افغان داخلی تنازعات اور پاکستان کا صائب فیصلہ

پاکستان امن عمل کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جس میں بین الافغان بات چیت کا آیندہ منطقی مرحلہ شامل ہے۔


Editorial April 27, 2019
پاکستان امن عمل کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جس میں بین الافغان بات چیت کا آیندہ منطقی مرحلہ شامل ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طویل انتظار کے بعد افغانستان میں امن کے عمل سے خطے میں قیام امن کے لیے تاریخی موقع ملا ہے جس کی پاکستان بھرپور حمایت کرتا ہے، ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہیں، افغانستان کے داخلی تنازعہ میں پاکستان فریق نہیں بنے گا۔

وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 40 سال میں افغان تنازعہ سے پاکستان اور افغانستان دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب ایک طویل انتظار کے بعد افغانستان میں امن کا عمل خطے کے امن کے لیے ایک تاریخی موقع پیش کرتا ہے اور پاکستان امن عمل کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جس میں بین الافغان بات چیت کا آیندہ منطقی مرحلہ شامل ہے جس میں افغان عوام خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

افغانستان کو درپیش مخدوش اور درد ناک صورتحال پر پاکستان سمیت عالمی قوتوں اور ڈونر ملکوں نے مذاکرات،امن عمل میں پیش قدمی اور افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے مختلف چینلز کے ذریعے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی سعی کی ہے، افغان مسئلہ ایک تاریخی جہت اور پیچیدہ سیاسی اور سماجی مضمرات رکھنے کے علاوہ امریکی مداخلت اور خطے میں عالمی قوتوں اور بھارت کی مذموم دلچسپیوں کا ایک خوفناک پینڈورا باکس بنا ہوا ہے، اور افغان، طالبان کلیش اور بہیمانہ قتل وغارت نے پورے خطے کو وار تھیٹر میں بدل دیا ہے، یہ امریکی فوجی تاریخ کی طویل ترین ناکام جنگ ہے۔

جس میں امریکا آج محفوظ راستے کی تلاش میں ہے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ افغان مسئلہ کے حل کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں اب ایک فیصلہ کن بات چیت کی منتظر ہے، جیسا کہ دوحہ قطر میں افغان طالبان سے اہم مذاکرات کے کئی دور مکمل ہوئے ہیں اور ایک دور ابھی باقی ہے جس کا ذکر وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ اس مرتبہ سب کو یقین ہے کہ افغان مسئلہ کا کوئی منصفانہ اور صائب حل نکل سکے گا۔

وزیراعظم کا بیان ایک پیراڈائم شفٹ سے بھی زیادہ دور رس اثرات کا حامل ہے جس میں خطے کے تزویراتی محرکات اور جدلیات پر ماضی کے برعکس نئے انداز فکر کی جھلک ملتی ہے، اس بیان سے عالمی قوتوں کو دو ٹوک پیغام دیا گیا ہے کہ افغان صورتحال سے عالمی امن کو بھی لاحق خطرات دوچند ہو چکے ہیں جب کہ افغان سماج، سیاسی نظام، اقتصادی ابتری اور طالبان کے مسلسل حملوں کے نتیجہ میں افغانستان کی بقا کا سوال شدت اختیار کر گیا ہے، خطہ اس ساری صورتحال کی غمناک تصویر پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس تناظر میں پاکستان ہر طرح کے تشدد کے خلاف اور اس سے نہایت افسردہ ہے، تشدد آمیز کارروائیاں قابل مذمت ہیں اور ان سے امن عمل مجروح ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ دباؤ کے ذریعے مذاکرات میں اپنے مقصد کی طرف راغب ہونا درست نہیں، پاکستان تمام فریقین پرزور دیتا ہے کہ وہ اس موقع کی اہمیت کا ادراک کریں اور اس سے استفادہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان امن کے عمل کی کامیابی کے لیے تمام سفارتی اور سیکیورٹی تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے داخلی تنازعہ میں فریق نہیں بنے گا۔ اس فیصلہ کی روح درحقیقت پاکستان کے تجربات ہیں جو اسے افغان سیاسی اور عسکری صورتحال سے وابستہ ایک کلیدی کردار کی حیثیت میں حاصل ہوئے ہیں۔

