مذاکرات کی نئی پیشکش
پچھلی بار امن پسند گروہوں نے اپنی مذاکرات کی پیشکش اس بہانے واپس لے لی تھی
ہم نے اپنے ایک پچھلے کالم میں جنگل کے بادشاہ اور جنگل میں رہنے والے کمزور جانوروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ایک کہانی سنائی تھی، اس کہانی کا آخری حصہ جس میں مذاکرات کا انجام شامل تھا اس لیے روک رکھا تھا کہ ہمارے ملک میں شریعت نافذ کرنے والے ''امن پسند'' گروہوں کے ساتھ حکومتی مذاکرات کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہم کہانی کا باقی حصہ سنانا چاہتے تھے بد قسمتی یہ ہے کہ شریعت نافذ کرنے والے پر امن گروہ کسی نہ کسی بہانے مذاکرات کی پیشکش واپس لے لیتے ہیں اور مذاکرات کے حامی اور شریعت کے نفاذ کی خواہشمند جماعتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
پچھلی بار امن پسند گروہوں نے اپنی مذاکرات کی پیشکش اس بہانے واپس لے لی تھی کہ امریکا نے ان کے گڑھ وزیرستان میں ڈرون حملہ کردیاتھا۔ جس میں شریعت کے حامی کچھ اعلیٰ سطح مجاہدین مارے گئے تھے۔ اب ان مجاہدین کی طرف سے ایک بار پھر ہماری محترم وسیع القلب حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے اور دو مذہبی رہنمائوں فضل الرحمن اور منور حسن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پچھلی بار مجاہدین نے بھی لوگوں پر اعتماد کا اظہار کیا تھا ان میں نواز شریف بھی شامل تھے اس بار مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کرنے والوں نے نواز شریف کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ''فی الوقت'' انھیں مذاکراتی ٹیم سے الگ کردیاہے۔
ہماری ایک مذہبی جماعت کے محترم امیر منور حسن نے فرمایا ہے کہ حکومت کو سنجیدگی سے مذاکرات کی اس پیشکش پر غور کرنا چاہیے اور اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ ''پر امن مجاہدین'' نے رمضان کے متبرک مہینے میں، جس مہینے کے احترام میں مسلمانوں کے خون بہانے کو حرام قرار دیاگیاہے۔ کوئٹہ، کراچی اور پختونخوا میں نمازیوں اور روزہ داروں کا اتنا خون، اتنی بے دردی سے بہایا ہے کہ ہماری مذاکرات کی حامی حکومت کے وزیر داخلہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اب جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور ہم یہ جنگ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے جیت کر دکھادیںگے۔ وزیر داخلہ سمیت مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاس اب مذاکرات میں شامل ہونے کا شاید کوئی جواز باقی نہیں رہا اس لیے سوائے دو تین مذہبی جماعتوں کے ملک کی باقی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی حمایت کررہی ہیں۔
ہماری ایک سیاسی جماعت متحدہ کے قائد نے بجا طورپر یہ مطالبہ کیا ہے کہ یا تو حکومت ایک قومی پالیسی بناکر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کرے اگر وہ ایسا نہیں کرسکتی تو پھر حکومت اور اقتدار دہشت گردوں کے حوالے کردے۔ ''تاکہ بے گناہوں کا قتل عام بند ہوسکے''جہاں تک پہلے مطالبے کا تعلق ہے کہ ''حکومت ایک جامع قومی پالیسی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کرے یا پھر حکومت دہشت گردوں کے حوالے کردے'' آج کے بد ترین حالات کی روشنی میں ایک منطقی مطالبہ ہے لیکن یہ امید کرنا کہ حکومت دہشت گردوں کے حوالے کرنے سے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہنا بند ہوجائے گا ایک ایسی خوش فہمی ہے جس کا شکار دہشت گردوں کے فلسفے سے آگہی رکھنے والے ہرگز نہیں ہوسکتے ۔
ویسے تو سارا ملک ہی دہشت گردوں کے ہاتھ میں چلاگیاہے وہ جہاں چاہیں، جن کا چاہیں اور جب چاہیں قتل عام کرسکتے ہیں اورکررہے ہیں لیکن عید سے پہلے اور عید کے دوسرے تیسرے دن ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں دہشت گردوں کی آمد اور دہشت گردی کی مبینہ منصوبہ بندی سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا یہ بریگیڈ ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس کے اردگرد منڈلارہاہے اور کسی دن کسی ہفتے یہ بریگیڈ ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس کی طرف مارچ کرسکتاہے اور اس قسم کے کسی مارچ کی کامیابی کے امکانات کو اس لیے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اب تک دہشت گرد جو کامیاب حملے کرتے رہے ہیں ان میں کامیابی انھیں اس لیے حاصل ہوئی ہے کہ یہ حملے خواہ وہ کوئٹہ میں کیے گئے ہوں یا کراچی میں یا پختونخوا میں بڑے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے ایک ایک منٹ کے حساب کتاب سے کیے گئے ہیں اور حکومت کی خواہ وہ مرکزی ہو یا صوبائی ناکامی کی وجہ یہ رہی ہے کہ منظم اور منصوبہ بند دہشت گردی کا مقابلہ انتہائی غیر منظم اور غیر منصوبہ بندی کے ساتھ کیاگیا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ ناکامی اور ذمے داری خفیہ ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے جنھیں اسلام آباد جیسے حساس ترین شہر میں دہشت گردوں کی آمد اور دہشت گردوں کی منصوبہ بندیوں کا علم ہی نہیں ہوتا، دہشت گرد آزادی کے ساتھ بلا خوف وخطر اپنے منصوبوں پر کامیابی سے عمل کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایک ایسا ایٹمی ملک جس کے پاس دنیا کی بہترین تربیت یافتہ 7-6لاکھ فوج جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہو اتنی ہی تعداد میں دوسری سیکیورٹی فورسز کی تربیت یافتہ نفری موجود ہو اور دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ کارکردگی کے حوالے سے مشہور خفیہ ایجنسیاں موجود ہوں چند دہشت گرد گروہوں کے سامنے اس طرح بے بس کیوں ہوگیاہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی بھی افغانستان میں دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہوگئے ہیں لیکن اس بے بسی کی بڑی وجہ جہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے وہیں اس کی دوسری وجوہات افغانستان کی پہاڑی سرزمین اور افغان عوام کی حمایت سے محرومی ہے۔ ہزاروں میل دور سے آنے والی افواج کو نہ افغانستان جیسے پہاڑی ملک میں جنگ لڑنے کا تجربہ ہے نہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے اس کے برخلاف پاکستان میں دہشت گرد جو جنگ لڑرہے ہیں وہ علاقے نہ پہاڑی ہیں نہ انھیں عوام کی حمایت حاصل ہے پھر ان شہروں، بازاروں، گلیوں، مسجدوں، امام بارگاہوں میں لڑی جانے والی اس جنگ میں دہشت گرد کیوں کامیابی پر کامیابی حاصل کررہے ہیں؟
اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ نہ ہماری پچھلی حکومت نے اس جنگ کے خلاف کوئی متفقہ قومی پالیسی بنائی نہ ایسی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی جو اس قسم کی منفرد جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہوتی ہے اور بد قسمتی سے موجودہ نئی منتخب حکومت کا حال بھی پچھلی حکومت کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی سے مختلف نہیں۔ نئی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہورہاہے اس عرصے میں دہشت گردی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اس کے خلاف اقدامات ابھی تک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، اس کی ترجیح عوام دو طریقوں سے کررہے ہیں، اول یہ کہ حکومت اس حوالے سے مکمل طورپر نا اہل ہے یا پھر دہشت گردوں کے نظریات سے اتفاق کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومتوں کا ہر اہم فرد اور اپوزیشن کا ہر رہنما دہشت گردی کے خلاف ایک قومی پالیسی کی تشکیل اور سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور تو دے رہا ہے لیکن عوام سوال کررہے ہیں کہ یہ نیک کام کون کرے گا اور یہ نیک کام کرنے کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ خیبر سے کوئٹہ اور کراچی تک عوام اس عفریت کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں جنگ لڑانے والا کوئی جرنیل، کوئی سیاسی رہنما دور دور تک نظر نہیں آتا۔
خیبر سے کراچی تک ہر روز بے گناہ لوگ دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں بد ترین موت کا شکار ہورہے ہیں، گھر گھر، گلی گلی، محلہ محلہ، بستی بسی، شہر شہر لاشیں اٹھ رہی ہیں، نماز جنازہ پڑھائی جارہی ہے، پسماندگان کی گریہ وزاری سے آسمان کا سینہ پھٹ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں، دھرنے دیے جارہے ہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے، کبھی وہ ڈرون حملوں کو بند کرانے کی شرط عائد کرکے دہشت گردوں کی بالواسطہ حمایت کرتے نظر آتے ہیں کبھی وہ علیحدگی میں بند کمرے میں وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں اس ساری بے اعتناعی اور مجرمانہ کردار کی وجہ یہ ہے کہ اب کہاں کتنے کتنے بے گناہ انسان مارے جارہے ہیں، ان کے لواحقین پر کیا گزررہی ہے ملک بھر کے عوام کس خوف ودہشت میں مبتلا ہیں کسی کو پروا نہیں۔
دہشت گردوں کی مذاکرات کی پیشکش سے ''فائدہ اٹھانے'' کا مشورہ دینے والے مدبرین سے عوام صرف ایک چھوٹا سا سوال کررہے ہیں کہ ان تاریخی مذاکرات کا ''ایجنڈا'' کیا ہوگا، عموماً متحارب فریقوں کے درمیان جب مذاکرات ہوتے ہیں تو اس کی شرط اول جنگ بندی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ جنگ کا دوسرا فریق جنگ میں شامل ہی نہیں یا تو وہ اپنا دفاع کررہاہے یا خاموشی سے جان دے رہا ہے میں نے جنگل کی کہانی اور شیر اور لومڑی کے درمیان مذاکرات کا آخری حصہ روک رکھا ہے میں آج وہ دلچسپ عقل آموز حصہ آج کے کالم میں شامل کرنا چاہتاتھا لیکن امن پسندوں کی طرف سے مذاکرات کی نئی پیشکش اس سے فائدہ اٹھانے کے مشوروں اور حکومت کا اس حوالے سے موقف آن تک میں نے کہانی کا آخری حصہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قارئین تھوڑا سا اور انتظار کیجیے اور اسی فراخدلانہ مذاکراتی پیشکش کے نتیجے کا انتظار کیجیے! اگرچہ یہ انتظار بڑا جان لیوا ہے۔