انٹر بورڈ کا پک اپ پوائنٹس منصوبہ ناکام ہوگیا طلبا اور والدین پریشان

بینکوں میں پک اپ پوائنٹس قائم نہ ہوسکے،بورڈکا عملہ بھی تعینات نہیں،طلبا امن کی ناقص صورتحال کے باعث بورڈ آفس نہیں آرہے


Safdar Rizvi August 21, 2013
انٹر بورڈ آفس میں رینجرز نے چوکی قائم کرنے سے انکار کردیا، مسلح شرپسند دیدہ دلیری سے طلبا سے موبائل فون و نقدی چھیننے لگے۔ فوٹو: فائل

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کی ناقص حکمت عملی کے سبب طلبا کی آسانی کے لیے نجی بینک میں ''پک اپ پوائنٹس''کے قیام کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوگیا ہے۔

ریٹائر چیئرمین کے ماتحت بورڈ انتظامیہ اس منصوبے پرعملدرآمد ہی نہیں کرپائی جس کے باعث شہر کے ہزاروں طلبہ وطالبات امن وامان کی ناقص صورتحال کے باوجود کٹی پہاڑی کے قریب انٹر بورڈ آفس آنے پر مجبور ہیں جہاں جرائم پیشہ عناصرکا راج ہے، اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے طلبا اوروالدین کی سہولت کے لیے شہر بھر کے متعلقہ نجی بینک کی شاخوں میں ''پک اپ پوائنٹس'' قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور طلبا سے کہا گیا تھا کہ وہ بورڈ کی ویب سائٹ سے ہر قسم کے فارم ڈاؤن لوڈ کرکے ''پر'' کرنے کے بعد متعلقہ بینک کی شاخوں میں جمع کرادیں اور انھیں شاخوں میں قائم پک اپ پوائنٹس سے طے شدہ شیڈول کے تحت اپنی مارک شیٹس اور اسناد حاصل کریں۔



مقررہ شاخوں میں بورڈ کا عملہ بھی رہنمائی کے لیے موجود ہوگا بورڈ جانے سے گریزاں درجنوں طلبا اور والدین نے بتایا ہے کہ مقررہ بینک کی شاخوں میں کسی قسم کے پک اپ پوائنٹس قائم ہی نہیں کیے گئے، بینک عملے نے بتایا کہ بورڈ انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکلر موصول ہوا ہے اورنہ ہی بورڈ کا عملہ یہاں موجود ہے، اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے بورڈ آفس میں مستقل چوکی قائم کرنے سے رینجرزکی معذرت کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا تھا اس وقت صورتحال یہ کہ بورڈ آفس میں آنے والے طلباخوف کا شکار ہیں آنے والے طلبا سے وہاں موجود مسلح شرپسند موبائل فون اورنقدی چھین لیتے ہیں۔

ایک ماہ قبل بورڈ آفس میں شرپسندوں نے ایک سیکشن میں لوٹ مار کی تھی جس کی انتظامیہ نے رپورٹ تک درج نہیں کرائی ہے،ادھر سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل اور میٹرک بورڈ کی جانب سے بھی شہر کے طلبا کی سہولت کے لیے پک اپ پوائنٹس کے قیام کا کوئی منصوبہ نہیں بنایاجاسکا ہے، طلبا شہر کے دور دراز علاقوں سے متعلقہ بورڈ کے آفس آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں