تاجروں کوکشمیرکے پاورمنصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

آزاد کشمیر میں پانی سے 10ہزار میگا واٹ بجلی 7روپے یونٹ حاصل کرکے ملک کو بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔


Business Reporter August 21, 2013
توانائی بحران پر قابو پا کر پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ فوٹو : آن لائن

آزاد جموں و کشمیر کے ڈپٹی وزیر اعظم و سینئر وزیر چوہدری محمد یاسین نے کراچی کے سرمایہ کاروں کو آزاد کشمیر میں بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔

آزاد کشمیر سے 10ہزار میگا واٹ بجلی 7روپے فی یونٹ قیمت پر حاصل کی جاسکتی ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر چھائے کالے بادل ہمیشہ کے لیے دور کیے جاسکتے ہیں اور پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وہ گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر عرفان کھوکھر اور دیگر بھی موجو دتھے۔آزاد جموں و کشمیر کے ڈپٹی وزیر اعظم چوہدری محمد یاسین کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں پانی سے 10ہزار میگاواٹ سستی بجلی پید اکرنے کی صلاحیت موجود ہے جو کہ صارفین کو 7روپے فی یونٹ میں فراہم کی جاسکتی ہے، تاہم مالی وسائل نہ ہونے کے باعث حکومت آزاد کشمیر خود سے ان منصوبوں کا شروع نہیں کرسکتی اس لیے ہماری خواہش ہے کہ نجی شعبہ اور خاص کر کراچی کے سرمایہ کار آزاد کشمیر میں بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے منصوبے شروع کریں جس میں مقامی حکومت ان کے ساتھ پھر پور تعاون کرے گی اور ون ونڈو آپریشن کے تحت منصوبے شروع کرنے میں معاونت کرے گی۔



انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بجلی کی طلب 350 تا 400 میگاواٹ کے درمیان ہے جسے مقامی وسائل سے پورا کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے 54میں سے 13منصوبوں پر تعمیرات کا آغاز کردیا گیا ہے،2014کے اختتام تک تمام علاقوں کو بجلی کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس ہدف کو حاصل کرنے کے ساتھ اضافی بجلی ملک کے دیگر حصوں کو فروخت کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جس سے مقامی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے، آزاد جموں و کشمیر میں 50میگاواٹ سے زائد کے 10منصوبوں پر کام جاری ہے جن سے مجموعی طور پر 4071میگاواٹ بجلی پیدا کی جائیگی۔

3سے 132میگا واٹ تک کی گنجائش کے 12منصوبوں کی فزیبلیٹی تیارہے، ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 346.2میگا واٹ بجلی پیدا کی جائیگی، 1960.95 میگاواٹ گنجائش کے 17پراجیکٹس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، یہ سائٹس خام شکل میں موجود ہیں، اس کے علاوہ 50میگا واٹ سے کم گنجائش کے 20 ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر کام جاری ہے جن سے مجموعی طور پر 216میگاواٹ بجلی تیار کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جس سے مقامی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