معیشت اور امن عامہ کی بہتری ناگزیر

بیچارے عوام مہنگائی، بیروزگاری ، بہیمانہ جرائم، اور روزمرہ کے مسائل میں شب وروز الجھے ہوئے ہیں۔


Editorial April 18, 2019
بیچارے عوام مہنگائی، بیروزگاری ، بہیمانہ جرائم، اور روزمرہ کے مسائل میں شب وروز الجھے ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان نے ملکی معیشت کی خبریں سن کر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی قراردیا کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی مزید خراب ہونے کی باتیں بتائی جاتی ہیں، کبھی سنتے ہیں کہ معیشت آئی سی یو میں چلی گئی ہے، کبھی کہا جاتا ہے معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے ۔

چیف جسٹس کے ان چند بلیغ فقروں میں ملکی معیشت کا درد ِ مشترک قوم کے سامنے سمٹ آیا ہے جب کہ بعض اقتصادی ماہرین اور معاشی مبصرین اس بحران کو معیشت کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی ناتدبیریوں سے تعبیر کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی نیت تو ٹھیک ہے مگر وزارت خزانہ بریک تھرو کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کیونکہ پولیٹیکل اکانومی میں پیداشدہ بگاڑ یا ملکی معیشت میں مضمر خرابیوں کے تسلسل سے پھوٹنے والے مسائل کا سدباب کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیے گئے عشائیے سے خطاب میں ہزارہ برادری کی درد انگیز صورتحال پر صدمے کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کو احتجاج کرتے دیکھتے ہیں لیکن کوئی نہیں سنتا، ملک کی لااینڈ آرڈر کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ تحقیقات کے نتائج نہیں نکلتے، یہ سب سن کر ہمیں مایوسی ہوتی ہے ۔تاہم انھوں نے امید دلائی کہ معاشرے میں سب کچھ برا نہیں، انصاف کے شعبہ میں اچھے کام بھی ہو رہے ہیں، نظام انصاف کا حصہ قانونی چارہ جوئی کرنے والے سائلین ہیں، دیکھنا ہوگا کیا ہم سائلین کے لیے وہ سب کر رہے ہیں جو کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کا پہلا فرض عوام کی خدمت ہے، پولیس کے خلاف شکایات کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جس ادارے کے خلاف سب سے زیادہ تحفظات ہیں اسی ادارے میں بہتری کی سوچ آئی ہے، ملک کے ہر ضلع میں قتل اور منشیات کے مقدمات کے لیے ماڈل کورٹس قائم کی ہیں ، دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ ماڈل کورٹس نے 12 دن میں 1618 مقدمات کے فیصلے کیے ، فوری انصاف کے لیے نظام بدلا نہ ہی قانون ، وکلاء اس نظام میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں، عدلیہ نے گزشتہ تین ماہ میں دو لاکھ مقدمات نمٹائے ۔ملک بھر میں تین ماہ کے عرصے میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 19 لاکھ سے کم ہو کر 17لاکھ رہ گئی، 2 لاکھ مقدمات کا بوجھ کم ہوا ہے۔

بلاشبہ حکومت کا اولین ٹاسک یہ ہے کہ فرسودہ معاشی نظام کی اصلاح ہو تاکہ معاشی ٹیم کی اہلیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، انصاف سستا ہو، معاشی روڈ کرسٹل کلیئر ہو اور معاشی اہداف تک رسائی کو وزیراعظم کے طے شدہ پروگرام کی روشنی میں نہایت سرعت کے ساتھ مکمل کیا جائے مگرافسوس ہے کہ ابھی تک حکومت اور اس کی معاشی ٹیم سمت کی درستگی کے مخمصہ میں گرفتار ہے۔

اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کی سب سے بڑی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں منظوری کیوں نہیں دی گئی۔ کیا اسد عمر نے ایمنسٹی اسکیم کا خاکہ پیشگی طور پر وزیراعظم کے سامنے نہیں رکھا تھا جب کہ اس پر گزشتہ دو ماہ سے میڈیا میں گرما گرم بحث چل رہی ہے ، سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اسکیم کا حجم کیا ہے ،حکومت کو اسکیم سے کتنے ارب یا کھربوں کا فائدہ ہوگا۔مسئلہ کا ایک پہلو اپوزیشن کی اسکیم کے خلاف شدید نکتہ چینی بھی تھی۔ادھراسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی اور سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوبنے کی اطلاعات نے بھی کاروباری حلقوں میں سراسیمگی پھیلادی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما میاں فرخ حبیب نے ایک ٹی وی ٹاک میں کہاکہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تومعیشت تباہ حال تھی، 40 سال کی حکومتوں کی خرابیاں ہیں وہ 8ماہ میں درست نہیں ہو سکتیں، وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے مطابق اقتصادی بحران کی وجہ شریف اور زرداری خاندانوں کی کرپشن ہے، میڈیا میں اس نکتہ پر بھی بحث جاری ہے اگر یہ پورا سچ بھی ہے تب بھی اس کا عدالتی فیصلہ کی میزان میں تلنا باقی ہے، قانون ماہرین کی تشویش اس بات پر ہے کہ محض الزام کا عائد ہونا غیر عدالتی فیصلہ کا درجہ پا لے تو بحران کے اثرات ومضمرات ایک بڑے کرائسس کا شاخسانہ بن سکتے ہیں اور بدقسمتی سے موجودہ صورتحال اسی محور پر گھوم رہی ہے ۔

بیچارے عوام مہنگائی، بیروزگاری ، بہیمانہ جرائم، اور روزمرہ کے مسائل میں شب وروز الجھے ہوئے ہیں، حکومتی توجہ شفاف انتظامی اقدامات پر مرکوز ہے، بیوروکریسی میں تطہیر اور کرپٹ عناصر کو جیل بھیجنے کے مشن میں مصروف رہنے کی بنا پر جرائم پیشہ عناصر کو چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پولیس معتوب ہے، عوام کو ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں ،کیا ان معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے یا نہیں ۔

مقبول خبریں