چین روانگی سے قبل وزیرِاعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی قیادت میں وزیر ِاطلاعات پنجاب سید صمصام بخاری اور وزیر ِاطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں حکومت کے ریفارمز و ترقیاتی ایجنڈا ودیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ دریں اثنا وزیراعظم نے تحریک انصاف کے یوم تاسیس پر اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ہماری جدوجہد آزادی کے بعد سے کسی بھی پارٹی سے عظیم ہے، ہماری جدوجہد کرپٹ اسٹیٹس کو کے خلاف جنگ اورعوام کو آگاہی دینا ہے، ہماری جدوجہد 3 مرحلوں میں جاری رہی، پہلا مرحلہ لوگوں کو ہمارے تبدیلی کے پیغام سے متعلق متحرک کرنا تھا، قومی وسائل بروئے کار لاکر ترقی کر سکتے ہیں۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن محمد الشیخ نے ملاقات کی، وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پارلیمانی تبادلوں کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک دوسرے کے قانون سازی نظام کی بہتر سوجھ بوجھ پیدا ہوگی۔ وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات میں حالیہ پیشرفت بالخصوص سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے رواں سال فروری میں دورہ پاکستان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جو پاکستان اور سعودی عرب کے لازوال تاریخی اور مذہبی رشتوں کی استقامت اور تازگی کی دلیل ہے۔

اس وقت وزیراعظم عمران خان بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے لیے چین کے چار روزہ دورے پر ہیں جس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا آہنی دوست ہے، چین سے دوستی میں ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان تیار ہے، عمران خان نے مزید کہا کہ ہم بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے اگلے مرحلہ کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں اس فیز میں اکنامک زونز کا قیام عمل میں آئے گا جب کہ سی پیک سے توانائی بحران میں کمی آئی ہے۔

روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں پراعتماد ہوں کہ دورہ چین سے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، وزیر جہاز رانی علی زیدی، معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی زلفی بخاری بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں، میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین ہمارا قریبی دوست ہے۔

پاک چین شراکت داری نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ دورے کا آغاز کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے اطمینان کی بات ہے کہ پاک چین دوستی کی بنیاد نہ صرف باہمی مفادات ہیں بلکہ ماضی کے شاندار تجربات اور باہمی تعاون پر قائم ہے، پاک چین دوستی دونوں ممالک کے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں رچی بسی ہے۔

پاکستان کو خطے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کردار کا ایک معیار افغانستان کی انتہائی پیچیدہ صورتحال سے جڑا ہوا ہے، افغان حکومت کا بحران بعض بنیادی تضادات اور سیاسی و داخلی کشمکش کا اسیر ہے، طالبان صدر اشرف غنی کی رٹ کو تسلیم نہیں کرتے، وہ اب تک امریکا اور دیگر قوتوں سے مذاکرات میں افغان حکومت سے ہاتھ ملانے اور اسے بات چیت میں شامل کرنے سے گریزاں ہیں۔

افغان مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان امریکا سے کوئی سنگ میل جیسا امن معاہدہ کرنے کے لیے افغان حکام سے مذاکرات کا امکان پیدا نہیں کر لیتے بات چیت کسی منطقی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی اور افغان ریاستی سسٹم پر کوئی فیصلہ امریکا طالبان معاہدہ کی رو سے مسلط کیا گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ جائے گا، اس لیے بعض عالمی قوتوں کا بھی یہی خیال ہے کہ طالبان، امریکا سے بات چیت میں بریک تھرو کرتے ہوئے افغان حکومت کو مائنس کرنے کا بلنڈرتاریخ کی سنگین غلطی ہوگی ۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں پاکستان نے فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ اب افغانستان کے داخلی تنازعات میں فریق نہیں بنیں گے۔یہ پیغام افغان حکومت اور عوام کے لیے چشم کشا ہے۔

مقبول خبریں