شکست انتہا پسندوں کا مقدر

ایکپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر حملے کا معاملہ آزادی صحافت سے منسلک ہوگیا ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan August 20, 2013
[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر حملہ ہوگیا۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ نامعلوم افراد ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر فائرنگ کرکے اپنی کمین گاہ میں اطمینان سے روپوش ہوگئے۔ پولیس محض مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کا اعلان کرنے کے سوا کچھ نہیں کرپائی۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینلز اعتدال کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، یوں کسی گروہ یا طبقے کی ناراضگی کا جواز نہیں پھر ا س حملے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ایڈیٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں کوئی دھمکی نہیں ملی تھی نہ کسی گروہ نے اپنی کوئی شکایت کی تھی نہ کوئی مطالبہ تھا یوں اس میڈیا گروپ کے دفاتر پر حملے کا معاملہ آزادی صحافت سے منسلک ہوگیا ہے۔

اخباری دفاتر پر حملے کی تاریخ خاصی قدیم ہے ، سرد جنگ کے زمانے میں پاکستانی ریاست آزادی صحافت کے عوام کے حق کو تسلیم کرنے کو تیارنہیں تھی ۔ نو آبادیاتی دور کے سیاہ قوانین کے ذریعے اخبارات کی ادارتی پالیسی کو کنٹرول کیا جاتاتھا کیونکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز کو قائم کرنے کی ذمے داری صرف حکومت کی تھی اوروہ ہی ان کی پالیسی تیارکرتی اور ہر ممکن طریقے سے اس پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا تھا۔جن صحافیوں اور مدیروں نے حکومت کی پالیسی کو قبول نہیں کیا وہ ہمیشہ مشکل صورتحال کا شکار رہے ۔ عظیم شاعر اور صحافی فیض احمد فیض سے معتوب ہونے والے صحافیوں کی فہرست شروع ہوتی ہے ۔ یہ فہرست سید سبط حسن ، مظہر علی خان، احمد ندیم قاسمی، عبداللہ ملک، حمید اختر ، منہاج برنا، نثار عثمانی ، آئی اے رحمن، آئی ایچ راشد، عزیز مظہر، عباس اطہر ، احفاظ الرحمن اور بہت سے صحافیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

1985میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت قائم ہوئی تو سرد جنگ کے اختتام کا آغاز ہوچکا تھا۔ حکومت نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور صوبائی اطلاعات کے محکموں کی جانب سے اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھیجی جانے والی پریس ایڈوائس کا سلسلہ ختم کیا۔اس کے ساتھ ہی پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس مجریہ 1962 کو منسوخ کرنے اور نئے قانون کی تیاری کا کام بھی شروع ہوا۔ صحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی،کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی 25 سالہ قدیم مطالبے کی منظوری کا مرحلہ آیا مگر ان اقدامات کے ساتھ اخبارات پر پریشر گروپوں کا دبائو شروع ہوگیا ۔یہ پریشرگروپ پورے ملک میں ابھر کر سامنے آئے۔پریشر گروپوں نے خیبر پختونخواہ ، بلوچستان ، پنجاب اور کراچی سمیت سندھ میں یکساںطور پر صحافیوں اور اخباری دفاتر کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔یہ پریشر گروپ کہیں مذہبی جماعتوں ،کہیںلسانی تنظیموں،کہیں سیاسی اور کہیں طلبہ تنظیموں کے مسلح جتھوں پرمشتمل تھے ۔ یہ گروپ ناپسندیدہ اور نہ جھکنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دیتے اوراخبارات کے دفاتر پر حملے کرتے تھے۔

ایک سینئر رپورٹر کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے بارے میں ایک رپورٹ کے بارے میں حقائق جمع کررہے تھے کہ انھیں خلیجی ملک سے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔ اس کال کرنے والے شخص نے اس صحافی کو یاددلایا کہ وہ دوپہر کو اپنی موٹر سائیکل پر اپنی بچی کو اسکول سے گھر لے کر آتے ہیں۔ اسی طرح ان پریشر گروپوں نے 80-90 کی دھائی میں تمام بڑے میڈیا ہائوسز کے دفاتر پر حملے کیے، صحافیوں نے ان حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا اور تھانوں میں مقدمات درج کرائے گئے۔ پولیس نے بعض مقدمات میں چند افراد کو گرفتار بھی کیا مگر پھر معاملات حسبِ معمول داخلِ دفتر ہوگئے۔ ان پریشر گروپوں نے صحافیوںکو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کردیا۔ 2 جون 1999 کو لاڑکانہ میں دو سینئر صحافیوں احمد حسن کمال اور مطاہر حسین نقوی کو نامعلوم افراد پبلک کال آفس کے قریب قتل کیا گیا۔ اس سے قبل خیرپور میں ایک صحافی راحت کاظمی بھی قتل کردیے گئے۔

