یمن کی جنگ اور صدر ٹرمپ

یمن میں جاری جنگ کے نتیجے میں بدترین انسانی المیہ رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔


Editorial April 19, 2019
یمن میں جاری جنگ کے نتیجے میں بدترین انسانی المیہ رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جو جنگ جاری ہے اس کی حمایت ختم کر دی جائے۔ امریکی ایوان صدر کی طرف سے ایسا دوسری مرتبہ کیا کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کو بہت سخت تصور کیا جا رہا ہے، اس کو صدر کے جنگی اختیار پر قدغن عائد کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے ۔

اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس قرارداد سے امریکی صدر کے آئینی اختیارات میں کمی کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس سے امریکی شہریوں کی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور بہادر عسکری اراکین بھی اس سے متاثر ہوں گے جس کے اثرات اب ہی نہیں آیندہ بھی مرتب ہوتے رہیں گے۔

اس قرارداد سے قبل صدر نے کانگریس سے ہنگامی حالات کے لیے مزید اختیارات طلب کیے تھے تاکہ میکسیکو کی سرحد پر حفاظتی دیوار تعمیر کی جا سکے جس کے لیے کانگریس سے مزید فنڈز کا تقاضا کیا گیا ہے تا کہ مشترکہ سرحد کی حفاظت کا کام مکمل ہو سکے۔

ادھر یمن میں جاری جنگ کے نتیجے میں بدترین انسانی المیہ رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بدترین انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر اور سی ای او ڈیوڈ ملی بینڈ نے کیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ایک کروڑ کے لگ بھگ لوگ قحط کا شکار ہو جائیں گے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ہر ہفتے کم از کم ایک سو افراد ہلاک ہو رہے ہیں ۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ کانگریس کی قرارداد سے امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان حالات میں امریکا کی خارجہ پالیسی کے علاوہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ باہمی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور القاعدہ اور آئی ایس آئی جیسی دہشتگرد تنظیموں پر قابو پانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یمن میں چار سال قبل شروع ہونے والی جنگ میں 10 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا اس جنگ میں اس حکومت کی حمایت کر رہا ہے جسے سعودی عرب تسلیم کرتا ہے۔ امریکا کے ایک طاقتور حلقے کی خواہش ہے کہ امریکا اس جنگ سے باہر نکل جائے ۔

مقبول خبریں