طوفانی بارشیں موسمی تغیرات اور بے بسی

چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 4افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔


Editorial April 19, 2019
چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 4افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ فوٹو: فائل

موسمیاتی تبدیلیاں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔ موسم کے بدلتے تیور اتنے غضبناک ہیں کہ کراچی میں طوفانی ہواؤں سے سترہ کشتیاں سمندر میں ڈوب گئیں ، بتیس ماہی گیر لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے گہرے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیوآپریشن چوتھے روز بھی جاری رہا ۔

دوسری جانب ملک بھر میں شدید طوفانی بارشوں، تیز ہواؤں، ژالہ باری کی وجہ سے کم ازکم 12 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مستقبل کی پیش بندی ترقی یافتہ اقوام نے کی ہے، ہمارے ہاں تو ماحولیات پر بات کرنا، سوچنا اور پلاننگ کرنا حکومتوں کی سرشت میں کبھی شامل نہیں رہا ، عوام تو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے حصول میں سرگرداں ہیں انھیں یہ تک علم نہیں آگے چل کر انھیں مزید کن مشکلات کا سامنا کرنے پڑے گا۔

حالیہ بارشوں اور ژالہ باری سے پنجاب کے 35 ہزار ایکٹر رقبے پرگندم اورمکئی کی فصلوں اور پھلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں بارشوں سے آنیوالے سیلابی ریلوں میں مزید دو بچوں سمیت 3 افراد بہہ گئے، ژوب قومی شاہراہ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث زائرین سمیت پھنسے ہوئے سیکڑوں مسافروں کو ریسکیوکرلیا گیا ۔ نوتال میں ریلوے ٹریک زیر آب آگیا ٹرینوں کی آمدورفت معطل متاثر ہ علاقوںمیں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔

چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 4افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ان تمام خبروں کی ہولناکی ظاہرکرتی ہے کہ ہمارے ماہی گیر،کسان ، مزدور اور دیگر طبقات کو معاشی سطح پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ کاشتکاروں کی فصلیں تباہ ہونے سے غربت بڑھے گی،زرعی اجناس کی کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کے نقصانات کے ازالے کے لیے جنگی بنیادوں پر فوری اقدامات اٹھائے۔

مقبول خبریں