بلوچستان کے آنسو پونچھئے

دہشتگرد یا نامعلوم مسلح قاتل کسی بھی جگہ روہوش ہوں وہ قانون اور ریاست کی گرفت سے نکل نہ پائیں۔


Editorial April 19, 2019
دہشتگرد یا نامعلوم مسلح قاتل کسی بھی جگہ روہوش ہوں وہ قانون اور ریاست کی گرفت سے نکل نہ پائیں۔ فوٹو: فائل

ملکی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین بلوچستان کی صورتحال میں ابتری کی گزشتہ چند ہفتوں سے نشاندہی کر رہے تھے، صوبہ کی سیاسی اپوزیشن نے بھی دو روز قبل ارباب اختیار کی توجہ دہشتگردی کی ممکنہ وارداتوں اور حالات خراب کیے جانے سے متعلق سیکیورٹی حلقوں سے چوکنا رہنے کی بات کی مگر شاید سیاسی موج ِخوں کے سر سے گزر جانے کی شدت اور حساسیت پر مصلحت غالب رہی اور بدقسمتی سے اسی عرصہ میں پاکستان کے دشمنوں نے بزدلانہ وار کیا اور بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ کے قریب مکران کوسٹل ہائی وے پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے 14 افراد کی زندگی کے چراغ گل کر دیے۔ یہ حکومت کا تشویش ناک طرز تغافل ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی اور اس اندوہ ناک واقعے کی سخت مذمت کی۔

لیویز ذرایع کے مطابق افسوسناک واقعہ اورماڑہ کے علاقے بوزی چڑھائی کے قریب پیش آیا جہاں پر نامعلوم مسلح افراد نے کراچی سے گوادر اور گوادر سے کراچی جانے والی مختلف مسافر بسوں کو روکا، مسلح افراد نے مختلف افراد کو ان کے شناختی کارڈ سے شناخت چیک کرنے کے بعد بس سے اتارا، کچھ فاصلے پر لے جا کر ان کے ہاتھ پیچھے سے باندھے اور فائرنگ کر کے قتل کر دیا، اخباری اطلاع کے مطابق دو مسافروں نے بھاگنے کی کوشش کی تاہم زخمی ہونے کے باوجود موت سے بچ گئے انھوں نے ایک قریبی چیک پوسٹ پر جاکر پناہ لی۔

اورماڑہ کی یہ شاہراہ کراچی اور گوادر کے درمیان بسوں کی نقل وحمل کے حوالے سے کافی مصروف بتائی جاتی ہے، واقعے کے بعد دہشتگرد موقع سے فرار ہو گئے۔ دوسری جانب پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بوزی ٹاپ کے قریب کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے سول بسوں میں سوار 14 افراد میں پاک بحریہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے مستونگ میں 2015ء میں بھی ایسا دلگداز واقعہ پیش آیا تھاجس سے سیاسی حلقوں اور بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریکوں سے وابستہ سیاسی رہنماؤں تک نے بھی لاتعلقی ظاہر کی اور اسے افسوسناک قرار دیا، واقعتاً اس نوعیت کا قتل عام بلوچستان کی انقلابی جدوجہد کی مسلمہ مقامی تحریکوں کی روح کے خلاف سمجھا گیا جس میں کہ مقامی وغیر مقامی بے گناہ لوگوں کو قتل کیاگیا۔

تاہم اس واقعے سے حکمرانوں کو بیدار ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں سب اچھا نہیں،سیاسی ارتعاش دوبارہ صوبہ میں لوٹ آیا ہے، گزشتہ چند ہفتوں میں بلوچستان کو ایک بار پھر دہشتگردی، فرقہ واریت اور ریاست دشمنی کی آگ میں جھونکنے کے لیے غیر ملکی ہاتھ حرکت میں آ گیا ہے، داخلی مزاحمتی رویے میں انسان دشمنی کا یہ اظہار ناقابل برداشت ہے، ابھی کوئٹہ سانحہ کا زخم مندمل نہیں ہوا کہ مزید 14 افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، ان بیگناہ لوگوں کی موت پر محض رسمی تعزیت اور واقعے کی روایتی مذمت کافی نہیں، بلوچستان حکومت ان سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لے، ان کی تشویش اور برہمی پر سوچے جو دو روز قبل اپنے بیانات اور پریس کانفرنس میں خبردار کر رہے تھے کہ کچھ نادیدہ قوتیں بلوچستان میں سیاسی انتشار اور حکومت کی تبدیلی کی مہم جوئی میں مصروف ہیں۔

سابق دو وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر مینگل ارباب حکومت کی توجہ صوبہ میں بدامنی اور دہشتگردی کے ہولناک خطرات کے حوالہ سے مبذول کرا چکے تھے، وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان حکومت ممکنہ سیاسی اتھل پتھل سے محفوظ ہونے کے لیے راست جمہوری فیصلے کرے، سارے اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر بلوچستان کے بحران اور دہشتگردی کا حل تلاش کریں جب کہ ہلاک کیے گئے مسافروں کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے صدمہ اور دکھوں کا مداوا کریں۔

دہشتگردوں نے اورماڑہ واقعے کے ذریعہ قوم کے قلب کو گھائل کیا ہے، بلوچستان کے آنسو پونچھئے۔ یہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے، جو لوگ گھروں سے نکل کر اپنے وطن میں دوران سفر جرم بے گناہی میں قتل ہوں، ان کے لواحقین کس سے فریاد کریں کہ ان کے پیاروں کا قصور کیا تھا۔ ان کے نالہ و فغان کو بے اثر نہیں جانا چاہیے، بلوچستان اب نہیں تو کبھی نہیں کی دہلیز پار کر چکا۔

دہشتگرد یا نامعلوم مسلح قاتل کسی بھی جگہ روہوش ہوں وہ قانون اور ریاست کی گرفت سے نکل نہ پائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن قوتوں نے بلوچستان کو سی پیک یا کسی اور سیاسی، تزویراتی اور دفاعی ہدف کے طور پر اپنے مذموم منصوبوں میں شامل کیا ہو عین ممکن ہے وہی عناصر پاکستان کو داخلی دشمنوں کے ذریعے مضمحل کرنے کے لیے دہشتگردی کے سافٹ ٹارگٹ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان قوتوں سے نمٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ بلوچستان پر یہ شعر صادق آتا ہے۔

زخموں سے چور چور ہیں اشجار کے بدن

ہے پھر ہوا کے ہاتھ میں خنجر کھلا ہوا

مقبول خبریں