مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندیاں

تمام رکن ممالک اور فریقین نے اقوام متحدہ کی متعلقہ تنظیم کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جس میں پاکستان سرفہرست ہے


Editorial May 03, 2019
تمام رکن ممالک اور فریقین نے اقوام متحدہ کی متعلقہ تنظیم کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جس میں پاکستان سرفہرست ہے۔ فوٹو: فائل

اقوامِ متحدہ نے کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہرکا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، تاہم پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو مسعود اظہر اور دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارتی سازش ناکام بنا دی۔ یہ ہے وہ خبرجو بہت زیادہ زیرگردش اور زیر بحث ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ بظاہر ایسا نظر آرہا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ دہشت گردی پر پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک رہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے، متعدد بار پاکستانی وزیراعظم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ۔ سترہزار سویلین اور فوجی جوانوں کی قربانیاں دنیا میں قیام امن کے لیے دی گئی ہیں ۔

خبر کو ٹوئسٹ تو بھارتی سرکار اور میڈیا نے دیا ہے جیسے مذکورہ تنظیم اور اس کے کارکنوں کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان نے کمیٹی کے سامنے اعتراض اٹھایا کہ مسعود اظہر کا پلوامہ اورکشمیری جدوجہد سے تعلق جوڑنا غلط ہے کیونکہ بھارت نے تاحال ان کے پلوامہ حملے میں ملوث ہونے سے متعلق ہمیں ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں جس پر یو این کمیٹی نے پلوامہ حملے اور کشمیری حق خود ارادیت سے مسعود اظہر کا تعلق الگ کرنے کا پاکستانی مؤقف مان لیا ہے ۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کسی بیرونی قوت کے ایماء پر نہیں بلکہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مقامی تحریک ہے،اس تحریک کی آبیاری ہزاروں کشمیری اپنے خون سے کر رہے ہیں۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو کشمیریوں کی جدوجہد مقامی اور قانونی ہے ،کشمیرکا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجود ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عوامی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے، لیکن بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔مقام افسوس ہے کہ اقوام متحدہ اپنی منظور کردہ قراردادوں پر علمدرآمد نہیں کرا سکی ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ متعلقہ ممالک نے 1267کمیٹی میں پابندی کی تجویز کے بارے میں اپنے مواد کا ازسرنو جائزہ لیا اور اس میں تبدیلیاں کیں۔ نظرثانی شدہ مواد کاجائزہ لینے اور تمام متعلقہ فریقین کی آراء کو مدنظر رکھنے کے بعد چین نے مسعوداظہر پر پابندی کی نئی تجویز کو تسلیم کیا۔جب کہ دوسری سانس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

اس پابندی کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ تمام رکن ممالک اور فریقین نے اقوام متحدہ کی متعلقہ تنظیم کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جس میں پاکستان سرفہرست ہے لیکن تکنیکی معاملات کو جس انداز سے بھارت نے سیاست زدہ کیا وہ قابل افسوس عمل ہے ۔

مقبول خبریں