روئی کی قیمتوں میں رواں ہفتے کمی کا خدشہ

بارشوں سے کپاس کی فصل پروائرس کے حملے کا اندیشہ


Ehtisham Mufti August 27, 2012
گزشتہ ہفتے کے دوران کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں فی من روئی کی اسپاٹ قیمت 50 روپے اضافے سے 5850روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے گزشتہ ہفتے اپنے اسٹرٹیجک ذخائرسے روئی فروخت کے فیصلے کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی سطح گزشتہ دوہفتوں سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان معطل ہوگیا اور مندی کے اثرات غالب ہوگئے، بین الاقوامی سطح پر روئی کی قیمتوں میں کمی کے منفی اثرات مقامی کاٹن مارکیٹ میں بھی رواں ہفتے مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاکستان کاٹن جنرزایسوسی ایشن (پی سی جی اے) ایگزیکٹوممبراحسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین نے کاٹن درآمدات کم کرنے کیلیے فی الحال اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 15فیصد روئی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ چین نے روئی کی مزید درآمدات کیلیے بھی 4لاکھ میٹرک ٹن روئی کا کوٹہ جاری کیا ہے چین کی اس دہری حکمت عملی کے باعث توقع ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمت میں قابل ذکر نوعیت کی مندی رونما نہیں ہوسکے گی۔

مقامی کاٹن مارکیٹس میںگزشتہ ہفتے کے دوران عید الفطر کی تعطیلات کے باعث روئی کی تجارتی سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں تاہم پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں بارشوں کے باعث پھٹی کی آمد میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث ملک بھر میں روئی کی قیمت میں قدرے اضافے کا رحجان غالب رہا، گزشتہ ہفتے کے دوران نقد ادائیگی کے روئی کے سودے 6ہزارروپے تا 6050روپے فی من تک جبکہ موخر ادائیگی پر 6ہزار 100 روپے فی من کے حساب سے ہوئے۔

احسان الحق نے بتایا کہ بھارت میں جاری طویل خشک سالی کے باعث بھارتی حکام نے ایک بار پھر کپاس کے مجموعی ملکی پیداواری اعدادوشمار کا اجرا موخر کردیا اورتوقع کی جارہی ہے کہ بھارت اپنی کاٹن ایکسپورٹ پالیسی میں بھی غیر معمولی ترامیم کرے گا تاکہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں کو مطلوبہ مقدار میں روئی کی فراہمی یقینی ہوسکے۔

احسان الحق نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے پرتوقع ہے کہ پاکستان میں جاری توانائی کے سنگین بحران اورامن اومان کی ناگفتہ بہ صورتحال کے پیش نظر بعض پاکستانی ٹیکسٹائل ملزمالکان بنگلہ دیش کی طرز پربھارت کے مختلف شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی ترجیحات کا تعین کرینگے۔ واضح رہے کہ مقامی سطح پر نہ ختم ہونے والے مختلف مسائل اور بدامنی کے باعث بعض ٹیکسٹائل ملزمالکان نے بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں اپنی صنعتوں اورسرمائے کو منتقل کردیاہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 3.65 سینٹ فی پائونڈ اضافے سے 86.40سینٹ فی پائونڈ،اکتوبر ڈلیوری کے سودے 1.79سینٹ فی پائونڈ اضافے سے 74.45 سینٹ فی پائونڈ چین میں ستمبر وعدہ روئی کے سودے 50یوآن فی ٹن اضافے سے 18ہزار720یوآن فی ٹن جبکہ بھارت میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقراررہا اور بھارتی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتیں 367روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 38 ہزار 367 روپے فی کینڈی تک پہنچ گئیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں فی من روئی کی اسپاٹ قیمت 50 روپے اضافے سے 5850روپے کی سطح تک پہنچ گئی، گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں جاری بارشوں کے باعث خدشہ ہے کہ اگر یہ بارشیں مزید کچھ عرصہ تک جاری رہیں تو کپاس کی فصل پر کیڑوں، وائرس اورملی بگ کے حملوں میں اضافہ ممکن ہے لہٰذا کپاس کاشت کرنیوالے کسانوں کو چاہیے کہ وہ کھیتوں سے پانی سے باہر جانیوالے راستے مکمل طورپر صاف رکھنے کے ساتھ کپاس کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کے مکمل خاتمے کویقینی بنائیں جس سے توقع ہے کہ کپاس کی فصل پر کیڑوں، وائرس اور ملی بگ کے حملے میں خاطر خواہ کمی واقع ہونے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوارمیں نمایاں کمی واقع نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں