دریائے ستلج راوی اور چناب میں طغیانی مزید سیکڑوں دیہات زیر آب14افراد ہلاک

قصور میں بڑی تباہی کا خدشہ، نالہ ڈیک کا ریلا جی ٹی روڈ سے ملحقہ آبادیوں میں داخل، کامونکی کے 500گھر ڈوب گئے


لاہور: سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد زیرآب بستیوں سے گزرکرمحفوظ مقام کی طرف جارہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے دوران چھتیں گرنے، ڈوبنے اور دیگر واقعات میں 14افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہو گئے جبکہ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی سے تباہ کاری کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا اور مزید سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے۔

گوجرانوالہ کے علاقہ کشمیر کالونی گلی نمبر ایک میں گھر کی چھت گرنے سے محنت کش عبدالرحمان اور اس کی تین بیٹیاں6 سالہ مقدس،5 سالہ رابعہ اور ایک سالہ آمنہ جاں بحق ہو گئیں جبکہ بیوی شمائلہ کو معمولی چوٹیں آئیں۔ لاہور میں گوالمنڈی کے علاقے امیرعلی شاعر روڈ پر قاسم علی کے گھر کی چھت گرنے سے اس کی بیوی اور تین بچے ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے۔ اگوکی کے نواحی قصبہ لودھرے میں بھٹہ مزدور محمد علی کے کوارٹر کی چھت تیز بارش کے باعث گر گئی جس کے نتیجے میں12سالہ بیٹا حسنین اور4سالہ بیٹی طیبہ موقع پر جاں بحق ہو گئی جبکہ بیوی اور ایک بیٹی زخمی ہو گئیں۔ قصور کے گاؤں مہالم کلاں میں مکان کی چھت گرنے اور کرنٹ لگنے سے دین محمد کے بیٹے بیس سالہ اللہ وسایا اور نو سالہ محمد سلیم دم توڑ گئے۔ کامونکی میں سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے 17 سالہ نوجوان بشارت ڈوب کر جاں بحق ہوگیا، ریسکیو ٹیم نے اس کے تین دوستوں کو بچا لیا۔ چنیوٹ کے موضع نوشہرہ سانپ کے ڈسنے اور پانی میں ڈوب کر دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

رکن پور میں سات سالہ بچہ سیلابی پانی میں ڈوب کر، کالاشاہ کاکو میں سانپ کے ڈسنے سے کاشتکار جاں بحق ہو گیا۔ سوات میں مکان کی چھت گرنے سے چھ سالہ بچی دم توڑ گئی۔ علاوہ ازیں دریائے ستلج، راوی اور چناب میں سیلابی صورتحال برقرار رہی۔ دریائے سندھ اور دریائے ستلج میں طغیانی سے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، درجنوں دیہات زیر آب آ گئے۔ بھارت کی طرف سے ستلج میں چھوڑے میں گئے ایک لاکھ 17ہزار کیوسک پانی کا ریلا پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا، جس کے بعد قصور کے قریب ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے۔ فیروزپور ہیڈ ورکس سے 80 ہزار کیوسک پانی کا اخراج کیا جا رہا ہے، گنڈا سنگھ والا کے50سے زائد دیہات کو وارننگ جاری کر دی گئی، دریائے ستلج سے ملحقہ قصبات کوٹھی فتح محمد، باقرکی اورکنگن پور کے سیکڑوں دیہات کو بھی وارننگ جاری کردی گئی۔ ستلج میں طغیانی سے پاکپتن کے درجنوں دیہات بھی ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب سے ساہیوال، ہڑپہ میں سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور کچے مکان گر گئے۔ نالہ کھوت کا پانی کامونکی کے 500 سے زائد گھروں میں داخل ہو گیا، شہر کی گلیاں، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ نالہ حسری اور نالہ ایک میں طغیانی سے تحصیل پسرور کے مزید 70 دیہات زیر آب آ گئے ۔ ہڈیارہ ورکاں کے مقام پر نالہ ڈیک میں شگاف پڑنے سے متعدد علاقے زیرآب آ گئے ہیں، جس کے باعث لاہور روڈ پرسیلابی پانی گھروں اور فیکٹریوں میں داخل ہو گیا۔ چیچہ وطنی، چاچڑاں شریف، رکن پور، میں بھی بیسیوں دیہات ڈوب گئے۔ چناب میں سیلاب سے چنیوٹ کی تحصیل بھوآنہ میں50 سے زائد دیہات زیر آب آگئے، سیکڑوں مویشی ریلے میں بہہ گئے، جھنگ میں سیلابی پانی نے ضلع بھر کی 200 سے زائد بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حافظ آباد کے مقام پر 70دیہاب زیرآب آ گئے، چناب کا سیلابی پانی سرگودھا روڈ سے گزر کر جھنگ شہر کے حفاظتی بند کی طرف بڑھ رہا ہے۔



