وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور نئے چیلنجز

حکومتی ناقدین نے اسے حکومت کے اعتراف شکست سے تعبیر کیا ہے۔


Editorial April 20, 2019
حکومتی ناقدین نے اسے حکومت کے اعتراف شکست سے تعبیر کیا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پرردوبدل اور تبدیلیاں کی ہیں۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے استعفیٰ لے کر ان کی جگہ عبدالحفیظ شیخ کو نیا مشیر خزانہ تعینات کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر بریگیڈئر (ریٹائرڈ) اعجاز شاہ کونیا وفاقی وزیر داخلہ بنادیا گیا ہے۔ شہریارآفریدی ریاستوں و سرحدی علاقوں (سیفران ) کے نئے وفاقی وزیر ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا قلمدان تبدیل کر کے انھیں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی دے دی گئی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات لگادیا گیا ہے۔ غلام سرور خان سے وزارت پٹرولیم واپس لے کر انھیں وزارت ایوی ایشن کی ذمے داری سونپی گئی ہے ۔ ندیم بابر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم تعینات کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیرنجکاری محمد میاں سومروسے ایوی ایشن ڈویژن کی ذمے داری واپس لے لی گئی ہے۔

وفاقی وزیر قومی صحت عامر کیانی کو وزارت صحت سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو وزیراعظم کا مشیر برائے قومی صحت بنا دیا گیا ہے۔ ملکی سیاست اور بالخصوص غیر معمولی بحران سے دوچار اقتصادی و معاشی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے داخلی تبدیلی کا مایوس کن اقدام اٹھایا ہے،اس ''شیک اپ'' کی پی ٹی آئی کے ان لوگوں کو بھی خبر تک نہ ہوئی جو کچھ دیر پہلے معاشی اور سیاسی صورتحال کے سیاق وسباق میں مختلف فورمزپربڑے اعتماد سے اظہار خیال کررہے تھے۔

حکومتی ناقدین نے اسے حکومت کے اعتراف شکست سے تعبیر کیا ہے، کاروباری طبقات اسے معیشت کے بریک ڈاؤن کا شاخسانہ قراردیتے ہیں، اگر ملک گیر رد عمل کا بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام اسے ہوا کا تازہ جھونکا کہہ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گھٹن ،جمود اور بے عملی کی دھند چھٹ جانے کا امکان پیدا ہوا ہے بشرطیکہ حکومت اس تطہیر اور خود احتسابی سے کچھ سیکھ لے ، بہر کیف عوامی حلقوں نے اس اقدام پر مسرت وحیرت کا اظہار کیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں ردوبدل کے حکومت کی کارکاردگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ماہرین کے ایک مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ حکومت نے معیشت کی اصلاح ، مہنگائی کے خاتمہ، روپے کی بے قدری ، عوامی ریلیف اور عالمی مالیاتی اداروں سے ڈیلنگ میں تدبر و حکمت کا مظاہرہ نہیں کیا اور ملک کا معاشی بحران زیادہ گھمبیر ہوتا گیا۔اس بات پر تو سنجیدہ وزراء بھی متفق ہیں کہ اقتصادی ،مالیاتی اور معاشی اقدام اٹھانے میں مشاورت ،فکری و نظریاتی ہم آہنگی کے فقدان اور داخلی چپقلش اور رقابتوں کے باعث اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد میں کافی تاخیر ہوئی جس کا نتیجہ اس بھیانک بھونچال کی صورت میں نکلا۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ وزیراعظم ان سے وزارت خزانہ واپس لے کر وزارت توانائی کا قلم دان دینا چاہتے تھے تاہم میں نے کوئی بھی وزارت لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں انھوں نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، بعدازاں وزارت سے استعفے کے بعد ایف بی آر آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہا اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑا ہوں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ8 ماہ پہلے والی صورتحال نہیں تاہم نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکل حالات کا سامنا ہوگا، آنے والا بجٹ آئی ایم ایف پروگرام کا عکاس ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) نے وزیرخزانہ اسد عمر کے استعفے کو حکومت کی معاشی میدان میں واضح ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے عمران خان نے اپنی ہی وکٹیں گرانا شروع کر دی ہیں ، عمران خان عوام سے جھوٹے وعدے کرنے اور اپنی ناکامی پر قوم سے معافی مانگ کر اپنے حوالے سے بھی اعلان کریں ۔

شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلے دن میثاق معیشت کی پر خلوص پیشکش کی تھی وقت ضایع نہ کیا جاتا تو ملک کو موجودہ معاشی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ، اب ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کر معیشت کو ترجیح دیں ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسد عمر کے استعفیٰ دینے کے بعد تمام پاکستانی مبارکباد کے مستحق ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوری ٹیم 50 اوورز سے پہلے پویلین لوٹ جائے گی۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل کے مطابق اسد عمر کو ہٹانا وزیراعظم کا ایک سخت اور انتہائی اقدام ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ معیشت کے لیے بہت ہی سنجیدہ ہیں ، تاجر برادری کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پاکستان اس وقت سخت ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کیا ، انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ثابت ہوگیا کہ عمران خان کی کابینہ فیل ہو چکی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے۔

عمران خان ٹیم کے کپتان ہیں وہی فیصلہ کریں گے کہ کس سے کیاکام لینا ہے، جمعرات کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسد عمر تحریک انصاف کے کارواں کے صف اول کے سپاہی تھے ہیں اور رہیں گے، پی ٹی آئی کی رہنما اور اطلاعات ونشریات پر وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ لیڈر شپ کبھی گھبراتی نہیں بلکہ کرائسز میں مسائل کے حل کی طرف جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ٹیم کے کپتان ہیں اسد عمرکواس ملک کی معاشی پچ نے سپورٹ نہیں کیا، اسد عمر کی تبدیلی کا فیصلہ عمران خان نے نہیں بلکہ بادشاہ نے کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسد عمر کا ہٹایا جانا حکومت کی معاشی ناکامی کا اعتراف ہے جب کہ لندن سے اسحاق ڈار نے اسد عمر کے وزارت چھوڑنے کے اعلان کو غیر ذمے دارانہ اور بزدلانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 8 مہینے ضایع کرنے کے بعد آئی ایم ایف کا معاہدہ فائنل اسٹیج پر ہے ، بجٹ میں ایک ماہ رہ گیا ہے ، اسد عمر کو میدان نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے اسد عمر کے استعفے سے متعلق کابینہ کو اعتماد میں لیا نہ مشورہ کیا، انھوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا فواد چوہدری کو بھی علم نہیں تھا، معروف ماہر معیشت و نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز کے پرنسپل و ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ ایسے وقت میں وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے ہٹانا وزیراعظم کا بہت مشکل فیصلہ ہے جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف و عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف سے سائیڈ لائن میٹنگز میں مذاکرات کرکے آئے ہیں اور آئی ایم ایف رواں ماہ اپنا جائزہ مشن پاکستان بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

بہرحال صورتحال خاصی چیلنجنگ ہے۔ حکومت کو معاشی بھنور سے قوم کی کشتی کونکالنے کا امتحان درپیش ہے اور اب کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔حکومت کو گڈ گورننس،عوام کو ریلیف اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری پر بھرپور توجہ دینی چاہیے اور ادراک کرنا چاہیے کہ معاشی و سیاسی استحکام اور معرکہ آرائی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

مقبول خبریں