پشاور میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ زیادہ پیسوں کے لالچ میں اجنبیوں کو بھی گھر کرائے پر دے دیتے ہیں۔


Editorial April 18, 2019
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ زیادہ پیسوں کے لالچ میں اجنبیوں کو بھی گھر کرائے پر دے دیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

وطن عزیز کے قبائلی علاقوں میں ضرب عضب اور رد الفساد کے عنوان سے دہشت گردی کے خلاف دو مفصل اور کامیاب آپریشن کیے گئے جن کے نتیجے میں ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے بڑی حد تک نجات مل گئی مگر سرحد پار سے کی جانے والی وارداتوں کے پیچھے چونکہ ہمارے دشمن صف آرا ہیں اس لیے وہ بھیس بدل بدل کر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔

اس لیے انھیں ایک جگہ پکڑا جاتا ہے تو وہ دوسری طرف سے سر نکال لیتے ہیں جس طرح گزشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے گنجان آباد علاقے حیات آباد فیز 7 میں ایک تین منزلہ مکان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کو تقریباً 17 گھنٹے طویل آپریشن کرنا پڑا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے ہیں جب کہ ایک اے ایس آئی نے جام شہادت نوش کیا ، فورسز نے علاقے سے محصور افراد کو نکال لیا ہے۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق آپریشن میں مارے جانے والے دو دہشت گردوں کی شناخت عمران سکنہ افغانستان اور فیروز شاہ سکنہ جمرود کے ناموں سے ہوئی، دونوں کالعدم تنظیم سے وابستہ تھے۔ باقی دہشت گردوں کی لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مکان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر رات چھاپہ مارا تو اہلکاروں پر فائرنگ کردی گئی۔

آپریشن میں پولیس سمیت پاک فوج کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد کس قدر تربیت یافتہ تھے اور ان کے پاس جدید اسلحہ بھی موجود تھا۔حیات آباد پشاور کا ایک پوش ایریا سمجھا جاتا ہے، اس علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ لوگ کرائے داروں کے حوالے سے غفلت اور لا پروائی کرتے ہیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ زیادہ پیسوں کے لالچ میں اجنبیوں کو بھی گھر کرائے پر دے دیتے ہیں یا پراپرٹی ڈیلر مالک مکان کو گمراہ کرتے ہیں۔اس حوالے سے عوام کے لیے بھی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں خطرات سے آگاہی حاصل ہوسکے۔حیات آباد پشاور میں دہشت گردوں نے گھر کیسے کرائے پر حاصل کیا، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کار اور ہینڈلرز تک رسائی ممکن ہوسکے۔

مقبول خبریں