اس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ 18 مارچ 1991 کو بی بی سی کے (اس وقت کے )نمایندے ظفر عباس کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں اپنی قیام گاہ پر حملے میں زخمی ہوگئے۔ صحافیوں کو دھمکیوں، ان کے قتل اور اخبار کے دفاتر پر حملوں میں کمی نہیں آئی۔نئی صدی میں دہشت گردی کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی صحافی بھی نشانہ بننے لگے۔ مذہبی انتہاپسند تنظیموں اور ایجنسیوں نے قبائلی علاقوں کے علاوہ پورے ملک میں بھی صحافیوں اور میڈیا ہائوسز کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ شمالی وزیرستان میں ہدایت اﷲاور پنجاب میں سلیم شہزاد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ہدایت اﷲ کی قتل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی بنائی گئی مگر اس کمیٹی کی تحقیقات سامنے نہیں آئیں۔ سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم ہوا۔ کمیشن کی رپورٹ اخبارات میں شایع ہوئی مگر حکومت نے اس رپورٹ کی روشنی میں قانون سازی نہیں کی۔بلوچستان صحافیوں کی قتل گاہ بنا۔

اگر اس ضمن میں حقائق جمع کیے جائیں تو 1947 سے 1988 تک صحافی ضمیر قریشی کے قتل کا ذکر ملتا ہے جو 28 جنوری 1965 کو لاہور میں ملک غلام جیلانی کی قیام گاہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہوئے مگر 1988 سے 2013 تک قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد 109تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح صحافیوں کو دھمکیوں اور میڈیا ہائوسز پر حملوں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یوں آزادئ صحافت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان کو آزادئ صحافت کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔ یہ پریشر گروپ بنیادی طور پر اخبارات اور الیکٹرانک چینلز سے شایع اور نشر ہونے والے مواد کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا ہے کہ مطلق العنان حکومتیں جب کسی اخبار پر پابندی لگاتی تھیں یا کسی صحافی کو گرفتار کرتی تھیں تو یہ ساری کارروائی ریکارڈ کا حصہ بن جاتی تھی۔ یوں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کی بناء پر ان حکومتوں کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑتی تھی مگر پریشر گروپ نہ صرف صحافیوں کو دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ ان کے قریبی عزیزوں کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالتے ہیں اور میڈیا ہائوسز پر آتشیں ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہیں ،اس ضمن میں افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ ریاستی ادارے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر حملہ کرنے والے گروپوں کا قلع قمع نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی صحافی کے قاتل یا کسی میڈیا ہاؤس پر حملے کے ذمے دار افراد کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ہوئیں۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر حملے کا ایک بڑا مقصد گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی پالیسی کو تبدیل کرنا ہے۔

بعض صحافی یہ بھی کہتے ہیں کہ ایکسپریس میڈیا گروپ پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے ۔چنانچہ میڈیا ہاؤس کی انتظامیہ اور صحافی اپنی معروضی پالیسی کو برقرار رکھ کر ان دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا سکتے ہیں۔ سندھ کی حکومت نے روایتی طور پر اس حملے کی مذمت کی ہے مگر پولیس اتنے بڑے شہر میں ملزمان کی نشاندہی تک میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ جب تک ریاستی ادارے ملزمان کا قلع قمع نہیں کریں گے، حالات سازگار نہیں ہوسکتے ۔اس ضمن میں خوش آیند بات یہ ہے کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کی انتظامیہ اور صحافیوں کے عزائم بلند ہیں۔ یہ عزائم ہی دہشت گردوں کے اعصاب کو ریزہ ریزہ کردیں گے۔ صحافیوں کا اتحاد ہی عوام کے جاننے کے حق کو یقینی بنائے گا اور شکست تشدد پسندوں کا مقدر بنے گی اور آزادئ صحافت کی جانب قدم بڑھتے رہیں گے۔