افغانستان کے لیے چشم کشا انتباہ

افغان حکام ہر واقعہ کا الزام پاکستان کے سر مونڈنے پر تیار رہتے ہیں جب کہ امن عمل میں جتنا کلیدی کردار پاکستان کا ہے۔


Editorial May 03, 2019
افغان حکام ہر واقعہ کا الزام پاکستان کے سر مونڈنے پر تیار رہتے ہیں جب کہ امن عمل میں جتنا کلیدی کردار پاکستان کا ہے۔ فوٹو : فائل

افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے3 جوان شہید اور7 زخمی ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے پاک افغان سرحدی علاقے الواڑہ میں پاک فوج کے جوان سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے، اس دوران افغانستان سے70 سے 80 دہشت گردوں نے حملہ کیا جسے پاک فوج کے جوانوں نے پسپا کردیا، موثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے3جوان لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر، سپاہی امداد اللہ شہید اور7 زخمی ہوگئے۔

دہشت گردوں کے حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ابھی افغان حکومت نے اس سنگین واقعہ پر اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے اور نہ افغان سیاسی ذرایع نے دہشت گردوں کی شناخت یا ان سے وابستگی یا انکار کے سیاق وسباق میں کوئی ٹھوس بات کی ہے تاہم حکومت پاکستان نے امید ظاہر کی ہے صدر اشرف غنی انتظامیہ دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعہ کی نہ صرف کھل کر مذمت کرے گی بلکہ خطے میں امن عمل کو نقصان پہنچانے والوں کے مذموم عزائم کی روک تھام کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائے گی۔

پاکستان نے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر افغان حکومت سے شدید احتجاج بھی کیا ہے ، اس احتجاج کا مقصد دو ہمسایہ ملکوں کے مابین امن عمل کی پیش قدمی کو سبوتاژ کرنے والی باطل قوتوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت پر زور دینا ہے، باڑ کی تعمیر کا کام اس قسم کے بزدلانہ حملوں سے روکا نہیں جاسکے گا، اس لیے پاکستان کو مطمئن کیا جائے کہ باڑ کی تعمیر کے عمل کی دو طرفہ مقصدیت سے جن عناصر کے مفادات کو زک پہنچی ہے ان کا راستہ روکا جائے، ان کی شناخت ممکن بنائی جائے، ورنہ یہ عناصر مستقبل میں مزید ایسے حملے کرکے پاک افغان تعلقات کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔

افغان حکومت اگر خطے کی سلامتی اور سرحدی علاقے میں حملوں کو روکنے میں دلچسپی نہیں لیتی توبھی اس صائب کام میں دخل اندازی کرنے والوں کا راستہ روکنا اس کا اسٹرٹیجیکل فرض بنتا ہے، امن عمل تو کثیر جہتی کام ہے۔ پاکستان پرامن افغانستان کے لیے عالمی فورمز پر بابر بار اپنا موقف پیش کرتا آیا ہے۔

لازم ہے کہ پاک فوج کے جوانوں کو شہید کرنے کی سنگین واردات صورتحال کے مزید بگاڑ کا سبب نہیں بننی چاہیے، اس کے لیے افغان ایکشن ناگزیر ہے۔ تزویراتی نقطہ نظر سے پاک افغان باہمی امن واستحکام کے لیے باڑ کی تنصیب دونوں ہمسایوں کے مابین امن کے بہترین مفاد میں ہے۔کیا کسی کو اب بھی اس میں شک ہے؟

ادھر پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے دہشت گردوں کے حملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

ترجمان کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان کے ضلع گیان اور برمل سے سرحد عبور کی اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا، پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد دہشت گرد واپس افغانستان فرار ہوگئے، ترجمان نے کہا دہشت گرد افغانستان کی طرف سے سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے فرار میں کامیاب ہوئے، پاکستان اس دہشت گرد حملہ کی بھرپور مذمت کرتا ہے، افغانستان اپنی طرف موجود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے، پاکستان امید کرتا ہے کہ افغانستان ایسے انتظامات کرے گا کہ آیندہ ایسے حملے نہ ہوں۔

دریں اثنا امریکا نے یہ عجیب بات کہی ہے کہ اسے اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے۔ بدھ کو امریکی سفارتخانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ انھیں اس نوع کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ انڈیا افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے کہ کسی بھی ملک کو غیرریاستی عناصر کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔

ایلس ویلز کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا، بھارت کے بارے میں پاکستان کے بیانیے سے متفق نہیں ہے۔ دریں اثنا منگل کو امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دو روزہ دورے کے دوران ایلس ویلز اور زلمے خلیل زاد نے پاکستان کے اعلی حکام سے علاقائی سیکیورٹی اور افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے بات چیت کی۔

ایلس ویلز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سیکریٹری خارجہ اور وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنے اور پاک امریکا معاشی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے انٹرا افغان مذاکرات میں تیزی لانے کی حمایت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ امن و استحکام لائے گا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ زلمے خلیل زاد نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ، سیکریٹری خارجہ اور اعلیٰ عسکری و سفارتی حکام سے ملاقاتیںکی۔

مگر بنیادی سوال جس کا جواب پاک فوج افغان انتظامیہ سے چاہتی ہے وہ دہشت گردوں کے بلاجواز حملہ سے ہے جو صریحاً جارحیت اور دہشت گردی ہے ۔ یوں تو افغان حکام ہر واقعہ کا الزام پاکستان کے سر مونڈنے پر تیار رہتے ہیں جب کہ امن عمل میں جتنا کلیدی کردار پاکستان کا ہے اسے تسلیم کرنا تو درکنار اب پاکستان کی سرحدی پٹی پر دہشت گرد ٹولے کا دھاوا بول دینا کن عزائم اور دشمنی کی چغلی کھاتا ہے، افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بلاتاخیر دہشت گردوں کی سرکوبی کرنی چاہیے ، اگر امن پاک افغان مسائل کا حل ہے تو جو قوتیں امن کی عالمی کوششوں کا ناکام بنانے پر تلی بیٹھی ہیں افغان حکومت کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کی اس وارادات میں ملوث گروہ کو بے نقاب کرے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

افغانستان کے داخلی معاملات دگرگوں ہیں۔ پاک افغان طویل سرحدی پتی پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف پاک سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو شہید کرنے کی مہم جوئی شرمناک اقدام ہے، یہ خطے میں مخاصمت کی نئی آگ بھڑکانے کی ساز بھی ہوسکتی ہے، اور ایسی مذموم کارروائیوں سے خطے کا امن تہ وبالا ہوسکتا ہے۔ صدر اشرف غنی کو انتظامی سطح پر نتیجہ خیز کارروائی کرنی چاہیے، افغان حکام پاکستان سے رابطہ کرنے اور باڑ لگانے کے مقصد کو چیلنج کرنے والے دہشت گردوں سے نمٹنے کا عزم ظاہر کرے ،اگر ایسا نہ ہوا تو آیندہ ایسی واردتوں کے ذمے دار جوابی اقدام سے بچ نہیں سکیں گے۔

گزشتہ دنوں الجزیرہ چینل نے پاک افغان سرحد پرایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میکسیکو جیسی دیوار بنا رہا ہے، اس رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ افغان حکومت اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کرسکتی ہے، لہذا دہشت گردوں کے حملے نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث عناصر کو جب تک شہ ملتی رہے گی، وہ امن کو سبوتاژ کرنے کی مہم جوئی کرتے رہیں گے ۔ یہ انتباہ افغان حکام کے لیے چشم کشاہے۔

مقبول خبریں