہمیں ممنون کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔
آپ کا منتظر ممنونیت
ناممنون خان