ڈگری میں آلودہ پانی کی فراہمی سے وبائی امراض پھوٹ پڑے

دست اور ڈائریا سے متاثرین میں 70 فیصد بچے شامل ہیں، شہری پانی ابال کر استعمال کریں، ڈاکٹرز


Nama Nigar August 20, 2013
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس پانی کو ابال کر استعمال کرنا چاہیے لیکن دیہی علاقوں میں شعور نہ ہونے کے باعث اس پانی کو تالابوں اور جوہڑوں میں ذخیرہ کرکے استعمال کیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

تحصیل ڈگری اور نواح میں الٹی، دست، ڈائریا کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ، سیکڑوں مریض نجی،نیم سرکاری، سرکاری اسپتالوں میں داخل، 70 فیصد بچے متاثر۔

تفصیلات کے مطابق نہروں میں سیلابی پانی کی آمد اور شہروں میں بغیر فلٹر پانی کی فراہمی کے باعث سیکڑوں افراد الٹی، دست، ڈائریا اور دیگر وبائی امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ دیگر امراض میں آنتو میں سوزش، درد جیسیبیماریاںشامل ہیں۔ واضح رہے کہ تحصیل ڈگری بیراجی علاقوں کے ٹیل اینڈ ایریا ہے جہاں پر تقریباً تمام نہروں کے آخری سرے واقع ہیں یہاں پر بہہ کرآنے والے پانی میں فیکٹریوں کا کیمیکل سمیت دیگر سیم زدہ اور آلودہ پانی شامل ہوتا ہے جو صحت کے لیے مضر ہوجاتا ہے۔



ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس پانی کو ابال کر استعمال کرنا چاہیے لیکن دیہی علاقوں میں شعور نہ ہونے کے باعث اس پانی کو تالابوں اور جوہڑوں میں ذخیرہ کرکے استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث امراض پھیلتے ہیں۔دیہی علاقوں کی 80 فیصد سے زائد آبادی پیٹ کے مختلف امراض میں مبتلا ہے، ماضی اور حال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے حکومتوں کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ اج بھی عوام حکمرانوں سے پینے کے صاف پانی کا مطالبہ کررہے ہیں جو ان کا بنیادی حق بھی ہے لہٰذا حکومت پاکستان کو اس مسئلے کی طرف توجہ دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

مقبول خبریں