1957 میں چین روس کی جاسوسی کیلیے امریکی طیارے لاہور سے اڑے

امریکی صدر کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین رد عمل میں برلن کا راستہ بند نہ کر دے، رپورٹ


Online August 19, 2013
امریکی صدر کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین رد عمل میں برلن کا راستہ بند نہ کر دے، رپورٹ. فوٹو: فائل

ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے سی124میں 4 یو ٹو جاسوس طیارے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور لائے گئے۔

یہ بات ایک میڈیا رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے سوویت یونین کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کی معلومات حاصل کرنے کیلیے یو ٹو جاسوس طیاروں کا سب سے اہم مشن 1957میں تھا۔ یو ٹو جاسوس طیاروں کے پروگرام کی تاریخ پر عام کی جانیوالی دستاویزات کے مطابق 6مئی 1957 میں امریکی صدر آئزن ہاور نے نائب وزیر دفاع، فضائیہ کے سربراہ اور سی آئی اے کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی، امریکی صدر یہ جاننا چاہتے تھے کہ یو ٹو جاسوس طیارے کی سوویت یونین کے اوپر پرواز پر سوویت یونین کا رد عمل کیا ہو گا،امریکی صدر کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین رد عمل میں برلن کا راستہ بند نہ کر دے اس اجلاس میں امریکی صدر پورے سوویت یونین پر جاسوس طیارے کی پرواز کے خلاف رہے تاہم انھوں نے چند علاقوں میں جاسوس پروازوں کی اجازت دے دی۔



ان علاقوں میں کمچتکا اور بیکل ندی سمیت ایٹمی تجربہ گاہ بھی شامل تھی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوویت یونین کے ان علاقوں پر پروازوں کے لیے پاکستان کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ پاکستانی حکومت اجازت دے دستاویزات کے مطابق پشاور کا ہوائی اڈہ جاسوس طیاروں کی پرواز کے لیے موزوں ترین تھا لیکن ہوائی اڈے پر کام ہو رہا تھا جس کے باعث وہاں سے پروازیں نہیں کی جا سکتی تھیںلاہور سے یو ٹو طیاروں کا مشن4 اگست1957کو شروع ہوا جو 23روز جاری رہا۔

اس مشن میں سوویت یونین اور چین پر جاسوس طیاروں کی پروازیں تھیں اور اس مشن کا نام سافٹ ٹچ رکھا گیا تھا۔ لاہور لائے گئے ان طیاروں کے ساتھ 8 پائلٹ اور دیگر عملہ آیاان4 طیاروں میں سے2 ڈرٹی برڈز تھے یعنی وہ جاسوس طیارے جن پر ریڈار سے بچنے کے الات نصب تھے دستاویزات کی مطابق لاہور سے یو ٹو طیاروں کا مشن4 اگست 1957کو شروع ہوا جو23روز جاری رہا اس مشن میں سوویت یونین اور چین پر جاسوس طیاروں کی پروازیں تھیں اور اس مشن کا نام سافٹ ٹچ رکھا گیا تھا23 روز میں ان طیاروں نے 9 پروازیں کیں جن میں7سوویت یونین اور2 چین پر تھیںسی آئی اے کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سوویت یونین پر کی جانے والی7 پروازوں میں سے صرف ایک پرواز ناکام رہی جب طیارے کا کیمرہ نہیں چل سکا۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سوویت یونین پر لاہور سے پروازوں میں کئی نئی میزائل لانچ سائٹس کا معلوم ہوا۔

مقبول خبریں