سیلابی ریلے نے ملتان کی کئی بستیوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ ملتان شہر کے حفاظتی بندوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ دریائے چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب سے مظفر گڑھ اور ملتان کے فلڈ بند کے قریب بسنے والی 100 سے زائد بستیاں زیر آب آ گئی ہیں جبکہ 25 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی تباہ ہو گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہیڈ تریموں میں پانی کی آمد ایک لاکھ 66 ہزار 46 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 55 ہزار 946 کیوسک رہی۔ دریائے سندھ میں طغیانی سے خیرپور میں کچے کے علاقے کے پچاس اور سہون کے بارہ دیہات زیر آب آگئے، متاثرین نے نقل مکانی شروع کردی۔ کشمور سے کرم پور تک حفاظتی پشتوں پر نقل مکانی کرنے والے متاثرین نے ڈیرے ڈال لئے ہیں، تاہم کوئی ریلیف کیمپ نہیں لگایا گیا۔ دریائے سندھ میں چشمہ اور سکھر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سکھر اور گدو بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک بڑا سیلابی ریلا آج گڈو اور کل سکھر بیراج سے گزرے گا۔

دریائے سندھ کا مشوری حفاظتی بند ٹوٹنے سے کوٹ مٹھن میں قصبہ وانگ کے قریب بیس دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ دادو کے علاقے خیرپورمیں کچے کے علاقے میں سیلاب کے باعث تحصیل کنگری کے 50 سے زائد دیہات زیر آب آگئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 111 ہو گئی، پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سیلاب سے مجموعی طور پر چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ 3 لاکھ 21 ہزار سے زائد ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا تاہم اسلام آباد، راولپنڈی ،گوجرانوالہ ،لاہور، مالاکنڈ ہزارہ ڈویژن گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند ایک مقامات پر گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی اسلام آباد ،گوجرانوالہ، مالاکنڈ، ہزارہ، پشاور ڈویژن گلگت بلتستان اور کشمیرمیںکہیںکہیں گرج چمک کیساتھ بارش ہوئی۔گھوٹکی، اوباڑو، لکھی غلام شاہ، کندھ کوٹ، میہڑ، باقرانی (نمائندہ ایکسپریس، نامہ نگار) بالائی سندھ کے مختلف شہروں میں سیلاب کے باعث مزید 224 دیہات زیرآب آگئے، خاتون اور بچی سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی، تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر سطح بلند ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

گھوٹکی میں کمشنر سکھر ڈویژن نیاز علی عباسی نے ضلع و آب پاشی افسران کے ہمراہ گیمڑو بند، قادر پور لوپ بند، شینک بند کے مقامات کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا، انھوں نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی و دیگر متعلقہ افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی، کمشنر سکھر نے حفاظتی بندوں پر مقیم سیلاب متاثرین سے مسائل معلوم کرکے انھیں حل کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گھوٹکی فرید احمد جونیجو نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زیر آب علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے 12 کشتیاں فراہم کردی گئی ہیں، متاثرین کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔

ضلع شکارپور کی تحصیل لکھی غلام شاہ سے رپورٹر کے مطابق سیلاب کے باعث لکھی غلام شاہ کے اطراف میں 2سو سے زائد گاؤں زیر آب آنے سے دیہاتیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، ہزاروں دیہاتی سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہورہے ہیں، حفاظتی بندوں تک پہنچنے والے امام الدین، خلیل جتوئی، بدر الدین مہر ودیگر نے بتایا کہ کھیت اور گھر زیرآب آگئے ہیں، لوگ از خود محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی کوششیں کررہے ہیں، اس دوران گوٹھ محمد صالح میں سیلابی پانی میں ڈوب کر 12سالہ امیداں بنت علی نواز ابڑو ڈوب کر ہلاک ہوگئی ہے۔

کندھ کوٹ سے نمائندے کے مطابق کچے کے علاقے گاؤں جیون گولو میں بشیر خاتون سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔ میہڑ سے نامہ نگار کے مطابق سیلاب کے باعث مختلف دیہات دودو کلہوڑو، جاڑو کلہوڑو، خلیفہ عبدالرحمن اور پیجرائی کلہوڑو سمیت دیگر دیہات زیر آب ہیں جس کی وجہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔باقرانی میں گاؤں بھاجی جتوئی، بیلیم، طیب شیخ، جان محمد میمن، جیون برڑو سمیت 20مزید دیہات زیر آب آنے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں جبکہ متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