رواں سیزن 4 کروڑ ڈالر سے زائد ایک لاکھ 22 ہزار ٹن آم برآمد

گزشتہ سال کی مجموعی برآمد سے بھی 3کروڑ 80 لاکھ ڈالر زائد ہے، ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن


Business Reporter August 19, 2013
رواں سیزن آم کی برآمد کا ہدف ایک لاکھ 75ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

رواں سیزن کے دوران 4 کروڑ 14 لاکھ ڈالر مالیت سے زائد کا ایک لاکھ 22 ہزار ٹن آم برآمد کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ 18ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا تھا۔ رواں سیزن آم کی برآمد کا ہدف ایک لاکھ 75ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ اب تک کی جانے والی ایکسپورٹ گزشتہ سال کی جانے والی مجموعی 3کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق ابھی ایک ماہ سے زائد کا سیزن باقی ہے اور مجموعی برآمدات ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد رہنے کی توقع کی جارہی ہے بارشوں اورسیلاب کے سبب ایک لاکھ 75ہزار ٹن کے مجموعی ہدف کو حاصل کرنا دشوار ہے تاہم پی ایف وی اے کی بھرپور کوشش ہے کہ ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جائے اس سال آم کی برآمد میں لاجسٹک مسائل کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



شپنگ کمپنیوں نے برآمدی کنسائمنٹ پورٹ سے تاخیر سے اٹھائے جبکہ ایئرلائنز میں بھی جگہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا کسٹم کی سطح پر پیش آنے والے مسائل بھی ہر سال کی طرح برقرار رہے۔ برطانوی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فروٹ فلائی کی موجودگی کو جواز بناکر بھاری مالیت کی کھیپ روک لی گئی جس کو بازیاب کرانے میں حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا پاکستانی آم کو دبئی کی مارکیٹ میں بھی معیار سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کیو جہ سے جون کے مہینے میں آم کے برآمد کنندگان کو ریکارڈ خسارے سے دوچار ہونا پڑا۔

رواں سیزن جاپان کو محدود پیمانے پر کمرشل ایکسپورٹ شروع ہوگئی تاہم کوئی بڑی مارکیٹ نہ کھل سکی، آسٹریلیا نے پاکستان کو کلیئر کردیا تاہم رواں سال ٹرائل شپمنٹ کی جائیں گی، عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی 30ہزار ٹن کی مارکیٹ بند رہی، آم کے سیزن کے دوران رمضان کی وجہ سے اسلامی ملکوں بالخصوص مڈل ایسٹ، سعودی عرب، یو اے ای، افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں کی جانب سے آم کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا جس سے گزشتہ سال کی مجموعی برآمدات سے زائد مالیت کا آم برآمد کیا جاچکا ہے۔ رواں سیزن پی ایف وی اے نے سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ مل کر ملائیشیا اور سنگاپور میں آم کے روڈشوز منعقد کیے جس میں بھرپور رسپانس حاصل ہوا۔