ایسے کمزور دشمن سے کیوں ڈریں

بھارت بھی ہماری طرح ایٹمی طاقت ہے مگر دوسرے درجے کے معیارکی طاقت اور ہمارا میزائل سسٹم بہت بہتر اور ناقابل شکست ہے۔


Abdul Qadir Hassan August 21, 2013
[email protected]

وزیراعظم کی پہلی تقریر یعنی قوم کے سامنے ان کی پہلی رونمائی پر اب ان کے حامی اور مخالف سیاستدان تبصرے کرتے رہیں گے مثلاً سید منور حسن نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی کسی پالیسی کا نہیں خوابوں کا ذکر کیا ہے صرف باتیں کی ہیں مگر کسی طریقہ کار اور کسی منصوبہ بندی کا تعین نہیں کیا اسی طرح دوسرے سیاستدانوں نے بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ میں اس وقت میاں صاحب کی تقریر میں بھارت کے ذکر پر عاجزانہ بات کرتا ہوں ہمارے اس دشمن کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کو انھوں نے یوں قومی خواہش بنا دیا ہے کہ الیکشن میں ان کو جو ووٹ ملے ہیں ان میں بھارت کے ساتھ دوستی کے ووٹ بھی شامل ہیں۔

محترم میاں صاحب اگر بھارت سے گھبراتے ہیں یا اس کی کسی مبینہ طاقت سے خوفزدہ ہیں تو اس پر یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ ان کی ووٹر پاکستانی قوم بھارت سے ہر گز نہیں ڈرتی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمیں بڑی تسلی دیتے ہیں کہ بھارت کو آنے دیں واپس نہیں جائے گا۔ جب محترم ڈاکٹر صاحب صرف سائنس دان تھے تو مجھے یہ اعزاز حاصل تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ان کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتا تھا اگرچہ میں نے ان کی ایٹمی سرگرمی پر احتیاطاً بہت کم بات کی کہ ایک صحافی بڑبولا ہوتا ہے اس لیے کوئی راز کی بات کہیں میرے منہ سے نکل نہ جائے۔ لیکن ایک بار ڈاکٹر صاحب موڈ میں تھے وہ بھارت کے خلاف غصے میں تو اکثر رہتے تھے بلکہ ان کے قریبی ساتھیوں کو یہ ڈر رہتا تھا کہ یہ کسی دن غصے میں آ کر بھارت کے خلاف کچھ کر نہ بیٹھیں۔

کسی ایسی کیفیت میں ایک دن کوئی بات ہوئی تو انھوں نے اپنے سامنے ایک کاغذ رکھا اور بھارت کا نقشہ بنا کر اس پر مختلف شہروں اور اہم فوجی تنصیبات کے مقامات درج کیے۔ پھر پاکستان سے ان کے فاصلے کا تعین کیا اور بتایا کہ ہمارا میزائل کتنے منٹ یا سیکنڈ میں کس نشانے پر پہنچ جائے گا۔ بھارت پاکستان کے برق رفتار کسی میزائل کو راستے میں ہر گز روک نہیں سکتا جب تک وہ پاکستانی میزائل کی اڑان سے باخبر ہو گا تب تک یہ میزائل اپنے نشانے کو تباہ کر چکا ہو گا۔سائنسی طور پر پاکستانی میزائل کو روکنا ممکن ہی نہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ کتنے منٹوں سیکنڈوں میں بھارت ایک کھنڈر بن چکا ہو گا۔ بھارت کو یہ سب معلوم ہے اس کی بڑھکیں اپنی جگہ مگر حقائق بالکل مختلف ہیں۔

پاکستان سے کئی گنا بڑا ہونے کے باوجود بھارت کا پاکستان کی دفاعی طاقت سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ بھارت کے خلاف جو جنگیں ہوئیں وہ روائتی ہتھیاروں سے لڑی گئیں جو ہمارے پاس بھارت کے مقابلے میں کم تھے مگر اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت بھی ہماری طرح ایٹمی طاقت ہے مگر دوسرے درجے کے معیار کی طاقت اور ہمارا میزائل سسٹم بہت بہتر اور ناقابل شکست ہے۔ جناب وزیراعظم سے گزارش یہ ہے کہ وہ امن اور دوستی کی بات ضرور کریں بلکہ اس کی کوشش بھی کریں لیکن یہ کیا امن ہوا کہ ہم سیلاب کی مصیبت میں ہیں اور بھارت ہماری طرف اپنے دریائوں کا پانی مسلسل چھوڑ رہا ہے یہ دوستی اور اچھے تعلقات کا کون سا انداز ہے۔

ابھی تو بھارت پانی بھیج کر ہمیں تباہ کر رہاہے کل وہ پانی روک کر ہمیں تباہ کرے گا اور پیاسا مارے گا یعنی پانی دونوں صورتوں میں ہمیں برباد کرے گا۔ اس کی کثرت اور قلت دونوں ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہوں گی۔ تعجب ہے کہ سابقہ حکومت بلکہ حکومتوں اور موجودہ حکومت نے بھارت کی طرف سے ہمارا پانی چرانے کا نوٹس نہیں لیا جیسے یہ سب کچھ ہماری مرضی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں خوفناک معلومات ملی ہیں آیندہ کے کالم میں بھارت سے بات چیت میں پہلے ایک پاکستانی افسر غالباً جماعت علی شاہ نام کا تو ثابت ہو گیا کہ وہ بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ معلوم نہیں آج کل کون افسر صاحب ہماری قسمت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جناب میاں صاحب بھارت کے بارے میں اس قدر نرم دل بلکہ سادہ دل نہ ہوں۔

دشمن بدستور دشمن ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کا مشن پاکستان کوختم کرنا ہے۔ سقوط ڈھاکا بھارت کی ایک کامیاب کوشش کا نمونہ تھا جس میں اس نے پاکستان کو آدھا کر دیا اور اس کی کمر توڑ دی اندرا گاندھی نے اسے ہی مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کا بدلہ کہا تھا اور درست کہا تھا۔ ہمارے ملک کو توڑنے والے اپنے پاکستانیوں کو ہم خوب جانتے ہیں کہ ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس کس نے ناکام بنایا کس نے ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیں کسی نے آخری مصالحتی عالمی کوشش کا مسودہ پھاڑ دیا، بہر حال یہ سب قوم پر واضح ہے کہ بھارت نے ہمارے ملک کو توڑنے کے لیے کیا کیا اور کیسے ہمارے لیڈروں کو خریدا یا بے وقوف بنایا یہ سب میں اس لیے عرض کررہا ہوں کہ میاں صاحب اپنی مصروفیت میں کہیں ان باتوں کو بھول نہ جائیں۔

ان کے گرد و نواح میں بھی کھلے بھارتی ایجنٹ موجود رہتے ہیں اس لیے لازم ہے کہ وہ آستین کے ان سانپوں سے خبردار رہیں۔ ہم یہ بات ہر گز نہ بھولیں کہ ہمارا نسلی دشمن ہمارا بدستور دشمن ہے شکر ہے کہ مجید نظامی جیسے پاکستانی ہماری سرپرستی کرتے ہیں اور ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ بہر کیف کوئی کچھ بھی کہے ہم تو آخر دم تک دشمن کو دشمن ہی سمجھیں گے اور اسی نشے کی سرشاری میں کبھی ختم ہو جائیں گے۔ مرنا تو ہے ہی عزت کے ساتھ کیوں نہ مریں۔

مقبول خبریں